کورونا کا اثر: ملک میں 10سال کی عمر میں ہی سوشیل میڈیا پر سرگرم ہیں بچے

سلائیڈر نیشنل نیوز

دہلی:۔ کورونا وبا کی وجہ سے لاک ڈاؤن اور آن لائن کلاسوں کے درمیان اسکول جانے والے بچوں کے اسمارٹ فونز اور انٹرنیٹ کے استعمال کولے کرایک سروے کیاگیاہے- سروے میں 3400 اسکولی طلبہ سے اسمارٹ فونز اور انٹرنیٹ سے متعلق سوالات پوچھے گئے تھے۔خاص بات یہ ہے کہ3.42فیصد طلبہ نے سوشیل نیٹ ورکنگ اکاؤنٹ رکھنے کا اعتراف کیا ہے- یہ مطالعہ قومی تحفظ حقوق اطفال کمیشن (این سی پی سی آر) کے ذریعہ کیا گیا تھا، جس میں بچوں کے ساتھ بدسلوکی اور زیادتیوں کو روکنے اور ان کی حفاظت کو یقینی بنانے پرزوردیاگیاہے- اس سروے میں ایک چیز جو سامنے آئی ہے وہ یہ ہے کہ بچے آسانی سے سوشیل میڈیا پلیٹ فارمز پر اکاؤنٹ بناسکتے ہیں – مطالعہ میں ایک اہم تشویش یہ ہے کہ10سال کی عمر کے بچوں کی ایک بڑی تعداد کے پاس سوشیل میڈیا اکاؤنٹس ہیں – پتہ چلا ہے کہ سروے میں شامل10سالہ بچوں میں سے8.37فیصد کے پاس فیس بک اور3.24فیصد افراد کے پاس انسٹاگرام اکاؤنٹ تھا- مطالعہ میں مختلف سماجی رابطوں کے پلیٹ فارمز کے ذریعہ طے شدہ رہنما خطوط کی خلاف ورزی ہوتی دکھائی دیتی ہے- جہاں تک فیس بک اور انسٹاگرام کا تعلق ہے تو اکاؤنٹ بنانے کی عمر کی حد13سال ہے۔