میسورو:۔ ہمارے والدین ہمیں بھارت میں ہی رہنے کی صلح دے رہے ہیں ، افغانستان نہ آنےکی تاکید کررہے ہیں ۔ آگے کیا ہوگا ہمیں معلوم نہیں،ہمارے دلوں میں اس بات کو لیکر ایک طرح کا خوف ہے۔ اس بات کا اظہارمیسور یونیورسٹی میں زیر تعلیم افغانی طلباء نے کیا ہے۔ انہوں نے یہاں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت بھارت ہی محفوظ مقام ہے اسلئے آپ وہی رہیں ، یہاں فی الوقت آنے کی کوشش نہ کریں ، اس لئے ہم بھارت کی حکومت سے گذارش کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ویزہ کی مدت میں توسیع کریں،اس وقت افغانستان میں ہمارے اہل خانہ ہیں وہاں انکی حالت کیا ہوگی یہ سوچ کر ہم پریشان ہورہے ہیں۔ 20 سال پہلے ہمارے ملک میں خواتین پر پابندی لگائی گئی تھی۔ اسکے بعد عام حکومت نے خواتین کو مساوی حقوق دئے تھے، خواتین دفتر جاسکتی ہیں، بازاروں کا رخ کرسکتی ہیں، لیکن اب طالبان نے دوبارہ قبضہ کیا ہے تو کیا ہوگا اسکا اندازہ نہیں ہے۔ اگر پہلے کی طرح ہی طالبان ظالمانہ برتائو کرتے ہیں تو ہمارے لئے مشکلات پیدا ہوںگے۔ افغانی لوگوں میں دہشت پھیلی ہوئی ہے، کابل پر قبضہ کرنے کے بعد سے اب تک کوئی نہ خوشگوار واقعات پیش نہیں آئے ہیں، لیکن آگے کیا ہوگا یہ سوچ کر ہمیں پریشانی ہورہی ہے۔ طالبانیوں نے اسلامی حکومت کی بنیاد رکھی ہے، بیرونی ممالک کے تمام شہریوں کو واپس جانے کی ہدایت دی ہے۔ بھارتی حکومت کو چاہئے کہ وہ وہاں کے طلباء کو بلاکر تعلیم سے آراستہ کرے۔ اسی دوران میسور یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر جی ہیمنت کمار نے طلباء کو بلاکر ہمت دلائی اور کہا کہ بھارت کی حکومت انکا ساتھ دےگی وہ خوفزدہ نہ ہوں۔
