شہرِ پُرنور بیجاپور(وجے پور) کرناٹک کا یادگار سفر

مضامین

از:۔آفتاب عالمؔ شاہ نوری۔کروشی، بلگام، کرناٹک۔8105493349


شہرِ بیجاپور، جس کا نیا نام اب وجے پور رکھا گیا ہے، ریاستِ کرناٹک کی مشہور سلطنت عادل شاہی خاندان نے سن 1490 سے 1686 تک بڑے ہی آن بان اور شان کے ساتھ حکومت کی ہے۔ اس سلطنت میں کل نو بادشاہ گزرے ہیں۔ اس سلطنت کا بانی یوسف عادل شاہ تھا۔شہرِ بیجاپور سے میرا ہمیشہ سے ایک قلبی تعلق رہا ہے جو آج تک باقی ہے اور، ان شاءاللہ، تا دمِ آخر باقی رہے گا۔ اس تعلق کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ یوسف عادل شاہ بادشاہ کے زمانے میں میرے اجداد مکۂ مکرمہ سے ہجرت کرتے ہوئے ہندوستان کے شہر گلبرگہ سے ہوتے ہوئے بیجاپور کے قریب "توروا” پہنچے تھے۔اس ہجرت میں حضرت راجی نور شاہ المعروف شاہ نور باباؒ، ان کے ہمشیرزادہ یعنی بھانجے محمد میراں پٹیلؒ اور دیگر اہلِ خاندان شامل تھے۔ جب حضرت راجی نور شاہؒ کی آمد کی خبر یوسف عادل شاہ کو ہوئی تو وہ فوراً ان کی ملاقات کے لیے آئے۔ بادشاہ حضرت سے اس قدر مانوس ہو گئے کہ مہینے میں دو، تین بلکہ چار مرتبہ مسلسل حضرت کی خدمت میں حاضر ہوتے رہتے تھے۔انہی ایام میں کرویش گاؤں کی فتح کی خبر بادشاہ کو ملی۔ اب اس گاؤں کا نام کروشی ہے جو ضلع بلگام، کرناٹک میں واقع ہے۔ جب یہ خبر بادشاہ کو موصول ہوئی تو وہ اسی وقت حضرت راجی نور شاہؒ کی صحبت میں بیٹھا ہوا تھا۔ بادشاہ نے یہ تصور کیا کہ گاؤں صرف حضرت کی دعاؤں کی برکت سے فتح ہوا ہے۔چنانچہ بادشاہ نے شاہی فرمان جاری کرتے ہوئے پورے گاؤں کی زمین اور پاٹیلگی حضرت راجی نور شاہؒ کے سپرد کر دی، اور درخواست کی کہ اس بستی میں نئے سرے سے توحید کی شمع روشن کریں۔ حضرت راجی نور شاہؒ نے خدا کے دین کی تشہیر کی نیت سے شاہی فرمان قبول فرمایا۔ بادشاہ نے ایک شاہی فوجی دستہ بھی ان کے ساتھ روانہ کیا۔حضرت راجی نور شاہؒ، ان کے بھانجے محمد میراں پٹیلؒ اور دیگر اہلِ خاندان کروشی کی طرف ہجرت کر گئے۔ چند برسوں بعد حضرت نے دیکھا کہ بستیاں اب نورِ توحید کی شمع سے روشن ہو چکی ہیں تو انہوں نے گاؤں کی ساری زمین اور پاٹیلگی اپنے ہمشیرزادے یعنی بھانجے محمد میراں پٹیلؒ کے نام شاہی فرمان میں ترمیم کرا دی۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ ان کے بعد زمین کسی غلط ہاتھ میں چلی جائے۔
یوں محمد میراں پٹیلؒ نے گاؤں کی پاٹیلگی کی ذمہ داری سنبھالی۔ اور مجھ خاکسار، آفتاب عالم شاہ نوری، کا تعلق حضرت محمد میراں پٹیلؒ کی پندھرویں پشت سے ہے۔
گزشتہ کئی دنوں سے میرے کئی رفقا چاہتے تھے کہ بیجاپور کا سفر کیا جائے، اور میری بھی دلی تمنا تھی کہ میں بیجاپور جاؤں۔ کیونکہ پڑھنے کے زمانے میں، 2005 سے 2007 تک، میرا مستقل قیام بیجاپور میں رہا تھا۔ اس کے بعد بہت کم مواقع بیجاپور جانے کے آئے۔ خیر، اللہ نے توفیق دی اور پاچھاپور سے میرے تین رفیق بذریعہ کار 20 اکتوبر 2025 کی صبح تقریباً چار بجے روانہ ہوئے اور صبح پانچ بج کر بیس منٹ پر کروشی پہنچ گئے۔
چونکہ میرے فرزند محمد تمیم پٹیل کی دلی خواہش تھی کہ وہ بھی بیجاپور شہر دیکھے محمد تمیم دوسری جماعت کا طالبِ علم ہے رات میں ہم لوگوں نے اگلے دن کے سفر کی تیاری کر لی تھی۔ میں نے اول وقت میں نمازِ فجر ادا کر لی۔تقریباً 16 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے کے بعد ہم ناگر منوڑی نامی گاؤں پہنچ گئے۔ چونکہ میرے سفر کے ساتھیوں نے نمازِ فجر ابھی ادا نہیں کی تھی، اس لیے سلیم قاضی، غوث مومن اور ذیشان صاحب نے نمازِ فجر ادا کی۔نماز کے بعد ہم وہاں سے رائیباغ اور ہاروگری ہوتے ہوئے تقریباً صبح کے ساڑھے سات بجے اتھنی پہنچے۔ یہاں شکیل سر، جو ریٹائرڈ ٹیچر ہیں، ہمارا انتظار کر رہے تھے۔ ہم نے شکیل سر کو کار میں سوار کیا اور بیجاپور کی طرف روانہ ہو گئے۔جیسے جیسے بیجاپور قریب آ رہا تھا، یوں محسوس ہو رہا تھا کہ یہ ٹوٹی پھوٹی عمارتیں ہمارا استقبال کر رہی ہیں۔ بیجاپور سے ٹھیک 25 کلومیٹر پہلے ایک چھوٹا سا گاؤں ٹکوٹا آیا، جہاں پر خان باڑا کے نام سے ایک پرانی عمارت مشہور ہے۔ ہم وہاں گئے۔ پہلے ایک جامع مسجد تھی، پھر اس کے بعد ایک بڑا میدان، جس کے چاروں طرف چھوٹے چھوٹے کمرے بنے ہوئے تھے۔ چند کمرے اسکول کے تھے، چند عربی مدرسے کے کمرے تھے۔کہا جاتا ہے کہ یہ عمارت کبھی حاجیوں کو الوداع کرنے اور ان کے قیام کے لیے بنائی گئی تھی۔ آسان زبان میں اسے حج ہاؤس کہا جا سکتا ہے۔ باہر کی جانب پتھر کا ایک عظیم دروازہ تھا جسے ہم صدر دروازہ کہہ سکتے ہیں۔
وہاں سے ساری چیزیں دیکھ کر ہم دوبارہ بیجاپور کی طرف نکل پڑے۔ بیجاپور سے چند کلومیٹر پہلے توروا نام کا علاقہ آیا، جہاں سے ہمارے آباء و اجداد ہجرت کر کے کروشی آئے تھے۔ ذہن میں پانچ سو سال پرانے مناظر آنے لگے۔ میرا ذہن اپنے اسلاف کے نقشِ قدم ڈھونڈنے لگا۔توروا میں ہی عادل شاہ بادشاہ کے زمانے میں بنایا گیا سنگیت محل بھی ہے، جہاں موسیقی کی محفلیں ہوا کرتی تھیں۔ عمارت دیکھ کر ہم دوبارہ کار میں سوار ہوئے اور نکلتے وقت اعجاز پٹیل کو فون کیا، جو میرے قریبی رشتہ داروں میں سے ہیں۔ وہ گزشتہ آٹھ برسوں سے وہیں مقیم ہیں کیونکہ ان کی اہلیہ بیجاپور کی رہنے والی ہیں۔ اعجاز پٹیل کی ایک خوبصورت ریڈی میڈ کپڑوں کی دکان ہے۔دکان پر پہنچ کر میں نے اپنے لیے تین شرٹیں اور دو پینٹ خرید لیں۔ پھر وہاں سے ہم ناشتہ کرنے کے لیے بیجاپور بریانی ہاؤس کی طرف چلے، جو دراصل میرے پرانے دوست غلام رسول عرف ببو کا ہے۔ مدتوں بعد اپنے پرانے دوست کو دیکھ کر دل خوش ہو گیا۔ ببو نے ہمیں نہایت لذیذ تہاری کھلائی۔ دیر تک ببو سے باتیں ہوتی رہیں۔پھر ہم اعجاز پٹیل کے سسرالی رشتہ داروں کے مکان پر گئے، جہاں عادل شاہی دور کے کئی نادر ریکارڈ محفوظ ہیں۔ بدقسمتی سے جن سے ملنا تھا وہ کہیں سفر پر تھے، مگر ان کے چھوٹے بھائی سے ملاقات ہوئی۔ میرے ساتھ آئے احباب نے ان کو لکھ کر چند چیزیں دیں جن کے متعلق مزید ریکارڈ جاننا چاہتے تھے۔اس کے بعد ہم سب شہر کی جامع مسجد کی طرف گئے۔ جامع مسجد میں داخل ہوتے ہی کسی کا جنازہ آیا ہوا تھا۔ میں نے فوراً وضو کیا اور نمازِ جنازہ میں شریک ہو گیا۔ کچھ دیر مسجد دیکھنے کے بعد ہم ڈاکٹر عبدالغنی عمارت والے صاحب کے مکان پر گئے۔ڈاکٹر صاحب سے میرے دیرینہ تعلقات ہیں۔ وہ نہایت خوبصورت، علمی اور ادبی شخصیت کے مالک ہیں۔ ان کا شمار ہندوستان کے مشہور مورخین میں ہوتا ہے۔ اب تک ان کی پانچ کتابیں منظرِ عام پر آ چکی ہیں، جو انگریزی زبان میں شائع ہوئی ہیں، اور مزید دس کتابیں اشاعت کے لیے تیار ہیں۔ ان کی کتابوں کے نام یہ ہیں:
1. History of Bijapur Subah; 1686–1885
2. Studies in Medieval Bijapur
3. Bijapur Water Works with Special Reference to Taj Baudi
4. Life & Times of Pir Maabari Khandayat
5. Nobles and Savants of Bijapur Court; 1489–1686
ان کی علمی و ادبی شخصیت کو دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عادل شاہی دور کی چند روحوں کو تاخیر سے دنیا میں بھیجا تاکہ ہم اندازہ لگا سکیں کہ اس دور کے لوگ کس قدر ذہین اور صاحبِ فہم ہوا کرتے تھے۔مجھے یقین ہے کہ اگر ڈاکٹر عمارت والے صاحب عادل شاہ کے زمانے میں ہوتے تو وہ ضرور کسی بڑے عہدے پر فائز ہوتے، یا بادشاہ کے مقربین میں شامل ہوتے۔
کچھ عرصہ قبل میں نے ان سے پوچھا تھا کہ گول گنبد کے تہخانے میں کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا، "کیا آپ وہ دیکھنا چاہتے ہیں؟” میں نے کہا، "جی ضرور۔”
تو انہوں نے کہا، "جب بھی آنے کا ارادہ کریں، دو دن پہلے اطلاع کر دیں، میں انتظام کر دوں گا۔”میں نے یہ بات یاد دلائی تو ڈاکٹر صاحب نے فوراً محکمہ آثارِ قدیمہ کے ایک بڑے افسر کو فون کیا اور کہا، "بلگام سے میرے چند رفقا آئے ہیں، جو سنجیدہ اور تعلیم یافتہ لوگ ہیں، براہِ کرم انہیں تہخانے میں جانے کی اجازت دیجیے۔”افسر نے فوراً اجازت دے دی اور کہا، "آپ ٹھیک شام ساڑھے پانچ بجے وہاں پہنچ جائیں، میں سارا انتظام کر دوں گا۔”دوپہر کے ڈھائی بجے تک ڈاکٹر صاحب کی باتوں کا سلسلہ چلتا رہا۔ انہوں نے اپنی ایک ایک کتاب سب احباب کو دی۔ جب احباب نے قیمت ادا کرنی چاہی، جو تقریباً چار ہزار روپے بنتی تھی، تو انہوں نے لینے سے انکار کر دیا۔ احباب کو یہ مناسب نہ لگا کہ مہنگی کتابیں مفت میں لی جائیں، اس لیے حکمتاً ایک صاحب نے بطورِ ہدیہ قبول کر لی اور باقی کتابیں واپس کر دیں۔ڈاکٹر صاحب کھانے پر بہت اصرار کر رہے تھے، مگر ہم نے معذرت چاہی اور جامع مسجد کی طرف چلے گئے، جہاں ہم نے نمازِ ظہر ادا کی۔
شکیل صاحب کے ایک پرانے دوست عرفان بگلی ہیں، جو ایک عرصے تک ہمارے علاقے میں بطورِ ٹیچر کام کر چکے ہیں اور کرناٹک کے مشہور خطاطوں میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ مجھ سے بڑے تپاک سے ملے اور کہنے لگے، "آپ کا کلام مجھ تک واٹس ایپ اور فیس بک کے ذریعے پہنچتا رہتا ہے، میں آپ کے کلام سے بہت متاثر ہوں۔” یہ سن کر دل میں مسرت ہوئی کہ ایسا صاحبِ فن انسان ہم جیسے طالبِ علموں کے کلام کو پسند کرتا ہے۔
عرفان صاحب نے ہمیں شہر کے ایک مشہور ہوٹل میں کھانا کھلایا۔ عصر کی نماز اول وقت میں پڑھ کر میں، میرا فرزند محمد تمیم اور ہمارے رفیق ذیشان صاحب گول گنبد کی طرف روانہ ہوئے۔ وہاں میں نے اور تمیم نے پورا گول گنبد دیکھا۔ٹھیک ساڑھے پانچ بجے کے قریب ڈاکٹر عمارت والے صاحب اور ہمارے دیگر رفقا گول گنبد آ گئے۔ چند سیکیورٹی گارڈ ڈاکٹر صاحب کے استقبال کے لیے آگے بڑھے۔ ایک گارڈ نے جا کر تہخانے کی چابی لائی۔ ہم گول گنبد کے مغرب کی طرف روانہ ہوئے۔تھوڑی دوری پر نیچے جانے والا ایک دروازہ تھا، جس پر بڑا سا تالا لگا تھا۔ تالا کھولا گیا تو ہم ایک ایک کر کے سیڑھیوں سے نیچے اترنے لگے۔ تہخانے میں داخل ہونے کے لیے ایک دیوار میں دروازہ بنایا گیا تھا، جو تقریباً بیس فٹ چوڑی دیوار تھی۔جب اندر داخل ہوئے تو عقل دنگ رہ گئی۔ ایک وسیع و عریض جگہ، ہر طرف روشنی ہی روشنی۔ وہیں بادشاہ اور اس کے اہلِ خانہ کے مزارات تھے۔
ڈاکٹر صاحب نے کہا، "سب لوگ اپنے اپنے طور پر ایصالِ ثواب کی نیت سے قرآن پڑھیں۔”پڑھنے کے بعد انہوں نے ہر مزار کے بارے میں معلومات دینی شروع کیں۔درمیان میں سب سے بڑی مزار محمد عادل شاہ (ساتویں بادشاہ) کی تھی۔ دائیں جانب ان کی اہلیہ عروس بی بی کی مزار تھی، اور اس سے متصل ایک اور مزار تھی جس کا نام ڈاکٹر صاحب کے ذہن میں اس وقت نہ آیا۔ بادشاہ کی مزار کے بائیں جانب دو چھوٹی مزاریں تھیں جو ان کے پوتوں حسن اور حسین کی تھیں۔اسی کے قریب ایک مزار خدیجہ سلطانہ کی تھی، جن کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ بیجاپور کی عورتوں میں سب سے پہلے حج کرنے والی خاتون تھیں۔
ان سب سے کافی فاصلے پر ایک مزار تھی جو بادشاہ کی کنیز کی تھی۔ چونکہ وہ کنیز تھیں، اس لیے ان کی مزار ذرا دوری پر تعمیر کی گئی تھی۔ چونکہ بادشاہ کی کوئی اور نرینہ اولاد نہ رہی، اسی کنیز کے بطن سے پیدا ہونے والے بیٹے کو بادشاہ بنایا گیا، جو آگے چل کر علی عادل شاہ دوم کہلایا۔
ڈاکٹر صاحب نے چھت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ پتھروں کو اس ترتیب سے جوڑا گیا ہے جسے تعمیراتی دنیا میں لیٹرل لاک سپورٹ ٹیکنالوجی کہا جاتا ہے، جو صرف عادل شاہی فنِ تعمیر میں ملتی ہے۔تہخانے کا منظر اتنا دلکش اور پرہیبت تھا کہ شاید یہ منظر میری نظروں سے کبھی محو نہ ہو۔جب ہم باہر نکلے تو ڈاکٹر صاحب نے گول گنبد کی دیواروں پر بنی نقش و نگاری کے بارے میں بتایا۔ انہوں نے مچھلی کی تصویر دکھائی اور کہا کہ مچھلی اس سمت کے پانی کی علامت ہے۔ انہوں نے ہر پہلو کو باریکی سے سمجھایا۔گول گنبد کے دروازے کی کمانوں کے بارے میں بھی انہوں نے وضاحت کی اور بتایا کہ اندر موجود انہی کمانوں پر پورا گنبد قائم ہے۔ گونج کے بارے میں کہا کہ گول گنبد میں ایک آواز بارہ مرتبہ گونجتی ہے، اور یہ دنیا کی واحد عمارت ہے جس کی انجینئرنگ اپنی مثال آپ ہے۔جوں جوں شام ڈھلتی گئی، سیکورٹی گارڈ لوگ باہر جانے لگے اور صرف ڈاکٹر صاحب کی علمی گفتگو ہمارے کانوں میں گونجتی رہی۔گول گنبد سے نکل کر ہم میوزیم کی طرف گئے۔ میوزیم بند ہو چکا تھا مگر وہاں رکھی توپوں کے بارے میں ڈاکٹر صاحب نے دلچسپ معلومات دیں۔
یوں ہم گول گنبد کے صحن سے باہر آئے۔ باہر آ کر چائے پی اور سر کی باتوں کا سلسلہ جاری رہا۔ تقریباً سات بجے کے قریب ہم اس علمی و ادبی شخصیت سے رخصت ہوئے۔وہاں سے ہم جامع مسجد کی طرف گئے، مغرب کی نماز ادا کی، پھر میں نے اپنا روزانہ کا معمول شروع کیا یعنی ایک پارہ قرآن کی تلاوت۔ بعد ازاں ہم نے عشاء کی نماز ادا کی۔نماز کے بعد ہم کار میں سوار ہو گئے اور سوا آٹھ بجے کے قریب بیجاپور شہر سے روانہ ہوئے۔ اتھنی پہنچ کر چائے نوش کی، رائیباغ میں ہلکا پھلکا کھانا کھایا، اور رات گیارہ بجے کے قریب گھر پہنچ گئے۔یوں ہمارا یہ خوبصورت، تاریخی اور روح پرور سفر مکمل ہوا۔