کیا جنتادل سیکولر کا شروع ہوجائیگازوال ؟

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر نمایاں
شیموگہ :۔ شیموگہ ضلع میں جنتادل سیکولر کے قدآور لیڈران ایک کے بعد ایک دوسری پارٹیوں کی سمت جانے لگے ہیں اور ان لیڈروں کو منانے ، واپس لانے اور اپنی گرفت میں رکھنے کے لئے نہ تو کوئی لیڈر موجود ہے نہ ہی کارکن ، اس وقت شیموگہ ضلع میں جنتادل سیکولر زوال کی طرف گامزن ہے اور امید کی جارہی ہے کہ اگلے اسمبلی انتخابات تک اس پارٹی سے کوئی امید وابستہ نہیں رکھ سکتا۔ جنتادل سیکولر میں اس وقت اگر کوئی سرگرم ہے تو وہ جے ڈی یس کے ریاستی جنرل سکریٹری یم سری کانت اور شیموگہ رورل اسمبلی حلقے کی سابق رکن اسمبلی شاردا پوریہ نائک ہی باقی ہیں جبکہ تیرتہلی سے پچھلے اسمبلی انتخابات کے امیدوار اور جے ڈی یس کے ضلعی صدر آر یم منجوناتھ گوڈا پارٹی چھوڑ چکےہیں اور کانگریس میں ہیں ، بھدرواتی کے مضبوط لیڈر اپاجی گوڈا کی موت ہوچکی ہے انکے بعد وہاں کوئی لیڈر نہیں ہے ، شکارپور اسمبلی حلقے کی ہیچ ٹی بالیگار بھی عوامی سرگرمیوں سے کنارہ کشی اختیار کرلی ہے ، ساگر اسمبلی حلقے کے امیدوار گریش گوڈا کا نام و نشان نہیں ہے اور سوربہ اسمبلی حلقے سے مدھوبنگارپا شکست یافتہ ہونے کے بعد اب کانگریس پارٹی کا ہاتھ تھام چکے ہیں ۔ اس وقت شیموگہ جے ڈی یس کی اگر پہچان و جان باقی رکھی ہے تو وہ یم سری کانت نے باقی رکھی انکے علاوہ کوئی بھی جے ڈی یس کا جھنڈا پکڑنے کے لئے تیار نہیں ہے ۔ جے ڈی یس کو سب سے بڑا نقصان آج ہوا جب مدھوبنگارپا اپنے حامیوں کو ساتھ لے کر کانگریس کا دامن تھام چکے ہیں ،حالانکہ پچھلے دو سالوں سے اس تعلق سے قیاس آرائیاں کی جارہی تھیں کہ مدھوبنگارپا کانگریس کاہاتھ تھامنے والے ہیں لیکن جے ڈی یس کے ریاستی صدر و سابق وزیر اعلیٰ کمار سوامی نے اس بات کاانکار کیا تھاکہ مدھو بنگارپا پارٹی کی ریڑھ کی ہڈی ہیں وہ جے ڈی یس کو چھوڑ کر نہیںجائینگے لیکن ان تمام قیاس آرائیوں پر نکتہ لگاتے ہوئے مدھوبنگارپانے جے ڈی یس کو خیر آباد کہہ دیاہے ۔ اقلیتی شعبہ ہی نہیں !!سال 2018 کے اسمبلی انتخابات کے دوران جہاں کانگریس پارٹی میں اقلیتی شعبہ تھا وہیں جے ڈی یس نے بھی اقلیتی شعبے کی سراز نو تشکیل دی تھی لیکن الیکشن کے ختم ہوتے ہی جے ڈی یس اقلیتی شعبہ بھی خود بخود تحلیل ہوگیا تھا ، حالانکہ اس وقت جے ڈی یس کے لئے ضلع میں نہ کوئی صدر ہے نہ کو ئی پارٹی کا کوئی کارکن ہے سرگرم ہے ایسے میں جے ڈی یس کا اقلیتی شعبہ بھی موم کی طرح پگھل چکا ہے اور اسے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے ۔ حالانکہ چند ایک مداح اب بھی اپنے آپ کو جے ڈی یس کے سپاہی کہتے ہیں لیکن ان سپاہیوں کے پاس نہ گھوڑا ہے نہ تلوار ہے ، یہاں تک کہ پیدل جانے کے لئے جوتے بھی نہیں ہیں ۔ کیا سری کانت جان میں جان ڈالیں گے ؟جے ڈی یس سے دو دفعہ امیدوار رہ چکے یم سری کانت نے جے ڈی یس کو ہمیشہ سے ہی زندہ رکھنے کی کوشش کی ہے لیکن ہر بار انہیں شکست ملنے کے بعد وہ پارٹی کی سرگرمیوں سے کنارہ کشی کرلیتے ہیں ، لیکن اس دفعہ انہیں جے ڈی یس کو پوری طرح سے تیار کرنے کے لئے کافی جدو جہد کرنی ہوگی یا پھر انہیں صرف اپنے اسمبلی حلقے کے لئے تیارہونا پڑیگا ۔ جے ڈی یس کی حالت اس وقت آئی سی یو میں ہے اور اگر اسے کوئی بچاسکتاہے تو وہ یم سری کانت ہی ہیں ۔ کیا مسلمان جے ڈی یس کا ساتھ دینگے ؟ ضلع میں جے ڈی یس کی طرف سے کبھی بھی مسلمانوں کے اچھے برے میں قیادت نہیں ہوئی ہے، جے ڈی یس کا ہر لیڈر صرف الیکشن کے وقت رونماہوتا ہے اسکےبعد رفو چکر ہوجاتاہے ، پچھلے اسمبلی انتخابات میں بظاہر کچھ خود ساختہ لیڈروںنے اپنے آپ کو مسلمانوں کے لیڈر کے طورپر پیش کیا تھا لیکن وہ اب دور دور تک دکھائی نہیں دے رہے ہیں ، دوسری اہم بات یہ ہے کہ جے ڈی یس ریاست میں حکومت قائم کرنے کے معاملے میں بار بار وعدہ خلافی کرنے ، مسلمانوں کے حقوق کو بحال رکھنے میں ناکام ہونے ، گائوکشی کے مدعے پر نرم رویہ رکھنے ، ین آر سی و سی اے اے کے مدعے میں خاموشی اختیار کرنے جیسے معاملات سے مسلمانوں نے فی الوقت دوری اختیار کرلی ہے اور اس بار مسلمان دوبارہ جے ڈی یس کے ساتھ ہونگے یا نہیں دیکھنا ہوگا ۔!!