شیموگہ: ۔ضلع میں نجی بسوں کے کرایے میں 25 فیصد اضافے کیلئے ایک منظم فیصلہ کیا جائے گا۔اس بات کا اظہار ڈپٹی کمشنر کے بی شیوکمار نے کیا ہے۔انہوںنےاپنے دفتر میں روڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پڑوسی اضلاع میں نجی بسوں کے کرائے میں اضافے کے تعلق سے پہلے ہی نظر ثانی کیلئے اقدامات اٹھائےگئے ہیں۔نجی اور کے ایس آر ٹی سی بسوں کے درمیان مقابلے سے بچنے کیلئے دونوں کو تعاون کرنا ہوگا۔ سرکاری بس اسٹیشن کے اندر نجی بسوں کو داخلوں کا موقع نہیں ہے۔مزید انہوں نے بات کرتے ہوئے کہا کہ آٹورکشا کے سفر میں کم ازکم شرح 40 روپئے مقرر کرنے کی تجویز پر انہوں نے اپناردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ دیگر اضلاع میں کم سے کم کرایوں سمیت تمام نکات کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ کرنے کی بات کہی ہے۔ اسی طر ح شیموگہ شہر کے 20 کلومیٹر کے اندر آٹورکشاچلانے کی اجازت دینے کی درخواست پرضلعی ایس پی نے جائزہ لینے کے بعد رپورٹ پیش کریںاوراس کے مطابق ہی مناسب فیصلہ لینے کی بات کہی ہے۔شیموگہ شہر کےحدود میں نئے آٹو لائسنسوں کی اجازت نہیں ہے۔الیکٹرک آٹورکشا کو لائسنس کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن ڈرائیوروں کو یونیفارم پہننا لازمی ہے۔ آٹو میٹر کا استعمال کئے بغیر مسافروں سے زیادہ رقم وصول کرنے کے بارے میں بہت سی شکایات موصول ہوئی ہیں آئندہ اس کیلئے موقع نہیں دیا جانا چاہئے۔ ہر ایک کولازم ہے کہ میٹر ڈالیں اوربعد ازاں آٹو رکشا چلائیںورنہ قانونی طریقے سے کارروائی کی کرنے پر آگاہ کیا ہے۔مزید انہوں نے کہا کہ کچھ گاڑیوں میں آنکھوں کو چبھنے والی ایل ای ڈی ہیڈلائٹ ڈالنے سے حادثات ہونے کی شکایات موصول ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسی گاڑیوں کی نشاندہی کیلئے مناسب کارروائی کی جانی چاہئے۔اس موقع پر ضلعی ایس پی لکشمی پرساد ، آر ٹی اوشری دھر اور مختلف تنظیموں کے نمائندے موجود تھے۔
