غنی نے شفیع پر کیا حملہ: بی جے پی مورچہ میں مارا ماری

اسٹیٹ نیوز ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر
شیموگہ:۔ماراماری صرف کانگریس میں ہی نہیں ہوتی ، بلکہ بی جے پی میں بھی ہوتی ہیں۔ بی جے پی میں اگر کوئی آپس میں لڑے جھگڑے تو یہ زیادہ نوٹ اس لئے کیاجاتا ہے کہ اس پارٹی کو نظم ونسق کی پارٹی کہا جاتا ہے۔ ایساہی ایک واقعہ آج شہر کے سرکاری گیسٹ ہائوس میں پیش آیا۔ جس میں بھاجپا کے ضلع اقلیتی مورچہ کے صدر محمد شفیع اللہ اور ضلع وقف مشاورتی کمیٹی کے صدر عبدالغنی ان کا تعلق بھی بی جے پی سے ہی ہے ۔ وہ دونوں آپس میں جھگڑنے لگے اوربات یہاں تک پہنچ گئی کہ عبدالغنی نے محمد شیفع اللہ پر بے تحاشہ حملہ کرتے ہوئے پہلے تو گھونسے تو مارے پھر بعد میں چپل مارنے لگے۔ دراصل آج صبح کرناٹکا میناریٹی ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے صدرمختار پٹھان کی آمد تھی ،اس موقع پر مختار پٹھان کا استقبال کرنے کیلئے محمد شیفع اللہ بی جے پی میناریٹی مورچہ کی جانب سے پہنچے تھے تو وہیں وقف بورڈکی جانب سے استقبال کرنے پہنچے۔ بتایا جارہا ہے کہ لمبے عرصے سے دونوں کے درمیان آپسی رنجشیں ہورہی ہیں۔ اس رنجش کی بنیاد پر عبدالغنی محمد شفیع اللہ کے ساتھ پہلے بھی لڑجھگڑ چکے ہیں اورشفیع اللہ کو پہلے بھی جان سے مارنے کی دھمکی دے چکے ہیں۔ مگر آج جیسے ہی شفیع اللہ اورغنی کا آمناسامنا ہواتو عبدالغنی نے محمد شفیع اللہ کے ساتھ موجود وقف مشاورتی کمیٹی کے اراکین کو دیکھاتو انکو تنزیہ لہجے میں گالیاں دے کر کہا کہ وقف بورڈکی میٹنگ کو نہیں آسکتے لیکن اس ۔۔۔۔۔ کے ساتھ؟۔ گھوم رہے ہواسی بات پر دونوں ایک دوسرے کے ساتھ جھگڑا کرنے لگے۔ عبدالغنی نے اپنےآپ کو صدر سمجھنے کے بجائے غدر کا ہیرو سمجھ کر شفیع اللہ پر حملہ کردیا ۔ پہلے گھونسے مارے، ڈچی ماری،پھر بعد میں چپل اٹھاکر مارنے پہنچ گئے۔ اس درمیان وہاں پر موجود لوگوں نے دونوں کے جھگڑے کو ختم کرنے کی کوشش کی لیکن شفیع اللہ نے ان پر ہونے والے حملے اور جان سے مارنے کی دھمکی کو لیکر یہاں کے دوڈپیٹے پولیس تھانے میں معاملہ درج کروایاہے، لیکن ابھی تک اس معاملے میں ایف آئی آر تک داخل نہیں ہوئی ہے ۔ بتایا جارہا ہے کہ عبدالغنی کی طرف سے ایسی واردات پہلی نہیں ہے ، پہلے بھی وہ وقف ذمہ داروں کے ساتھ بھڑ چکے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ وقف بورڈکے شیموگہ ضلع مشاوارتی کمیٹی کے عہدے پر بٹھایا گیا ہے یا بی جے پی کے بائونسر کے طور پر بٹھایا گیا ہے اس کا جواب خود بی جے پی ہی دیگی۔