لکھنؤ:۔بی جے پی اور کسان لیڈروں کے درمیان تکرار شدت اختیار کرتی جارہی ہے۔اس بیچ سننے میں آرہا ہے کہ مرکز و ریاست میں بر سر اقتدار پارٹی نے ایک نئے کارٹون کو ٹویٹ کرکے اسے مزید طول دے رہی ہے جس پر پلٹ وار کرتے ہوئے راکیش ٹکیت نے چیلنج کیا ہے کہ وہ لکھنو آکر دکھائیں گے۔انہوں نے اعلان کیا ہےکہ وہ 6اگست کو ریاستی راجدھانی آئیں گے۔اس کےساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ بی جے پی کے لوگ زمینی حقیقت سے ناواقف ہیں اس لئے الٹے پلٹے ٹویٹ اور بیان بازی کررہے ہیں۔وہیں، اپوزیشن نے بھی اس ٹویٹ اور کارٹون کے لئےبی جے پی پر حملہ بولتے ہوئے اسےبے شرم پارٹی قرار دیا ہے۔یوپی بی جے پی کے ذریعے بھارتیہ کسان یونین کے قومی جنرل سیکریٹری اور8 ماہ سے جاری کسان تحریک کے اہم چہرے راکیش ٹکیت کے خلاف متنازع کارٹون اور ٹویٹ کا معاملہ اب طول پکڑتاجارہا ہے۔ٹکیت نے یوپی بی جے پی کے اس حملے پر پلٹ وار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ 6اگست کو لکھنؤ آرہے ہیں اور یہ دیکھیں گے کہ حکومت کیا کرتی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ بی جے پی والے صرف ٹویٹ ہی کرنا جانتے ہیں، انہیں زمینی حقیقت سے کوئی واسطہ نہیں۔اس ٹویٹ اور کارٹون کے تعلق سے ٹکیت نے کہا کہ بی جے پی کے پاس فنڈ ہے، ایڈ ہے مگر زمینی حقیقت سے لاعلمی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر ٹویٹ کرنا ہی تھا تو یہ بھی لکھ دیتے کہ ریاست کے گنا کسانوں کا کتنا بقایہ ہے،گیہوں کی کتنی خریداری حکومت نے کی ہے،گنے کا ریٹ مایاوتی نے زیادہ بڑھائے تھے یا اکھلیش یا پھر یوگی نے؟ٹکیت نے مزید کہا کہ ٹویٹ کرنے والا یہ بھی لکھ دیتا کہ ریاست میں کسان خود کشی کیوں کر رہے ہیں ،آلو کاکیا حال ہے؟راکیش ٹکیت کا کہنا ہے کہ وہ6اگست کوپھر لکھنؤ آئیں گےاور میٹنگ کریں گے۔ اگر نہیں آنے دیں گے تو سڑک پر بیٹھیں گے اور ’آندولن ‘کریں گے۔انہوں نے حکومت کو خط لکھ کر گنا کسانوں کے بقایہ کی جلد ادائیگی کی مانگ بھی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پانچ سال سے ریٹ نہیں بڑھا ہے،بقایہ کی ادائیگی لٹکی ہوئی ہے۔ایسے میں کیا ہم مانگ بھی نہیں کر سکتے؟کیا حکومت کی مخالفت ملک کی مخالفت ہوگئی ہے؟ حکومت اور بی جے پی کے رویہ سے مایوس اوربرہم راکیش ٹکیت نے کہا کہ نہ اس پارٹی کو اور نہ ہی اس کی سرکار کو کسانوں کی کوئی فکر ہے۔اگر، یہ فکر کرتی تو کسانوں سے بات ضرور کرتی۔ٹکیت نے ریاست گیر مظاہرے و تحریک کے تعلق سے کہا کہ اس کا پروگرام 5ستمبر کو مظفر نگر کسان پنچایت میں طے کیا جائےگاجو یوپی میں ہماری اس تحریک کے دوران پہلی کسان پنچایت ہوگی جسے صوبہ بھر میں لے جائیں گے۔ واضح رہے کہ گزشتہ دنوں لکھنؤ کےپریس کلب میں ٹکیت نے اعلان کیا تھا کہ اگر حکومت نےتین زرعی قوانین کی واپسی سمیت کسانوں کےتمام مطالبات پورے نہیں کئےتولکھنؤ کو دہلی بنا دیں گےاور اسے قومی راجدھانی کی طرح سیل کر دیں گے۔ان کے اسی بیان کے جواب میں یوپی بی جے پی نے اپنے ٹوئٹر ہینڈل سے ایک کارٹون شیئر کرتے ہوئےایک کیپشن لکھا تھا:ارے بھائی۔ذرا سنبھل کر جئیو لکھنؤ۔یہ بات ایک باہو بلی لیڈر کو کہتے ہوئے دکھایا گیا ہے ۔کارٹون میں یہ بھی لکھا گیا ہے:بکل تار دیاکرے اور پوسٹر بھی لگوا دیا کرے۔مغربی یوپی کی بول چال کے انداز میں لکھا گیا یہ تبصرہ براہ راست ٹکیت پر حملہ ہے، جو اسی خطہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ بی جے پی نے جس پوسٹر کی بات کی ہے وہ در اصل این سی آر مظاہرین کے لگائے گئے پوسٹر کی جانب اشارہ ہے مگر اس کے سبب حکومت کی عدالت نے سرزنش کی تھی، اس پر کچھ نہیں کہا گیا ہے۔تاہم، اپوزیشن ایس پی ا ور کانگریس دونوں نے ہی اس کارٹون اور ٹویٹ پر سخت برہمی ظاہر کی ہے۔ کانگریس ترجمان سریندر سنگھ راجپوت کا کہنا ہے کہ اب یہ پارٹی بے شرمی پر اتر آئی ہےجبکہ اس کی حکومت کو گنا بقایہ کی فکر کرنی چاہئے جو 14000کروڑ تک پہنچ چکا ہے۔وہیں، ایس پی ترجمان سنیل سنگھ ساجن نےا پنے رد عمل میں کہا ہے کہ یہ بے شرمی کی حد بھی پار کرجانے کے مترادف اور اس کی ذہنیت کی عکاسی ہے۔دونوں ہی لیڈروں کا کہنا ہےکہ بی جے پی کبھی کسانوں کو خالصتانی کہتی ہے تو کبھی افغانستانی اور کبھی موالی۔مگر، انہیں ابھی احساس نہیں جب گائوں میں جائیں گے تو پتہ چل جائے گابکل کس کا اترے گا۔ساتھ ہی، 2022اب زیادہ دور نہیں،کسان اسے اچھے سے سبق سکھائیں گے۔
