از:۔مدثراحمد۔شیموگہ۔کرناٹک۔9986437327
قومِ مسلم میں ایک اہم بات دیکھی گئی ہے کہ جب بھی کوئی کام کرنےکی بات ہوتی ہے تو سب سے پہلے یہ کہاجاتاہے کہ سب کومل کر سب کو جمع کر اور سب کو بٹھا کرکام کرینگے،بڑے پیمانے پر کسی کام کو انجام دینگے،گلی کی کمیٹی بنانے کی بات آتی ہے تو ملکی سطح پر کمیٹی بنانے کیلئے فیصلے لئے جاتے ہیں۔محلے میں اسکول کھولنے کی بات شروع ہوتی ہے اور شہرمیں یونیورسٹی بنانے کی بات پر بحث ختم ہوتی ہے،مکتب بنانے کی رائے سامنے آتی ہے تو دارالعلوم کھولنے کیلئے فیصلے لئے جاتے ہیں۔محلے سے نوجوانوں کی نمائندگی کیلئے کائونسلر یا کارپوریٹر بنانے کا عمل شروع ہوتاہے تو بات آخرمیں جاکر ایم پی،ایم ایل سی پر رک جاتی ہے،جب بات کانسٹیبل،کلرک یانرس بنانے کی بات ہوتی ہے تو مشورے یہ آتے ہیں کہ ہم آئی پی ایس بنائینگے،آئی اے ایس بنائینگے یا پھر ڈاکٹر بنانے کیلئے کام کرینگے۔غرض کہ آزادی کے75 سال بعد بھی مسلمانوں نے بڑے پیمانے پر کچھ نہیں کیا،البتہ البتہ بڑی باتیں ضرور کی ہیں۔مسلمانوں کا المیہ یہ ہے کہ چھوٹے کام کے تعلق سے کچھ سوچتے ہی نہیں ہیں،کیونکہ ان کی سوچ بڑی بڑی ہوتی ہے لیکن عمل چھوٹے سے بھی شروع نہیں ہوتا۔آج مسلمانوں کو بڑی بڑی یونیورسٹیوں کی ضرورت نہیں ہے بلکہ مقامی سطح پر اچھے اسکول،اچھے کالج اور اعلیٰ تعلیم کیلئے ریزرویشن کی ضرورت ہے،کیونکہ بڑا کام کرنے کیلئے کچھ لوگ ضرور نکلتے ہیں مگر ان لوگوں کے پیچھے جو لوگ ہوتے ہیں انہیں بڑاکام ہضم نہیں ہوتاہے ،اس لئے وہ خود ہی بڑے کاموں میںروکاٹیں پیدا کرنا شروع کردیتے ہیں۔غور کیجئے کہ ہمارے اطراف واکناف کتنے معیاری اسکول ہیں؟کتنے ایسے دینی مکاتب ہیں جو بچوں کی صحیح رہنمائی کررہے ہیں؟ہماری قوم میں کتنے ایسے نوجوان ہیں جن کی کوئی بڑی سوچ ہو؟سب لیڈر تو بننا چاہتے ہیں لیکن لیڈرشپ کی اے بی سی ڈی تک معلوم نہیں ہوتی۔ایسے میں بہتر مستقبل کی توقع کیسے کی جاسکتی ہے!۔کئی لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہماری اپنی یونیورسٹی ہو،ہمارے اپنے میڈیکل کالج ہوں،ہمارے اپنے اسپتال ہوں۔ذرا دیکھئے کہ اترپردیش میں اعظم خان نے اقلیتوں کی تعلیم کیلئے اپنی یونیورسٹی بنائی،اب نہ صرف اس یونیورسٹی کا بُراحال ہے بلکہ خود اعظم خان بھی پریشانیوں میں گھیرے ہوئے ہیں۔اسی طرح سے بنگلورو ،میسور جیسے علاقوں میں کئی ایک اسپتال قائم ہوئے تھے جن پر خود مسلمانوں نے خود بھروسہ نہیں کیاتھا اور کئی مسلمانوں نےان اسپتالوں کوبندکروانے کیلئے دن رات کوششیں کی ہیں۔کالجوں کی بات کی جائے تو الامین کالج کی بات کی جائے ،وہاں پر ان کالجوں کا بھلا سوچنے والوں سے زیادہ بُرا سوچنے والے لوگ موجودہیں،کئی لوگ اس بات کا بھی مطالبہ کرتے ہوئے نظرآتے ہیں کہ مسلمانوں کااپنا میڈیا ہائوز ہونا چاہیے اور پورے مسلمان اس میڈیا ہائوزکی تائید کرتے ہیں تو اس میڈیا ہائوزکی کامیابی یقینی ہے۔تاریخ کے اوراق پر نظرڈالیں تو معلوم ہوگاکہ کئی اخبارات اور چینلنس محض اس وجہ سے آئے اور بند ہوگئے ہیں کہ جنہوں نے اخبارات اور میڈیا ہائوز کا ساتھ دینے کا وعدہ کیاتھا وہیں لوگ دغہ دے گئے ۔ان حالات میں ایک ہی کام ممکن ہے وہ یہ کہ قومِ مسلم بہت بڑی بڑی باتیں سوچنے کے بجائے چھوٹے چھوٹے کاموں پراکتفاء کریں۔جب چھوٹی سائیکل چلانا سیکھ جائینگے توآنے والے دنوں میں بڑی سائیکل یا اسکوٹر چلانا سیکھ جائینگے۔قومِ مسلم کے نوجوانوں کو سب سے پہلے بنیادی ذمہ دارایوں کا احساس دلایاجائے ،انہیں کیا پڑھنا،کیاکرناہے،ان کے مستقبل کو کیسے سنوارنا ہے،ان تمام باتوں سے واقف کرانے کیلئے مقامی سطحوں پر تربیتی کارگاہیں منعقدکئے جائیں۔دنیا میں کوئی بھی پر فیکٹ نہیں ہوتابلکہ پرفیکٹ بنانا پڑتاہے،اس کیلئے مختلف شعبوں اور ماہرین کو آپس میں تال میل قائم کرتے ہوئے ایک بہتر سماج کی سمت میں کام کرناپڑیگا۔
