از:۔پروفیسر مشتاق احمد یس ملا،ہبلی۔ 9902672038

دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ انسانی زندگی کے ہر دور میں ترقی و خوشحالی کے پیچھے سائنس اور ٹیکنالوجی کی جستجو کارفرما رہی ہے۔ آج کی جدید دنیا، جہاں ہم آسان ترین سفری ذرائع، بجلی کی روشنی، اونچی عمارتیں، فلک بوس پل، تیز رفتار ریل گاڑیاں، انٹرنیٹ اور اسمارٹ فون جیسی سہولتوں سے لطف اندوز ہو رہے ہیں، وہ سب انجینیئرز کی محنت، تحقیق اور تخلیقی ذہانت کا نتیجہ ہے۔ کسی بھی ملک کی ترقی اور خوشحالی کا سب سے بنیادی محرک اس کے انجینیئرز ہوتے ہیں، جو اپنے علم و ہنر سے نہ صرف موجودہ سہولتوں کو بہتر بناتے ہیں بلکہ نئی ایجادات کے ذریعے مستقبل کو بھی تابناک بناتے ہیں۔ اسی حقیقت کے اعتراف اور انجینیئرز کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے ہر سال 15 ستمبر کو بھارت میں انجینیئر ڈے منایا جاتا ہے۔ یہ دن اس عظیم ہستی کی یاد دلاتا ہے جنہوں نے اپنے علم و فن سے ملک کو ترقی کی راہوں پر گامزن کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا، اور وہ تھے سر موکش گنڈم ویشویشوریا، جنہیں بھارت رتن کے اعلیٰ ترین اعزاز سے نوازا گیا۔ ان کی خدمات نے یہ ثابت کر دیا کہ ایک باصلاحیت انجینیئر تنہا ایک خطے ہی نہیں بلکہ پورے ملک کی تقدیر بدل سکتا ہے۔
سر ایم وشویشوریا (1861–1962) ہندوستان کے عظیم انجینئر، دانشور اور ریاستی رہنما تھے۔ ان کی پیدائش 15 ستمبر 1861کو مدن حلی (موجودہ ضلع چک بالاپور) میں ہوئی۔ انہوں نے مدراس یونیورسٹی سے سائنس میں گریجویشن کیا اور بعد میں پونے انجینئرنگ کالج سے سول انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی۔ وشویشوریا نے جدید آبی نظامات، بندوں اور نہروں کی تعمیر میں نمایاں خدمات انجام دیں، خصوصاً میسور کے کرشنا راجہ ساگر ڈیم کی تعمیر ان کا بڑا کارنامہ ہے۔ وہ 1912 سے 1918 تک میسور کے دیوان رہے اور صنعت، تعلیم و معاشی ترقی میں اصلاحات کیں۔
سر ایم وشو ویشوریا نے میسور کو جدید صنعتی، تعلیمی اور تکنیکی ترقی کی راہ پر گامزن کیا۔ ان کے منصوبے، خواہ وہ ڈیم ہوں، صنعتی ادارے یا تعلیمی مراکز، آج بھی ریاست کی تشکیل و تعمیر میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کی قیادت میں تعمیر ہونے والا کے۔آر۔ایس ڈیم ایک شاندار اور مؤثر آبی ذخیرہ ہے جو زرعی ضروریات، پینے کے پانی کی فراہمی اور ہائیڈرو الیکٹرک پاور اسٹیشن کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
اسی طرح حیدرآباد میں دریا کی طغیانی سے شہر کو محفوظ بنانے کے لیے ان کے ڈیزائن کردہ کئی حفاظتی ڈھانچے تعمیر کیے گئے۔ میسور کی صنعتی ترقی میں بھی ان کا کردار کلیدی رہا۔ میسور صابن فیکٹری، بھدراوتی آئرن اینڈ اسٹیل ورکس، اسٹیٹ بینک آف میسور اور متعدد تجارتی تنظیموں کا قیام انہی کی بدولت ممکن ہوا۔
انہوں نے بنگلور پولی ٹیکنک (جو آج یس۔جے۔پولی ٹیکنک کے نام سے مشہور ہے)، یونیورسٹی آف میسور جیسے ادارے قائم کییاور انڈین انسٹیٹیوٹ آف سائنس بنگلور ادرہ کی بنیاد کو مضبوط کرنے میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ اس کے علاوہ ریلوے خطوط کی توسیع، اقتصادی ترقی اور شہری منصوبہ بندی میں بھی ان کی کوششیں ناقابلِ فراموش ہیں۔
سر ایم وشو ویشوریا نے ایک طویل زندگی پائی اور 101 برس کی عمر میں اس دارِ فانی سے رخصت ہوئے۔ ان کے انتقال سے ملک نے نہ صرف ایک عظیم انجینئر بلکہ ایک شاندار ایڈمنسٹریٹر کو کھو دیا۔ شعبۂ انجینئرنگ کی عظمت اور ترقی ان کی مخلصانہ خدمات کا مرہونِ منت ہے۔ بلاشبہ، علامہ اقبال کا یہ شعر ان کی شخصیت پر پوری طرح صادق آتا ہے
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
انجینیئر ڈے کا مقصد صرف ایک شخصیت کو یاد کرنا نہیں بلکہ یہ دن ہمیں اس سوچ اور فکر کی طرف بھی متوجہ کرتا ہے جو قوم کی تعمیر و ترقی میں انجینیئرنگ کو ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت دیتی ہے۔ یہ دن نئی نسل کو پیغام دیتا ہے کہ اگر وہ ملک کی خدمت کرنا چاہتے ہیں تو انہیں انجینیئرنگ جیسے شعبے میں مہارت حاصل کرنی ہوگی، کیونکہ آج کے دور میں ترقی کا راز سائنسی سوچ اور ٹیکنالوجیکل اختراع میں پوشیدہ ہے۔ قوم کے معمار وہی لوگ کہلائے جا سکتے ہیں جو اینٹ، پتھر اور لوہے کو ایک ڈھانچے میں ڈھال کر صرف عمارت ہی نہیں بلکہ ایک جدید اور پائیدار قوم کی بنیاد رکھتے ہیں۔
ہندوستان جیسے وسیع و عریض ملک میں انجینیئرز کا کردار مزید اہمیت اختیار کر جاتا ہے، کیونکہ یہاں کی آبادی میں تنوع بھی ہے اور چیلنجز بھی۔ اگر ہم صرف انفراسٹرکچر کی تعمیر پر نظر ڈالیں تو ہمیں اندازہ ہوگا کہ انجینیئرز نے ہماری زندگی کو کس قدر بدل دیا ہے۔ دیہات کو شہروں سے جوڑنے والی سڑکیں، میٹرو ریل کا جال، جدید ایئرپورٹس، پانی کی ضرورت پوری کرنے والے ڈیم، بجلی گھروں کے منصوبے، یہ سب انجینیئرز کی ذہانت اور عرق ریزی کی زندہ مثالیں ہیں۔ انہی کی کوششوں کی بدولت کسان اپنی پیداوار منڈی تک پہنچاتے ہیں، صنعت کار اپنا مال ایک شہر سے دوسرے شہر منتقل کرتے ہیں، اور عام شہری سفر کی سہولتوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔
ملک کی معیشت میں بھی انجینیئرز کی خدمات کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ صنعتی ترقی کے بغیر کوئی بھی ملک خوشحال نہیں ہو سکتا اور صنعتی ترقی انجینیئرنگ کے بغیر ممکن نہیں۔ اسٹیل، مشینری، آٹوموبائل، ٹیکسٹائل، آئل اینڈ گیس، اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے میدان میں انجینیئرز کی کاوشوں نے بھارت کو دنیا کی بڑی معیشتوں میں شامل کر دیا ہے۔ خاص طور پر آئی ٹی انجینیئرز نے بھارت کو عالمی سطح پر ایک منفرد شناخت عطا کی ہے، یہاں تک کہ بنگلور کو ”سیلیکان ویلی آف انڈیا” کہا جانے لگا ہے۔ یہ سب ہمارے انجینیئرز کی عالمی معیار کی مہارت اور قابلیت کی بدولت ہے۔
توانائی کا شعبہ بھی ملک کی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ ایک ایسا ملک جہاں توانائی کے وسائل کمزور ہوں، وہاں ترقی رک جاتی ہے۔ انجینیئرز نے بجلی گھروں، ڈیموں، نیوکلئیر پلانٹس، اور قابلِ تجدید توانائی کے ذرائع جیسے سولر اور ونڈ انرجی کو فروغ دے کر ملک کو توانائی کے میدان میں خودکفیل بنانے کی راہ ہموار کی ہے۔ آج بھارت دنیا کے بڑے سولر پاور پروجیکٹس میں سے کئی کا حامل ہے، جو اس بات کا غماز ہے کہ ہمارے انجینیئرز نہ صرف موجودہ دور کی ضرورتوں کو پورا کر رہے ہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی پائیدار نظام چھوڑ رہے ہیں۔
زراعت کے میدان میں بھی انجینیئرنگ کی اہمیت ناقابلِ فراموش ہے۔ بھارت کی معیشت طویل عرصے تک زراعت پر منحصر رہی ہے اور آج بھی دیہی آبادی کا بڑا حصہ کھیتی باڑی سے وابستہ ہے۔ زرعی انجینیئرز نے مشینری، ڈرپ ایریگیشن، ہائیڈروالوجی اور بایو ٹیکنالوجی کے ذریعے زراعت کو جدید خطوط پر استوار کیا۔ اس کی بدولت کسان آج کم وسائل کے باوجود زیادہ پیداوار حاصل کرنے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔ گرین ریولوشن نے ملک کو غذائی قلت سے نکالا اور اب ڈیجیٹل ایگری کلچر نئی راہوں پر ہمیں گامزن کر رہا ہے۔
ملک کی دفاعی طاقت اور سلامتی بھی انجینیئرز کی محنت اور ایجادات سے جڑی ہوئی ہے۔ جدید اسلحہ، میزائل سسٹمز، لڑاکا طیارے، بحری جہاز اور خلائی ٹیکنالوجی نے بھارت کو دنیا کی بڑی طاقتوں کی صف میں کھڑا کر دیا ہے۔ ڈی آر ڈی او اور آئی ایس آر او جیسے اداروں نے انجینیئرز کی مہارت کے سہارے نہ صرف جدید دفاعی سازوسامان تیار کیا بلکہ چندریان اور منگلیان جیسے خلائی مشنز بھی دنیا کے سامنے پیش کیے، جو ہمارے انجینیئرز کی صلاحیتوں کا ثبوت ہیں۔
یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ آج کا دور ڈیجیٹل انقلاب کا دور ہے اور اس انقلاب کے معمار بھی انجینیئرز ہیں۔ انٹرنیٹ، اسمارٹ فون، ای-گورننس، ڈیجیٹل پیمنٹس، آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور روبوٹکس نے ہماری زندگی کے ہر شعبے کو متاثر کیا ہے۔ بھارت میں آدھار سسٹم، یو پی آئی اور ڈیجیٹل انڈیا مشن انجینیئرز کی بدولت ہی ممکن ہوئے ہیں۔ ان اقدامات نے عام شہریوں کی زندگی آسان بنائی ہے اور ملک کو ایک نئی معاشی قوت میں بدلنے کی راہ ہموار کی ہے۔
ترقی کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی تحفظ بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر ترقی ماحول کی تباہی کے ساتھ ہو تو وہ دیرپا نہیں رہ سکتی۔ انجینیئرز نے ماحول دوست منصوبے، صاف توانائی، ویسٹ مینجمنٹ، اور آلودگی کے کنٹرول جیسے اقدامات کے ذریعے یہ ثابت کیا ہے کہ ترقی اور ماحول ایک ساتھ چل سکتے ہیں۔ یہی ”پائیدار ترقی” کا حقیقی مفہوم ہے جسے آج دنیا بھر میں تسلیم کیا جا رہا ہے۔
یہ بات درست ہے کہ انجینیئرز نے ملک کو ترقی کی نئی راہوں پر گامزن کیا ہے لیکن ان کے سامنے چیلنجز اب بھی کم نہیں ہیں۔ شہروں کی بے ہنگم توسیع، آلودگی، بے روزگاری اور قدرتی وسائل کی کمی جیسے مسائل کا حل بھی انہی کو نکالنا ہوگا۔ انجینیئرز کو اپنے علم و فن کو صرف ترقی کے لیے نہیں بلکہ انسانی فلاح اور سماجی انصاف کے لیے استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ انجینیئر ڈے ہمیں اس حقیقت کی یاد دہانی کراتا ہے کہ انجینیئرز ہی وہ معمار ہیں جو قوم کی بنیاد رکھتے ہیں۔ ان کے بغیر کوئی ملک خوشحال اور ترقی یافتہ نہیں ہو سکتا۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے نوجوانوں کو انجینیئرنگ کی تعلیم کی طرف راغب کریں، تحقیق و اختراع کے مواقع فراہم کریں اور انہیں عالمی معیار کے مطابق تربیت دیں تاکہ وہ آنے والے دنوں میں ملک کو ایک خوشحال، خودکفیل اور ترقی یافتہ بھارت بنانے میں کلیدی کردار ادا کر سکیں۔ یہی وہ پیغام ہے جو انجینیئر ڈے ہر سال ہمیں دیتا ہے اور جسے سمجھ کر عمل میں لانا ہی حقیقی خراجِ تحسین ہوگا۔
انجینیئرز ڈے اس بات کا متقاضی ہے کہ ہم قوم کی تعمیر میں انجینیئرز کے بنیادی کردار کو تسلیم کریں۔ یہ دن ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ ترقی یافتہ اور خوشحال بھارت کے لیے جدید ٹیکنالوجی، پائیدار ترقی اور اختراعات کتنی ناگزیر ہیں۔ انجینیئرز ڈے اس عزم کی تجدید کا موقع فراہم کرتا ہے کہ انجینیئرز اپنی مہارتوں کو صرف ترقی کے لیے نہیں بلکہ انسانی فلاح، ماحولیاتی تحفظ اور قومی خودکفالت کے لیے بروئے کار لائیں تاکہ ملک ایک مضبوط، خودمختار اور روشن مستقبل کی طرف بڑھ سکے۔
انجینیئرز ڈے صرف ایک جشن نہیں بلکہ انسانیت کے نام ایک اہم پیغام ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انجینیئرنگ کی اصل روح صرف پل، عمارتیں یا مشینیں بنانا نہیں بلکہ انسانیت کی بھلائی کے لیے علم اور ہنر کا استعمال ہے۔ ہر ایجاد اور ہر ڈیزائن میں انسان کی سہولت، حفاظت اور خوشحالی کا پہلو ہونا چاہیے۔ آج کا لمحہ فکر یہ ہے کہ ترقی کی دوڑ میں کہیں ہم اخلاقی قدروں اور انسانی ذمہ داریوں کو نہ بھول جائیں۔ انجینیئرز کا فرض ہے کہ وہ اپنے علم کو امن، انصاف اور بہتر مستقبل کی تعمیر میں لگائیں۔
