اختلاف میں اتحاد: جمہوری ہندوستان کی روح

Uncategorized
از:۔پروفیسر مشتاق احمد یس ملا،ہبلی۔9902672038
یومِ جمہوریہ صرف ایک تاریخی تاریخ نہیں بلکہ یہ ہماری قومی روح، اجتماعی شعور اور آئینی شناخت کا مظہر ہے۔ 26 جنوری 1950ء کو ہندوستان نے خود کو ایک خودمختار، جمہوری اور آئینی ریاست کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کیا، جب ہمارے دستورِ کو نافذ کیا گیا۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ آزادی محض انگریزوں سے نجات کا نام نہیں بلکہ ایک ایسے نظام کی بنیاد ہے جس میں ہر شہری کو مساوی حقوق، آزادیِ اظہار، مذہبی رواداری اور سماجی انصاف حاصل ہو۔ جمہوریت کا حسن اسی میں پوشیدہ ہے کہ اقتدار عوام کے ہاتھوں میں ہوتا ہے اور حکومت عوام کی خدمت گزار بن کر کام کرتی ہے، نہ کہ ان پر مسلط ہونے والی قوت۔ جمہوری اقدار کی پاسداری دراصل آئین کی روح کو زندہ رکھنے کا نام ہے۔ آئین ہمیں محض حقوق نہیں دیتا بلکہ ذمہ داریوں کا بھی احساس دلاتا ہے۔ اظہارِ رائے کی آزادی، ووٹ کا حق، مساوات، مذہبی و ثقافتی آزادی اور قانون کی نظر میں سب کی برابری وہ ستون ہیں جن پر ہماری جمہوری عمارت قائم ہے۔ لیکن اگر ہم صرف اپنے حقوق کا مطالبہ کریں اور اپنی ذمہ داریوں سے غافل رہیں تو جمہوریت کھوکھلی ہو جاتی ہے۔ ایک سچاجمہوری شہری وہی ہے جو قانون کی پاسداری کرے، دوسروں کے حقوق کا احترام کرے، اور اختلافِ رائے کو دشمنی نہیں بلکہ صحت مند جمہوری عمل سمجھے۔
ہماری سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ ہم اپنے ووٹ کی طاقت کو سمجھیں اور اسے ایمانداری سے استعمال کریں۔ ووٹ صرف ایک پرچی نہیں بلکہ مستقبل کی سمت متعین کرنے والا ایک امانت ہے۔ اگر ہم ذاتی مفاد، لالچ یا تعصب کی بنیاد پر ووٹ دیں تو ہم اپنے ہی ہاتھوں سے جمہوریت کو کمزور کرتے ہیں۔ اسی طرح عوامی نمائندوں سے سوال کرنا، ان کی کارکردگی کا جائزہ لینا اور انہیں جواب دہ بنانا بھی ایک اہم جمہوری فریضہ ہے۔ خاموش رہنا یا ناانصافی کو نظرانداز کرنا بالآخر ظلم کو تقویت دیتا ہے۔ جمہوریت صرف انتخابات تک محدود نہیں بلکہ یہ روزمرہ کے رویوں میں جھلکتی ہے۔ گھروں میں بزرگوں کی بات سننا، اسکولوں میں طلبہ کی رائے کا احترام کرنا، دفاتر میں میرٹ اور انصاف کو ترجیح دینا، اور معاشرے میں کمزور طبقوں کے ساتھ ہمدردی رکھنا۔یہ سب جمہوری اقدار کی عملی شکلیں ہیں۔ جب ہم ذات، مذہب، زبان یا علاقہ کی بنیاد پر امتیاز کرتے ہیں تو ہم دراصل آئین کی روح کے خلاف جاتے ہیں۔ ہندوستان کی خوبصورتی اس کے تنوع میں ہے، اور جمہوریت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ اختلاف کے باوجود ہم ایک دوسرے کے ساتھ عزت اور وقار سے رہ سکتے ہیں۔
یومِ جمہوریہ ہمیں اپنے اسلاف کی کوششوں کو بھی یاد دلاتا ہے جنہوں نے ایک منصفانہ اور آزاد سماج کے خواب کے لیے جدوجہد کی اور ہمیں وہ آئینی ڈھانچہ عطا کیا جس کی بدولت آج ہر شہری اپنی آواز بلند کر سکتا ہے۔ یہ ہماری اخلاقی ذمہ داری ہے کہ ہم اس ورثے کو محفوظ رکھیں اور آنے والی نسلوں کے لیے اسے مزید مضبوط بنائیں۔
تعلیم جمہوریت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، کیونکہ باشعور شہری ہی بہتر فیصلے کر سکتے ہیں۔ جب ہم علم، تنقیدی سوچ اور سچائی کو فروغ دیتے ہیں تو ہم افواہوں، نفرت اور گمراہی کے خلاف ایک مضبوط دیوار کھڑی کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا کے اس دور میں جہاں جھوٹ تیزی سے پھیلتا ہے، ہمیں پہلے سے زیادہ محتاط، ذمہ دار اور حقیقت پسند بننے کی ضرورت ہے۔
یومِ جمہوریہ ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ جمہوریت کوئی تحفہ نہیں جو ہمیشہ خودبخود محفوظ رہے، بلکہ یہ ایک مسلسل جدوجہد ہے جسے ہمیں اپنے کردار، عمل اور شعور سے زندہ رکھنا ہوتا ہے۔ اگر ہم انصاف، مساوات، رواداری اور قانون کی بالادستی کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنا لیں تو نہ صرف ہمارا ملک مضبوط ہوگا بلکہ ہر شہری خود کو باوقار، محفوظ اور بااختیار محسوس کرے گا۔ آئیں اس یومِ جمہوریہ پر عہد کریں کہ ہم ایک ذمہ دار، باخبر اور بااخلاق جمہوری قوم بننے کے لیے پوری دیانت داری سے اپنا کردار ادا کریں گے۔
موجودہ حالات میں جب  معاشرے میں منافرت، تعصب اور تفرقہ کا بازار گرم ہے اور کثرت میں وحدت کو شدید خطرات لاحق ہیں، ایسے نازک وقت میں دستور کی اہمیت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ دستور کسی ایک طبقے، مذہب یا زبان کا نہیں بلکہ پورے ملک کے عوام کا اجتماعی عہد نامہ ہوتا ہے، جو سب کو برابر کے حقوق اور تحفظ فراہم کرتا ہے۔ یہی دستور ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ ہم اختلاف کے باوجود ایک قوم ہیں اور ہمارا رشتہ قانون، انصاف اور انسانی وقار سے جڑا ہوا ہے۔ جب نفرت کی آوازیں بلند ہوتی ہیں تو دستور ہی وہ مضبوط دیوار بن جاتا ہے جو سماج کو بکھرنے سے بچاتا ہے۔ یہ ہمیں اظہارِ رائے، مذہبی آزادی، مساوات اور بھائی چارے کی ضمانت دیتا ہے۔ اگر ہم دستور کی روح کو سمجھ کر اس پر عمل کریں تو کثرت میں وحدت نہ صرف محفوظ رہ سکتی ہے بلکہ مزید مضبوط بھی ہو سکتی ہے۔ یہی دستور ایک پرامن، باوقار اور ہم آہنگ معاشرے کی بنیاد ہے۔