شیموگہ : مسلم تعلیمی اداروں کی فلاح و بہبودی اور طلباء کی ترقی مسلم ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشن فیڈریشن( میف ) کا مقصد ہے ، اس کام کو گذشتہ 20 سالوں سے انجام دیا جارہاہے اب اس کام کو پوری ریاست میں منظم طریقے سے انجام دینے کے لئے پہل کی گئی ہے۔ اس بات کااظہار مسلم انسٹیٹیوشن فیڈریشن کے ریاستی نائب صدر موصبّا نے کیاہے ۔ انہوںنے آج شیموگہ میں اس فیڈریشن کی شاخ کاافتتاح کرتے ہوئے کہا کہ اس فیڈریشن کامقصد طلباء ، اساتذہ اور تعلیمی اداروں کی ترقی ہے ، اسی وجہ سے ہم نے گذشتہ کئی سالوں سے پرائیویٹ اسکول کے اساتذہ اور بچوں کے لئے مسلسل تربیتی کارگاہوں کا انعقاد کیاہے ، ان کارگاہوں میں تربیت پانے کی وجہ سے تعلیمی میعار میں بہتری آئی ہے ۔ فیڈریشن نے سائوتھ کینرا، چکمگلور ، شیموگہ اور ہاسن میں اپنی شاخیں قائم کی ہیں، آنے والے دنوں میں مزید اضلاع کو اس میں شامل کرینگے تاکہ ایک مضبوط تنظیم ریاست کے تمام نجی اسکولوں کی نمائندگی کرسکیں گے ۔ دور حاضر میں ہمارے تعلیمی ادارے دوسرے مذاہب کے تعلیمی اداروں کا مقابلہ کرنے میں کامیاب ہوسکیں اس کے لئے ہماری کوششیں جاری ہیں ۔ ہم اخلاق، اقدار ، تعلیم اور روزگار میں مسلمانوں کی نمائند گی کو بڑھانا چاہ رہے ہیں اس کے لئے ایک وسیع منصوبہ بنایا گیا ہے ۔ اس موقع پر مہمان خصوصی یم جی گروپس کے یم ڈی محمد ابراہیم نے بات کرتے ہوئے کہا کہ آج ہم ایک ایسے کردار کی بات کر رہے ہیں، جس کے بغیر نہ معاشرہ پروان چڑھ سکتا ہے اور نہ ہی نسلیں سنور سکتی ہیں وہ ہےاستاد۔ہم سب جانتے ہیں کہ والدین بچوں کی پہلی درسگاہ ہیں، لیکن یاد رکھئے، والدین کے بعد اگر کوئی کردار سب سے زیادہ اثر انداز ہوتا ہے تو وہ استاد کا ہے۔ ایک ایسا استاد جو نہ صرف علم دیتا ہے، بلکہ کردار بھی بناتا ہے، سوچ بھی جگاتا ہے، اور مستقبل کی سمت بھی دکھاتا ہے۔لیکن افسوس، آج کا دور دوغلے پن سے بھرا ہوا ہے۔ قول و فعل میں تضاد ہماری سب سے بڑی کمزوری بن چکا ہے۔ اور یہی وہ ناسور ہے جو قوموں کو اندر سے کھوکھلا کرتا ہے۔ جو قومیں اخلاص سے محروم ہو جائیں، وہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتیں۔ہم جس محبت اور خلوص سے اپنے بچوں کو سکھاتے ہیں، کیا اسی خلوص سے ہم معاشرے کو کچھ سکھا رہے ہیں؟ کیا ہم اپنی ذاتی زندگی سے آگے بڑھ کر، اجتماعی بہتری کے لیے بھی کچھ کر رہے ہیں؟ اگر نہیں، تو ہمیں رک کر سوچنے کی ضرورت ہے، اور عمل کی طرف بڑھنے کی ہمت پیدا کرنی ہے۔آج ایک اور سنجیدہ مسئلہ ہمارے سامنے ہے۔ ہم اکثر صرف بچیوں کی تعلیم پر زور دیتے ہیں، جو بلاشبہ بہت اہم ہے۔ لیکن ہم بھول رہے ہیں کہ آنے والے کل میں ان بچیوں کے لیے ہم کیسا معاشرہ چھوڑ رہے ہیں؟ اگر ہم نے لڑکوں کی تربیت اور تعلیم پر بھی اتنی ہی سنجیدگی سے کام نہ کیا، تو کل کو یہ بچیاں اچھے رفیقِ حیات سے محروم ہوں گی ۔آج مردوں کی ایک بڑی تعداد پسماندگی کا شکار ہے — تعلیم سے دور، تربیت سے خالی، اور مقصد سے محروم۔ ہمیں توازن پیدا کرنا ہوگا۔ جتنی محنت ہم بچیوں پر کر رہے ہیں، اتنی ہی توجہ ہمیں لڑکوں پر بھی دینی ہوگی۔ ہمیں ایسی نسل تیار کرنی ہے جو کردار، علم اور خلوص کے پیکر ہوں۔معاشرے کی فلاح و بہبود کسی ایک فرد کی نہیں، ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ اور اس ذمہ داری کی بنیاد استاد ہے۔ ایک ایسا استاد جس کا اخلاق اعلیٰ ہو، علم گہرا ہو، اور نیت خالص ہو۔اس موقع میف کے ضلعی سکریٹر ی سید نوراللہ نے بھی تعلیم کی اہمیت پر بات کی۔ اسٹیج پر میف کے ریاستی جنرل سکریٹری محمد ریاض ، میف کے نائب صدر کے اے مصطفیٰ ، سکریٹر ی محمد شارق ، شیموگہ ضلع کے اعزازی صدر سید نورالحق ، ضلعی صدر پرویز احمد ، مدثر احمد وغیرہ موجود تھے ۔ قرات محمد ادریس ،استقبال اور شکریہ محمدالیاس شیخ نے اداکیا۔ریسورس پرسن ، ڈاکٹر محمد قاضی اور راجندر بھٹ نے 350 سے زائد پرائیویٹ اسکول کے ٹیچر س کی رہنمائی کی ۔
