پچھلے دنوں کرناٹک کے بی جے پی لیڈربی ایس یڈی یورپا کووزیر اعلیٰ کی کُرسی ہاتھ دھوناپڑا۔اس سے قبل انہیں ان کے عہدے سے نہ ہٹانے کیلئے ان کی لنگایت ذات سے وابستہ درجنوں لوگ،مٹھوں کے سربراہان او ران کی ذات کی معززین نے بی جے پی کو کھلے طو رپر دھمکی دی تھی کہ اگریڈی یورپا کو ان کے عہدے سے ہٹادیاجاتاہے تو آنے والے دنوں میں بی جے پی کیلئےمشکلات پیدا کرینگے۔یہ پہلی بار نہیں ہے کہ لنگایت سماج نے اپنے قائدین کی حمایت میں کھلے عام نہ صرف بیانات دئیے بلکہ کھلے طورپر سڑکوں پراتر کر احتجاج بھی کیاتھا۔اتحاد اور تائید کا یہ جنون اور طریقہ نہ صرف لنگایت سماج میں دیکھاگیاہےبلکہ دیگر ذاتوں میں بھی دیکھاجاتاہے۔دلت ،پچھڑے طبقے اورعیسائی،سکھ جیسی اقوامیں بھی اپنے حقوق اور اپنی ضرورت کیلئے اتحاد قائم کرلیتے ہیں۔یڈی یورپاکی بات کی جائے اور کرناٹک کے سیاسی حالات کی بات کی جائے تو یہ قابل غورہے کہ کس طرح سے یڈی یورپاکی حمایت میں ان کے سامنے آکھڑی ہوئی ۔یہ بات اور ہے کہ ان حامیوں کی بات نہیں چل سکی،مگر یہ پیغام ضرورنکلاکہ اُس قوم میں اتحادہے۔وہیں دوسری جانب جس قوم کی بنیاد اتحاد پر ہونی چاہیے تھی اور جس قوم کی آسمانی کتاب میں اتحاد کوترجیح دیاگیاہے اور جس قوم کے پیغمبرنے آخری سانس تک اپنی اُمت کو متحد رہنے کی ہدایت دی تھی وہیں قوم نہ تو دینی معاملات پر متحد ہے اور نہ ہی دنیائوی معاملات،نہ سیاسی معاملات میں ان کا اتحادد یکھاجاسکتاہے اورنہ ہی سماجی طو رپر یہ متحد ہیں۔اس انتشارکی بڑی وجہ یہ ہے کہ یہاں سب لوگ الگ الگ سوچ کے باوجود ایک پلاٹ فارم پر کھڑا ہوناہی نہیں چاہتے اور ہر ایک اپنے آپ کو لیڈر کو مانتاہے اور ہر ایک کی چاہ ہوتی ہے کہ لوگ اس کے ماتحت رہیں۔یہی وجہ ہے کہ اس وقت مسلمانوں کی آبادی دوسری قوموں سے زیادہ ہونے کے باوجودمسلمان پسماندہ ہیں اور پیچھے ہیں۔دہلی سے لیکر ممبئی تک،ممبئی سے لیکر آسام تک،آسام سے لیکر بنگلورو تک کا جائزہ لیں تو مسلمانوں کی سیاسی طاقت نہ کہ برابرہے۔کوئی مولانا بدرالدین اجمل کو بی جے پی کو ایجنٹ کہتاہے توکوئی مجلس اتحاد الالمسلمین کےسربراہ اسدالدین اویسی کوبی جے پی سے سپاری لینے والاکہتاہے۔وہیں مہاراشٹرمیں بھی ابواعظمی،امتیاز جلیل،نواب ملِک جیسے لوگوں کو خود مسلمان اہمیت دینے کیلئے تیارنہیں ہیں۔کرناٹک کی بھی حالت ایسی ہی ہے،نت نئے لوگ آکر کرناٹک کی مسلم سیاست کوبگاڑنے میں اہم رول اداکرچکے ہیں اور آج مسلمانوں کی قیادت پوری طرح سے دم توڑنے لگی ہے،ہر طرف قیادت کا بحران ہے تو کیا مسلمان اب بھی اس بات سے سبق نہیں لے سکتے ہیں کہ وہ بھلے ہی اپنے قائدین سے آپسی اختلافا ت رکھتے ہوں لیکن سرِعام اپنے اختلافات کے زہرکو اگلنے کےبجائے متحد ہوکر دکھائیں۔سیاست میں کوئی کسی کا ایجنٹ نہیں ہوتااور نہ ہی سیاست میں کوئی پکا ایماندار اور وعدوں پر عمل کرنےو الاہوتاہے۔یہ تو ایک سیاسی نظام ہے جس میں زبان ہر وقت پلٹتی رہتی ہے،چونکہ سیاستدانوں سےہمارے گھر تو نہیں چلتے،لیکن پہچان ضروربڑتی ہے،اس لئے اس پہچان کو بنائے رکھنے کی ضرورت ہے۔
از:۔مدثراحمد۔شیموگہ۔کرناٹک۔9986437327

