دنیاوی مفاد نے جب باپ بیٹے کے درمیان نفرت کی دیوار کھڑی کردی!فیصلے کی دہلیز

مضامین

از:۔مفتی اشفاق قاضی(صدر مفتی جامع مسجد بمبئی و فیملی فرسٹ گائیڈنس سینٹر)

دنیا میں بالعموم ساری انسانیت میں ہر فرد بشر کے لئے سب سے بڑی دولت اولاد ہے اور اولاد کے لیے سب سے بڑی نعمت والدین، لیکن جب مال و دولت کی حرص و طمع انسان کا شیوہ ہوجائے اور وہ اس مادی دنیا کو ہی سب کچھ سمجھنے لگ جائے تو یہی انمول اور قیمتی رشتے بے حیثیت اور بے قیمت ہوکر کمزور ہوتے چلے جاتے ہیں اور آہستہ آہستہ خاندان میں انتشار اور دراڑ کا سبب بنتے ہیں۔
باپ بیٹے کے درمیان حرص مال سے پیدا ہونے والی دوری کا ایک معاملہ ہمارے پاس رفیق محترم عبدالواحد کے توسط سے آیا۔ 17 اگست 2022 کو ستر سالہ بزرگ عبدالرحمن سرور احمد صدیقی(فرضی نام) آنکھوں پر بزرگی کا اثر، بال بالکل سفید، خمیدہ کمر اور بے چین و بے قرار طبیعت کے ساتھ پریشان حال مضطرب صورت، جامع مسجد ممبئی تشریف لائے اور اپنی گھریلو کارگزاری سنانے لگے کہ میں نے اپنے بیٹے کی تعلیم و تربیت میں کوئی کسر نہ چھوڑی، اسے قابل بنانے کے لیے اپنی زندگی کے بہترین ایام لگائے، وہ عمان میں ایک زمانے تک برسر روزگار بھی رہا، پھر انہوں نے اپنے کاروباری حالات اور بیٹے کے ساتھ اختلافات بیان کرتے ہوئے کہا کہ میں اور میرے دو بھائی عبدالرزاق اور عبدالقدوس کی ممبئی کے ایک معروف علاقے میں تین چھوٹی چھوٹی دکانیں اور ایک اسٹال تھا، یہ دکانیں 1905 سے رجسٹرڈ تھیں اور کاروبار برسوں سے کامیابی سے چلتا آ رہا ہے۔ 2006 میں بڑے بھائی عبدالرزاق کا انتقال ہوا تو مشورے سے ان کے ورثا کو ان کا حصہ دے دیا گیا۔ 2007 میں دوسرے بھائی عبدالقدوس نے درازی عمر اور دیگر مالی ضروریات کی وجہ سے دکان بیچنے کی خواہش کا اظہار کیا اور انہوں نے اپنا حصہ تقریباً 17 لاکھ 25 ہزار روپے میں فروخت کرنے پر رضامندی ظاہر کی لہٰذا میں نے اس رقم کے جمع کرنے کی کوشش شروع کی، اس میں تقریباً ساڑھے 6 لاکھ روپے خود اپنی جیب سے ادا کیے، ساڑھے 4 لاکھ روپے اہلیہ نے دیا اور قریب 7 لاکھ روپے بیٹے عبدالمطلب سے لیے اور بھائی کی دکان خرید لی اب بیٹا بار بار مجھ سے مطالبہ کرتا ہے کہ دکان کے اندر مجھے حصہ دیا جائے، دکان سے آنے والا کرایہ دیا جائے وغیرہ وغیرہ۔ کیا بیٹے کو یہ کہنے کا حق ہے؟ کیا وہ ابھی مجھ سے مطالبہ کرسکتا ہے؟ ابھی وہ مجھ سے مطالبہ کررہا ہے کہ میری میراث کا حصہ مجھے دے دیا جائے، مجھے خود کفیل بنادیا جائے، وہ ویسے بھی میرے ساتھ نہیں رہتا، اس کی رہائش بھنڈی بازار اور میرا قیام مدنپورہ میں ہے۔ والد کا دعوی تھا کہ بعد میں یہ رقم بیٹے اور اہلیہ دونوں کو واپس کر دی گئی اور اس کی رسیدیں بھی موجود ہیں، مگر بیٹے کا دعویٰ ہے کہ اس نے پیسے لگائے ہیں لہٰذا دکان میں اس کا حق ہے۔ وقت گزرتا گیا اور دکان کی قیمت بڑھتے بڑھتے ڈیڑھ کروڑ تک جا پہنچی تو بیٹے نے مطالبہ کیا کہ دکان یا تو مکمل اس کی ہو یا کم از کم اسے اپنا حصہ دے دیا جائے کہ اس دوکان کی خریداری میں میرا حصہ تقریباً 40 فیصد بنتا ہے۔
24 ستمبر کو بیٹے عبدالمطلب کو بلایا گیا۔ اس نے اپنی کارگزاری سنائی کہ 2009 میں والد، والدہ اور اس کے درمیان ایک تحریر بنی تھی جس میں حصہ طے کیا گیا تھا۔ 2017 میں والد نے کہا کہ دکان کا 33 فیصد حصہ تیری ملکیت ہوگا مگر ابھی نہیں میری وفات کے بعد، 2019 میں والد نے کہا کہ یہ گھر تیرا ہے اور دکان سے میرا تعلق ہے، مگر والد کا کہنا ہے کہ یہ بات انہوں نے غصے میں کہی تھی۔ 2020 میں اہل خانہ کی موجودگی میں ایک معاہدہ ہوا مگر والد نے بعد میں اسے بھی پھاڑ دیا اور کہا کہ میں نے دستخط نہیں کیے۔ بیٹے کا یہ بھی شکوہ تھا کہ دکانوں کے کرایے کی آمدنی سے بھی اسے کچھ نہیں ملا حالانکہ اس نے سرمایہ لگایا تھا۔ والد کا کہنا تھا کہ بیٹے اور اہلیہ دونوں کو رقم واپس کر دی گئی، دکان مکمل طور پر ان کی ہے اور وہ صرف اتنی پیشکش کر سکتے ہیں کہ جتنی رقم بیٹے نے لگائی تھی وہ واپس لے سکتا ہے۔
10 نومبر 2022 کو باپ اور بیٹے دونوں کو ایک ساتھ بلایا گیا اور دونوں کی کاؤنسلینگ کی گئی، بیٹے کو بتایا گیا کہ والد کا مقام کیا ہے اور اولاد پر والد کے کیا حقوق ہیں؟ اسے حدیث "انت و مالک لابیک” سنائی گئی اور بتایا گیا کہ اولاد کا مال بھی والد کی ملکیت ہے نیز والد کو نصیحت کی گئی کہ اولاد پر رعب نہ جمائیں بلکہ انصاف کے ساتھ فیصلہ کریں اور بیٹے کے ساتھ اگر کوئی کاروباری معاہدہ کیا گیا ہے تو اس کو پورا کرنا بھی لازم و ضروری ہے تاکہ بعد میں جھگڑا نہ بڑھے اسی طرح بیٹے کو سمجھایا گیا کہ والد کی زندگی میں میراث کا مطالبہ شرعاً درست نہیں، والد کی خوشنودی ہی اصل دولت ہے۔
12 نومبر کو دوبارہ مجلس ہوئی، دونوں کو کہا گیا کہ بیٹے کو جتنا حق بنتا ہے والد وضاحت کے ساتھ طے کر دیں اور بیٹا بھی اسے اللہ کی نعمت سمجھ کر قبول کرے۔ تین میٹنگوں کے بعد الحمدللہ صلح ہو گئی اور معاملہ خوش اسلوبی سے طے پا گیا۔
یہ واقعہ اس بات کا کھلا سبق ہے کہ مال کی حرص رشتوں کو کمزور کر دیتی ہے۔ والدین کو صاف گوئی اور انصاف اختیار کرنا چاہیے اور اولاد کو والدین کے مقام کو سمجھ کر صبر و رضا کا دامن تھامنا چاہیے۔ فیملی فرسٹ گائیڈنس سینٹر میں ایسے ہی خانگی و عائلی مسائل کو قرآن و حدیث کی روشنی میں حل کیا جاتا ہے، اختلافات کو دور کر کے خاندانوں میں محبت اور اتفاق پیدا کیا جاتا ہے۔ اگر آپ کے اطراف بھی اس طرح کے مسائل ہوں تو ہم سے رابطہ کریں، ان شاء اللہ صلح و صفائی کے ذریعے حل کی کوشش کی جائے گی۔
از۔مفتی اشفاق قاضی(صدر مفتی جامع مسجد بمبئی و فیملی فرسٹ گائیڈنس سینٹر)