کالجیم سسٹم: ججوں کی تقرری پر وزیر قانون کے بیان سے سپریم کورٹ ناخوش

Uncategorized
 دہلی:۔ ججوں کی تقرری کے معاملے پر مرکزی حکومت اور سپریم کورٹ ایک بار پھر آمنے سامنے نظر آ رہے ہیں۔ سپریم کورٹ نے کالجیم کی طرف سے بھیجے گئے ناموں پر حکومت کی جانب سے فیصلہ نہ لینے پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔ عدالت نے کہا ہے کہ اگر حکومت فیصلہ نہیں کرتی ہے تو اسے عدالتی حکم دینا پڑ سکتا ہے۔ اس سے قبل مرکزی وزیر قانون کرن رجیجو نے کہا تھاکہ کالجیم سسٹم یہ نہیں کہہ سکتا کہ حکومت اپنی طرف سے بھیجے گئے ہر نام کو فوری طور پر منظور کر لے، اگر ایسا ہے، تو انہیں خود ہی تقرری کرنی چاہیے۔جسٹس سنجے کشن کول کی سربراہی والی بنچ نے ججوں کی تقرری کے معاملے کی سماعت کرتے ہوئے حکومت کے پاس طویل عرصے سے زیر التوا فائلوں پر شدید عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ جسٹس کول نے کہا کہ کچھ نام ڈیڑھ سال سے زائد عرصے سے حکومت کے پاس ہیں، نظام اس طرح کیسے چل سکتا ہے؟ اچھے وکیلوں کا جج بننے کے لیے راضی ہونا آسان نہیں ہے، لیکن حکومت نے تقرری اس لیے کی ہے۔ کیا ایسا ہے کہ تاخیر سے پریشان لوگ بعد میں اپنے نام واپس لے لیتے ہیں؟عدالت نے یہ بھی کہا کہ حکومت کی جانب سے بغیر کوئی وجہ بتائے ناموں کو روکنا غلط ہے۔ حکومت اپنی مرضی کے مطابق نام چن رہی ہے۔ جس کی وجہ سے سنیارٹی کا آرڈر بھی گڑبڑ ہو رہا ہے۔سماعت کے دوران اٹارنی جنرل آر وینکٹرامانی نے کہا کہ وہ حکومت سے بات کرنے کے بعد زیر التوا فائلوں کا جواب دیں گے۔ جس پر عدالت نے کیس کی سماعت 8 دسمبر تک ملتوی کر دی۔ سینئر وکیل وکاس سنگھ نے عدالت سے توہین کا نوٹس جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔ اٹارنی جنرل نے اس کی مخالفت کی ہے۔