از:۔مدثراحمد۔شیموگہ۔کرناٹک۔9986437327
دسمبرکے دوسرے ہفتے سے ہی سوشیل میڈیا پریہ بحث عروج پر ہے کہ” میری کرسمس” کہیں یا نہ کہیں،کچھ دن بعدنیاسال آنے والاہے،اس بارے میں بھی طویل بحث مسلمانوں میں چھڑنے والی ہے کہ نیا سال منانا حرام ہے،ناجائزہے،غلط ہے ،اس کے بعدفروری میں ویلنٹن ڈے یعنی محبت کا دن منانا کیاہے،کس طرح سے اور کیونکر ممنوع ہے۔اس کے بعد ماہ اپریل آئیگا تو اس میں اپریل فول کے تعلق سے طویل گفتگو ہوگی،اس میں بھی ماہ اپریل کے تناظرمیں سوشیل میڈیاپر بحث ومباحثے ہونگے،پھر اگست کامہینہ آئیگاتو اس میں جنگ آزادی میں علمائے دیوبند کا کردار،جنگ آزادی میں علمائے اہلسنت الجماعت کاکردار،جنگ آزادی میں علمائے سلف کا کردا رکے موضوع پر لمبی لمبی تحریریں،بحث ومباحثے اور مناظرے ہونگے،اس طرح سے مسلمانوں کی سال بھرکی مصروفیت بحث و مباحثوں میں گذریگی اور مسلمان ایک دوسرے پر سبقت لے جانے میں کامیابی حاصل کرینگے،لیکن اس وقت مسلمانوں کے جو حالات ہیں اور مسلمانوں کی بدحالی ہے،اس پر نہ بحث ہورہی ہے نہ تبادلہ خیال ہورہاہے،نہ غور وفکر کیاجارہاہے،نہ ہی مستقبل کی منصوبہ بندی کرتے ہوئے اُسے عملی جامہ پہننانے کی کوشش کی جارہی ہے۔اب حالات اس قدر بدتر ہوچکے ہیں کہ مسلمانوں کو قتل کرنے کیلئے،مارنے کیلئے کھلے عام للکاراجارہاہے اوراس بات کا اعلان کیاجارہاہے کہ مسلمانوں کو قتل کرنے کیلئے ہندو اپنے پاس ہتھیار رکھیں۔لیکن اس کے جواب میں مسلمانوں نے کیا لائحہ عمل اختیارکیاہے،اس کا کسی کوکوئی پتہ نہیں،البتہ مسلمانوں کا ایک طبقہ اس وقت عہدوں،کُرسیوں اور القابات سے نوازاجارہاہے۔سوال یہ ہے کہ اس قوم کی تاریخ شمشیروں،جہادکے میدانوں اورحکومت کے تختوں سے لبریز تھیں،اُس قوم کے لوگ اب محض ایسے ڈھکوسلےاور شہرت پرستی کے علمبردار بن چکے ہیں،جس کی بنیاد پوری طرح سے کھوکھلی ہے۔علامہ اقبال نے اپنے کلام میں یہی بات تو کہی ہے کہ
نہیں تیرا نشمین قصرِ سلطانی کے گنبد پر
تو شاہیں ہے بسیرا پہاڑوں کی چٹانوں میں
مگرآج کے مسلمان نہ تو شاہین بننا چاہ رہے ہیں اور نہ ہی چٹانوں پراُن کا بسیرا ہے، البتہ خصر سلطانی یعنی بادشاہوں اور سلطانوں کے جیسی عیش وعشرت کی زندگی گذارناان کا شیوا بن چکاہے ۔غورکیجئے کہ آج اُمت مسلمہ اپنے ان شاہانہ راوجوں کی وجہ سے اس قدر خوابِ غلفت میں کھو گئی ہے کہ انہیں نہ ماضی کاخیال ہے اور نہ کا حال کا پتہ ہے نہ ہی مستقبل کی فکر۔اگر مسلمان فی الفورحالات کو بدلنے کی ترتیب نہیں اٹھاتی ہےتو داستاں تک نہ رہے گی داستانوں میں۔
