پانچ سالوں سے ریاستی کراٹا کے خراٹے ;نہ نام ہوا، نہ کام ہوا ۔۔ بس کراٹا کے ریاستی صدر ناکام ہوا

اسٹیٹ نیوز ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر
شیموگہ :۔ ریاست میں سرکاری ملازمین کی مختلف تنظیمیں موجود ہیں اسی طرح سے اردو اسکولوں کے معلمین کے لئے بھی ایک باضابطہ تنظیم کی تشکیل کئی سال قبل کرناٹک اردو اکادمی کے چیرمین حافظ کرناٹکی، فیاض احمدسمیت کچھ باصلاحیت اساتذہ نے کراٹا نامی ریاستی سطح کی تنظیم کی تشکیل دی گئی تھی۔ اس تنظیم کا مقصد سر کاری اردو مدارس کے اساتذہ کے مسائل حل کرنا،ریاستی سطح پر اردو معلمین کے درمیان تال میل پیدا کرنا، اردو مدارس کی ترقی کرنا اور مدارس کو زوال ہونے سے بچانا، معلمین کی حق تلفی ہونے پر متحدہوکر آواز اٹھانا ہے ۔ لیکن جب سے بانی اراکین اپنی خدمات سے سبکدوش ہوئے ہیں، قریب 10-12 سالوں تک کراٹا کے صدر رہ چکے فیاض احمد نے اپنی میعاد میں کراٹا کو ریاست بھر میں نہ صرف متعارف کروایا بلکہ اس تنظیم کے ذریعے اساتذہ کو متحد کرنے کا کام بھی کیا اور جابجا اردو مدارس کی فلاح و بہبودی کیلئے کام کیا گیا تھا، اسکے بعد سے کراٹا تنظیم بے لگام ہوچکی ہے اور ریاستی سطح پر صرف نام کیلئے تنظیم ہے یا تھی لیکن پچھلے 5 سالوں سےجو صدر ہیں وہ نہ تو ضلعی اپنے ہی ضلع میں سرگرم ہیں نہ ہی ریاستی سطح پر انکا اور کراٹا کا کوئی وجود باقی ہے ۔پچھلے پانچ سالوں میں کرناٹکا راجیہ ٹیچرس اسوسیشن نے اگر کچھ کارنامہ انجام دیا ہے تو وہ بس ایک کیلنڈر چھپوایا ہے جو تیزی کے ساتھ بدل گیا اسکے علاوہ نہ تو بند ہونے والے اردو اسکولوں کی حالت جاننے کی کوشش ہوئی نہ ہی راتوں رات سرکاری اردو اسکولوں کے پڑوس میں کھلنے والے نجی اسکولوں پر توجہ گئی ۔ البتہ چند ایک مقامات اور اضلاع میں جو اساتذہ کراٹا تنظیم کی جانب سے خدمات انجام دینے کی کوششیں کررہے ہیں انکی سرگرمیوں میں نہ برہمن رکاوٹ ڈال رہے ہیں نہ ہی آریس یس کے کارکنان مداخلت کررہے ہیں بلکہ خود کراٹا کے سینیر عہدیداران رکاوٹیں پیدا کررہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ریاستی سطح پر قائم کردہ کراٹا کو تحلیل کیوں نہیں کیا گیا ہے اور اس ادارے کے ماتحت اساتذہ کی قیادت کیوں نہیں ہورہی ہے؟.  غور طلب بات یہ بھی ہے کہ اس وقت سرکاری اردو اسکولوں کو انگلش میڈیم اسکولوں میں تبدیل کرنے کا سلسلہ بھی شروع ہوا ہے مگر کراٹا نے اس سلسلے میں اپنا موقوف ہی واضح نہیں کیا ہے ۔ ریاستی صدر سونور بشیر ریاست میں کراٹا کی تشکیل کرنے اور اسمیں دم بھرنے میں پوری طرح سے ناکام ہوچکے ہیں اور اپنی میعاد بھی مکمل کرچکے ہیں اس وجہ سے فوری طور پر اساتذہ طبقہ اس کمیٹی کو تحلیل کرتے ہوئے کمیٹی کو سراز نو تشکیل کرتا ہے تو یقیناً کچھ نہ کچھ کام ہوگا ورنہ موجودہ کراٹا کی ریاستی کمیٹی کے خراٹے ہی سننے ہونگے ۔