دہلی فسادات: ہائی کورٹ نے دہلی پولیس پر لگے 25 ہزارروپے جرمانے کی وصولی پرلگائی روک 

سلائیڈر نیشنل نیوز
دہلی:۔ دہلی ہائی کورٹ نے شمال مشرقی دہلی میں فسادات سے متعلق ایک معاملے میں پولیس پر لگے 25000 روپے جرمانے کی وصولی کے حکم پر بدھ کے روز روک لگادیا لیکن اس موقع پرنچلی عدالت کی طرف سے پولیس کی تفتیش کی تنقید کے خلاف مداخلت کرنے سے انکارکردیا۔جسٹس سبرامنیم پرساد نے کہاکہ ہم آپ (پولیس) کو سنے بغیر تبصرہ ہٹانہیں سکتے۔ جرمانہ سماعت اگلی تاریخ تک جمع نہیں کیاجائے۔ وہ مقدمے میں دہلی پولیس کی تحقیقات کو ’ظالمانہ اور مضحکہ خیز‘ قرار دینے اور 25000 روپے جرمانہ لگانے والے نچلی عدالت کے حکم کے خلاف پولیس کی درخواست پر سماعت کررہے تھے۔نچلی عدالت نے مجسٹریٹ کی عدالت کے حکم کودئے گئے چیلنج میں یہ فیصلہ سنایا تھا۔ اس میں دہلی پولیس کو فسادات میں گولی لگنے سے اپنی بائیں آنکھ کھو بیٹھے محمد ناصر کی شکایت پرایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ہائی کورٹ نے ٹرائل کورٹ کے حکم کے خلاف دہلی پولیس کی درخواست پر نوٹس جاری کیا اور شکایت کنندہ ناصر کو 10 دن میں جواب دینے کی ہدایت دی۔ اس معاملے میں اگلی سماعت 13 ستمبر کو ہوگی۔پولیس کی طرف پیش ہوئے ایڈیشنل سالسٹر جنرل ایس وی راجونے کہا کہ فی الحال اصل شکایت جرمانے اور تنقید کے خلاف ہے۔انہوں نے یہ بھی دلیل دی کہ مبینہ واقعے سے متعلق ایف آئی آر کی تفصیلی تحقیقات پہلے ہی کی جا چکی ہیں اور ملزم متعلقہ وقت پر موقع پر موجود نہیں پایا گیا تھا۔ شکایت کنندہ کی طرف پیش ہوئے ایڈووکیٹ محمود پراچہ نے دعوی کیا کہ پولیس کا رخ گمراہ کن ہے اور ان کے مؤکل پر دباؤ ڈالا جارہا ہے کہ وہ عدالت سے اپنی درخواست واپس لے۔