از:۔آفتاب عالم ؔ شاہ نوری ۔بلگام کرناٹک۔8105493349

شیر کی ایک دن کی زندگی، گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے۔ یہ تاریخی جملہ اسی نڈر بہادر سپہ سالار ٹیپو سلطان شہید رحمۃ اللہ علیہ کا ہے جسے سنتے سنتے ملک و ملت کی کئی نسلیں جوان ہو گئیں اور آج بھی اس جملے کو سنتے ہی دلوں میں جوش اور ولولہ پیدا ہوتا ہے ۔ مگر افسوس موجودہ دور میں ٹیپو سلطان شہید رحمۃ اللہ علیہ کا صرف یہی ایک جملہ لوگوں کو یاد رہا ہے ان کے کارناموں کو اہلِ وطن آہستہ آہستہ فراموش کرتے جا رہے ہیں ۔ ٹیپو سلطان 20 نومبر، 1750ء (بمطابق جمعہ 20 ذوالحجہ، 1163ھ) کو دیوانہالی میں پیدا ہوئے۔ٹیپو سلطان کا پورا نام فتح علی ٹیپو تھا۔ موجودہ دور میں یہ بنگلور دیہی ضلع کا مقام ہے جو بنگلور شہر کے 33 کلومیٹر (21 میل) شمال میں واقع ہے۔حیدر علی نے نرینہ اولاد کے آرزو میں آرکاٹ کے مشہور بزرگ ٹیپو مستان کی مزار پر دعا مانگی تھی اسی لیے بیٹے کا نام انہی بزرگ کے نام پر ٹیپو سلطان رکھا گیا ۔ اپنے دادا فتح محمد نام کی مناسبت سے فتح علی بھی کہا جاتا تھا۔ حیدر علی نے ٹیپو سلطان کی تعلیم پر خاص توجہ دی اور فوج اور سیاسی امور میں اسے نوعمری میں ہی شامل کیا۔ 17 سال کی عمر میں ٹیپو سلطان کو اہم سفارتی اور فوجی امور پر آزادانہ اختیار دے دیا۔ اسے اپنے والد حیدر علی جو جنوبی ہند کے سب سے طاقتور حکمران کے طور پر ابھر کر سامنے آئے ۔ تخت نشینی کے بعد ٹیپو سلطان نے ہندو مسلم بھائی چارگی اور اتحاد کا ایسا نمونہ پیش کیا جسے عام طور پر جاتا ہے ۔ ٹیپو سلطان نے قابلیت و اہلیت کی بنیاد پر عہدے اور مناصب عطا کیے۔ ان کی فوج اور انتظامیہ میں متعدد ہندو افسران کلیدی ذمہ داریاں سنبھالے ہوئے تھے۔ٹیپو سلطان نے میر آصف کے اہم منصب پر پورنیا کو فائز کیا، کرشن راؤ کو افسرِ خزانہ بنایا، جبکہ شمیا آینگار ڈاک اور پولیس کے وزیر کے طور پر خدمات انجام دیتے تھے۔ ان کے بھائی نرسنگ راؤ سرنگا پٹنم میں متعدد اہم عہدوں پر فائز رہے۔ سری نواس راؤ اپا جی رام سلطان کے معتمدِ خاص تھے اور انہیں مختلف سفارتی مشنوں پر بھیجا جاتا تھا۔مولچند اور سوجان رائے مغل دربار میں سلطان کے وکیل تھے۔ نائک راؤ اور نائک سنگانا پر بھی سلطان کو حد درجہ اعتماد تھا۔ سلطان کا پیشکارِ خاص، منشی نرسیہ، اور کئی دوسرے انتظامی افسران ہندو برادری سے تعلق رکھتے تھے۔ ایک برہمن کو کورگ کا فوجدار مقرر کیا گیا، ایک کو مالابار کے جنگل کاٹنے کا بلا شرکتِ غیرے ٹھیکہ دیا گیا، اور ایک دوسرے برہمن کو کوئم بٹور کا آصف مقرر کیا گیا۔
ٹیپو سلطان نے نہ صرف ہندو افسران کو ذمہ داریاں دیں بلکہ مملکت کے کئی مندروں کی سرپرستی بھی کی۔ سرنگیری کا مندر اس حوالے سے خاص اہمیت رکھتا ہے۔ محب الحسن کی کتاب تاریخِ ٹیپو سلطان کے مطابق، سلطان نے متعدد مندروں کو عطیات اور قیمتی اشیاء پیش کیں۔
تعلقہ ننجن گوڈ کے گاؤں کلالے کے مندر میں نقرئی ظروف کے چار پیالے، ایک پلیٹ اور اگالدان موجود ہیں جن پر کندہ کتبوں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ برتن سلطان نے نذر کیے تھے۔ میل کوٹ کے نارائن سوامی مندر میں جواہرات اور چاندی کے برتن آج بھی محفوظ ہیں جن پر کندہ عبارتیں سلطان کی پیشکش کا ثبوت دیتی ہیں۔ 1785ء میں اسی مندر کو بارہ ہاتھی اور 1786ء میں ایک نقارہ پیش کیا گیا۔ ننجن گوڑ کے سری کنیشور مندر کو سلطان نے ایک مرصع پیالا عطا کیا جس کے نچلے حصے میں پانچ قیمتی جواہرات جڑے تھے۔
اسی طرح سری رنگا پٹنم کے رنگ مندر میں چاندی کا کافور دان اور دیگر قیمتی اشیاء موجود ہیں جن کی کندہ عبارت سے واضح ہوتا ہے کہ یہ ٹیپو سلطان نے بطور تحفہ پیش کی تھیں۔
یوں ٹیپو سلطان نے اپنی حکمرانی میں نہ صرف مذہبی رواداری کی روشن مثال قائم کی بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے ہندو مسلم اتحاد کو فروغ دیا۔
شاعر مشرق علامہ اقبال کو ٹیپو سلطان شہید سے خصوصی محبت تھی۔ 1929ء میں آپ نے شہید سلطان کے مزار پر حاضری دی اور تین گھنٹے بعد باہر نکلے تو شدّت جذبات سے آنکھیں سرخ تھیں۔ انھوں نے فرمایا
’’ٹیپو کی عظمت کو تاریخ کبھی فراموش نہ کرسکے گی وہ مذہب ملّت اور آزادی کے لیے آخری دم تک لڑتا رہا یہاں تک کہ اس مقصد کی راہ میں شہید ہو گیا۔‘‘
علامہ اقبال کی ایک نظم ٹیپو سلطان کی تعریف میں
علامہ اقبال نے ضرب کلیم میں سلطان ٹیپو کی وصیت کے عنوان سے مندرجہ ذیل نظم لکھی ہے۔
تو رہ نوردِ شوق ہے، منزل نہ کر قبول
لیلی بھی ہم نشیں ہو تو محمل نہ کر قبول
اے جوئے آب بڑھ کے ہو دریائے تند و تیز
ساحل تجھے عطا ہو تو ساحل نہ کر قبول
کھویا نہ جا صنم کدہ کائنات میں
محفل گداز گرمی محفل نہ کر قبول
صبح ازل یہ مجھ سے کہا جبرئل نے
جو عقل کا غلام ہو وہ دل نہ کر قبول
باطل دوئی پسند ہے حق لا شریک ہے
شرکت میانہ حق و باطل نہ کر قبول
میسور کی جنگوں میں حیدر علی اور ٹیپو سلطان کا رول
میسور کی پہلی جنگ
(1767ء تا 1769ء) وجہ حیدر علی نے دوبارہ کرناٹک اور نظام کے علاقوں پر قبضہ شروع کر دیا۔ حیدر علی کی بڑھتی ہوئی طاقت کو دیکھ کر نظام مرہٹے اور انگریز بہت ڈر گئے۔ چنانچہ ان تینوں نے مل کر حیدر علی کے خلاف اعلانِ جنگ کر دیا۔
واقعات حیدر علی سے بڑی چالاکی سے مرہٹوں کو اپنی طرف کرلیا۔ انگریزی فوج کے نظام کے ہمراہ میسور میں داخل ہوئی اور بنگلور فتح کر لیا۔ اب حیدر علی نے نظام کو لالچ دے کر اپنے ساتھ ملا لیا، اس لئے صرف انگریزوں کا اکیلا لڑنا پڑا۔ 1767 سے 1769 تک یہ دونوں آپس میں لڑتے رہے یہ میسور کی پہلی لڑائی کہلاتی ہے۔
کرنل سمتھ نے بنگلور سے ہٹ مدراس کا رخ کیا۔ راستے میں حیدر علی کے ستر ہزار فوج سے اس کا پیچھا کیا۔ جچنگامہ اور ٹرنومی کے مقامات پر مقابلہ ہوا، جس میں حیدر علی کو شکست ہوئی۔ بعد ازاں نظام، حیدر علی کو چھوڑ کر انگریزوں کے ساتھ مل گیا۔
حیدر علی نے اکیلے ہی موقع پا کر مدراس پر حملہ کر دیا اور مدراس گورنمنٹ کو اپنی پیش کردہ شرائط منظور کرنے کے لیے مجبور کیا۔
نتیجہ صلح نامہ مدراس کی رو سے قرار پایا کہ فریقین فتح کردہ علاقے واپس کر دیں اور لڑائی کے وقت ایک دوسرے کی مدد کریں ۔
میسور کی دوسری جنگ 1780 سے 1784
وجوہات میسور کی پہلی لڑائی کے بعد عہد نامہ کی پرواہ نہ کرتے ہوئے انگریزوں نے حیدر علی کی مرہٹوں کے خلاف مدد نہ کی اس کے لیے حیدر علی دل میں انگریزوں سے بدلہ لینا چاہتا تھا ۔ 1779 میں انگریزوں نے اور فرانسیسوں کے درمیان امریکہ میں جنگ چھڑ گئی انگریزوں نے فرانسیسی مقبوضات ماہی اور پانڈے چیری پر قبضہ کر لیا چونکہ حیدر علی ماہی کو اپنی مملکت کا حصہ خیال کرتا تھا اس لیے اس نے انگریزوں سے ہی خالی کرنے کا مطالبہ کیا اور انکار پر جنگ چھڑ گئی ۔
واقعات مرہٹوں اور فرانسیسیوں نے بھی حیدر علی کا ساتھ دینے کا وعدہ کیا اس وقت کرناٹک پر انگریزوں کا دوست محمد علی حکمران تھا حیدر علی نے سب سے پہلے 1780 سن عیسوی میں ایک لاکھ فوج سے کرناٹک میں تباہی مچائی اور میجر منرو اور کرنل بیلی کو پولی نور کے مقام پر شکست دی گورنر جنرل نے اب سر آئیر کوٹ فاتح ونداوش کو حیدر علی کے مقابلے کے لیے روانہ کیا جس نے 1781 سن عیسوی میں حیدر علی کو پورٹو نووہ۔ پولی نور اور سولن گڑھ کے مقامات پر شکستیں دی اب مرہٹوں نے حیدر علی کا ساتھ چھوڑ دیا لیکن وہ بدستور لڑتا رہا ابھی لڑائی جاری تھی کہ سن عیسوی 1782 میں اس کی موت ہو گئی اس کے بعد ان کے بیٹے ٹیپو سلطان نے لڑائی جاری رکھی اور کئی مقامات پر انگریزوں کو شکست دی آخر عہد نامہ بنگلور کے رو سے فریقین میں 1784 میں صلح ہو گئی جس کے نتیجہ میں عہد نامہ بنگلور کے رو سے ایک دوسرے کے علاقے اور جنگی قیدی واپس کر دیے گئے ۔
میسور کی تیسری جنگ 1790 سے 1792
وجہ صلح نامہ بنگلور کے بعد آٹھ سال تک ٹیپو سلطان امن سے حکومت کرتے رہے اس عرصے میں انہوں نے اپنی فوجی طاقت کو بہت بڑھا لیا اور انگریزوں کے مددگار راجہ ٹراونکر پر 1789 میں حملہ کر دیا جس پر لارڈ کارنوالس نے ٹیپو سلطان کے خلاف اعلان جنگ کر دیا ۔
لارڈ کارنیوالس نے نظام اور مرہٹوں کو اپنے ساتھ ملا لیا سلطان ٹیپو نے آپے سے باہر ہو کر کرناٹک کو تباہ کرنا شروع کر دیا لارڈ کارنیوالس بذات خود ایک بڑی فوج لے کر کلکتہ سے چل کر مدراس پہنچا اس نے سن عیسوی 1790 میں ٹیپو سلطان کے علاقے پر حملہ کر کے محاصرہ کر لیا ٹیپو مجبورا صلح کرنی پڑی. عہد نامہ سری رنگا پٹنم سے میسور کی تیسری لڑائی کا خاتمہ ہوا اس کے شرائط حسب ذیل تھیں.
سلطان ٹیپو نے اپنی آدھی سلطنت اور تین کروڑ روپیہ بطورِ تاوان جنگ انگریزوں کو دینا منظور کیا ۔ تین کروڑ روپیہ میں سے نص روپیہ تو اسی وقت ادا کیا گیا بقیہ رقم کے لیے ٹیپو سلطان نے اپنے دو بیٹے یرغمال کے طور پر لاڑ کارنیوالس کے حوالے کیے ۔ مفتوحہ علاقہ میں شمالی مشرق حصہ نظام کو دیا گیا مغربی مرہٹوں کو اور ڈنڈی گلی مالابار اور بارا محل کے علاقے انگریزوں کو ملے ۔
میسور کی چوتھی جنگ 1798 سے 1799
اسباب اس لڑائی میں ٹیپو کے خلاف دو فوجیں بھیجی گئی ایک جنرل ہیرس کے ماتحت مدراس سے اور دوسری جنرل سٹوارٹ کے ماتحت بمبئی سے میسور کی طرف روانہ ہوئی نظام کی بیس ہزار فوج گورنر جنرل کے بھائی آرتھر ویلزلی جو بعد میں ڈیوک آف ویلنگٹن کے نام سے مشہور ہوا کہ ماتحت انگریزوں کے ساتھ تھی ٹیپو کی خواہش تھی کہ انگریزی فوجیں آپس میں نہ مل سکیں تاکہ وہ ان کو علیحدہ علیحدہ پسپا کرنے میں کامیاب ہو سکے مگر ان کا یہ خیال غلط نکلا ۔ سب سے پہلے بمبئی والی فوج نے ٹیپو کو سداسیر کے مقام پر شکست دی اور پھر جنرل سیرس نے ملاولی کے مقام پر شکست دی اب انہیں مجبور ہو کر سرنگا پٹنم کے قلعے میں پناہ لینی پڑی جنرل ہیرس نے قلعہ کا محاصرہ کر لیا اور گولا باری سے قلعے کے دیوار میں سراخ کر دیا ٹیپو سوراخ میں کھڑے ہو کر اپنے سپاہیوں کے ساتھ لڑتے ہوئے لڑائی میں شہید ہو گئے ۔
نتائج ٹیپو سلطان کے بیٹوں کو سلطنت سے محروم کر دیا گیا اور انہیں معقول پینشن دے کر ویلور بھیج دیا گیا ۔ میسور کی گدی پر گزشتہ حاکم کے خاندان کے پانچ سالہ راجکمار کرشن کو بٹھایا گیا ۔ ۔ کنارا سری رنگا پٹنم اور کوئمبٹور کے علاقے پر انگریزوں نے قبضہ کر لیا اور کچھ علاقہ نظام حیدراباد بھی مل گیا ۔
اس مضمون کو اے پی جی عبدالکلام کی کتاب پرواز کے اس اقتباس سے مکمل کرتا ہوں ۔ اے پی جے عبدالکلام اپنی کتاب پرواز میں لکھتے ہیں میں Wallops flight facility گیا جو ایسٹ کوسٹ کے ویلس پر آئی لینڈ ورجینیا میں واقع ہے۔ یہ جگہ NASA کے ساؤنڈنگ راکٹ پروگرام کا اڈا کرتی ہے۔ میں نے یہاں ایک پینٹنگ دیکھی جو استقبالی برآمدے میں نمایاں طور پر آویزاں کی گئی تھی۔ اس میں ایک جنگی منظر کی تصویر کشی کی گئی تھی، جس کے پس منظر میں کچھ راکٹ پرواز کر رہے تھے۔ Flight Facility میں اس موضوع پر کسی پینٹنگ کا ہونا ایک معمولی بات ہے۔ لیکن اس تصویر نے میری توجہ اس لیے اپنی طرف مبذول کر لی کہ راکٹ اڑان کی جگہ پر کوئی فوجی نہیں تھے بلکہ وہ گہرے رنگ کے تھے جن سے خد و خال ان لوگوں جیسے تھے جو جنوبی ایشیا میں پائے جاتے ہیں۔ ایک دن میرا تجسس مجھ سر پر غالب آگیا
اور اس نے مجھے پھر سے اس پینٹنگ کی طرف متوجہ کر دیا۔ یہ پینٹنگ انگریزوں سے برسر پیکار ٹیپو سلطان کی فوج کی ثابت ہوئی۔ اس میں ایک حقیقت کی تصویر کی گئی تھی جو ٹیپو سلطان کے اپنے ملک میں بھلا دی گئی۔ مگر سیارے کی دوسری طرف اس یادگار بنا دیا گیا ہے۔۔ یہ دیکھ کر مجھے بہت خوشی ہوئی کہ NASA نے ایک ہندوستانی کو راکٹ کی جنگ کا ہیرو بنا کر عزت بخشی۔
