بنگلورو:۔ریاست میں جلدہی سینٹرل رینٹ ایکٹ کو نافذ کرنے کیلئے ریاستی حکومت نے فیصلہ کیاہے۔اگریہ قانون ریاست میں نافذ ہوتاہے تو کرایہ داروں کیلئے بڑے پیمانے پر سہولت ہوگی۔ماہرین کے مطابق سینٹرل رینٹ ایکٹ میں مکانداروں اور جاگیرداروں سے زیادہ سہولت کرایہ داروں کو ہوگی۔اس سلسلے میں ریاستی وزیر آراشوک نے بھی بتایاکہ کرایہ داروں کی بہبودی کو دیکھتے ہوئے مرکزی حکومت نےاس قانون کو نافذکیاہے،اگرریاست میں اس قانون کو نافذکیاجاتاہے تو کرایہ داروں اور مکانداروں کے درمیان معاہدہ یعنی اگریمنٹ کرناہی ہوگا اور اس اگریمنٹ کی کاپی کو وئب سایٹ پر اپ لوڈ کرنا ہوگا۔اگر چہ کرایہ دار اور مکاندارکے درمیان کوئی نااتفاقی پیش آتی ہے تو اُس نااتفاقی کو حل کرنے کیلئے عدالت میں زیادہ ترجیح ملے گی۔اسی طرح سے مکاندار کرایہ دارکےپاس سےپیشگی رقم یعنی اڈوانس کے طورپر دو مہینوں سے زیادہ کا کرایہ وصول نہیں کرسکتا۔مرکزی حکومت کے مطابق اگر کرایہ دارکے رہتے ہوئے گھر کی مرمت کا کام آتاہے ،مثلاً پلمبنگ، الیکٹریکل، پینٹنگ جیسی مرمت کو کرایہ دارہی انجام دینے کیلئے تیار ہونا پڑیگا،اس کے علاوہ جو معیاد اگریمنٹ میں طئے ہوتی ہے اُس سے پہلے گھر کو خالی کروانے کیلئے مکاندار زبردستی نہیں کرسکتا۔اگر چہ معیاد ختم ہونے کے بعدبھی کرایہ دار گھر خالی نہیں کرتاہے تو اُسے دوگنا کرایہ اداکرناپڑیگا۔یہ دوگنا کرایہ پہلے دو مہینوں کیلئے ہوگا اور اگرچہ مزید دو مہینے یعنی جملہ چارمہینوں تک گھر خالی نہیں ہوتاہے تو چارگنا کرایہ اداکرناپڑیگا۔اسی طرح سے گھرمیں اگرچہ آلٹریشن وغیرہ کرواناہوتو اس کیلئے مکاندارکوہی خرچ اٹھانا پڑیگا۔اُمید کی جارہی ہے کہ اس قانون کو اسی سال کے آواخر تک نافذکیاجائیگا۔
