بنگلورو:(انقلاب نیوزبیورو):۔کرناٹک کے تین بلدیات کے انتخابات میں ہبلی دھارواڑ میونسپل کارپوریشن اور بیلگاوی بلدیہ میں بی جے پی اور گلبرگہ میونسپل کارپوریشن میں کانگریس کو کامیابی حاصل ہوئی۔ 3 ستمبر کو ان بلدیات میں پولنگ ہوئی تھی آج ووٹوں کی گنتی ہوئی۔جس میں ہبلی دھارواڑ کے 82 حلقوں میں بی جے پی کو 39 ،کانگریس کو 33 ،جے ڈی ایس کو ایک مجلس کو 3 حلقوں اور 6 آزاد امیدواروں کو کامیابی حاصل ہوئی ۔یہاں سے پہلی بار مجلس نے مقابلہ کرتے ہوئے تین حلقوں میں کامیابی حاصل کی۔58 رکنی بیلگاوی بلدیہ میں بی جے پی 35 ،کانگریس 10 ،مجلس ایک اور 12 آزاد امیدوار کامیاب ہوئے ۔گلبرگہ سٹی کارپوریشن کے 55 حلقوں میں کانگریس کو 27، بی جے پی کو 23 ،جے ڈی ایس 4،اور ایک آزاد امیدوار کامیاب ہوئے۔اس دوران ریاست کے وزیر اعلیٰ بسواراج بومئی نے بتایاکہ کارپوریشن انتخابات نے آنے والے انتخابات کیلئے راہیں ہموار کی ہیں، اس سے واضح ہوتاہے کہ اب بھی لوگ بی جے پی سے پُر امید ہیں۔بلگام میں پہلی بی جے پی اقتدارپرآرہی ہے یہ ہمارے لئے خوش ائندبات ہے۔ہبلی،بلگام سمیت ریاست کے بیشتر علاقوں میں ہماری کامیابی ہوئی ہے۔اسی دوران اپوزیشن جماعت کے سربراہ ڈی کے شیوکمارنے بلدیاتی انتخابات پر اپنی رائے پیش کرتے ہوئے کہاکہ کوویڈکے دوران جو محنت ہم سے ہوسکی ،اُس کا پھل ہمیں ملاہے،ان نتائج سے ہمارے حوصلے پست نہیں ہوئے ہیں،ہم اپنی کوششوں کوجاری رکھیں گے۔سب سے اہم نتائج ایم آئی ایم کے رہے،جس کا بی جے پی سمیت کانگریس سبھی کو انتظارتھا۔ہبلی میں ایم آئی ایم نے تین حلقوں میں شاندارکامیابی حاصل کی ہے،حالانکہ 12 حلقوں میں ان کے امیدوارتھے،لیکن ان 12 امیدواروں میں صرف3 امیدوارہی کامیاب ہوسکے۔بلگام میں بھی ایک امیدوارکو کامیابی حاصل ہوئی ہے،بھلے ہی ایم آئی ایم نے کم نشستوں پر کامیابی حاصل کی ،لیکن اس کے نتائج سے کانگریس کو ایک بڑا جھٹکاملاہے اور جو ووٹران اب تک کانگریس وجے ڈی ایس کے تھے وہی ووٹران اب کروٹ بدل کر ایم آئی ایم کی طرف مائل ہوئے ہیں۔دوسری طرف ایس ڈی پی آئی نے ان شہروں میں کھاتہ نہیں کھولا،حالانکہ ان کی طرف سے پوری جدوجہد کی گئی تھی ، مگر ووٹر ساتھ نہ دے سکے۔حیران کن بات یہ رہی کہ گلبرگہ میں 27نشستوں پر کانگریس نے جیت حاصل کی ہے اور23 نشستوں پربی جے پی کو کامیابی ملی ہے اور جے ڈی ایس چار نشستوں پر کامیابی ملی اور ایک نشست آزادامیدوارکے حق میں گئی۔بتایاجارہاہے کہ یہاں پر کانگریس کی من مانی اور باغی امیدواروں کی وجہ سے کانگریس کو بہت بڑا جھٹکاملاہے اور گلبرگہ کی تاریخ میں پہلی دفعہ بی جے پی نے اتنے بڑے پیمانے پر کامیابی حاصل کی ہے۔فی الحال گلبرگہ کے نتائج معلق ہیں،اگر جے ڈی ایس کا دامن تھامتی ہے تو تب جاکر جے ڈی ایس وکانگریس کی ٹیم کامیاب ہوگی اور اگر بی جے پی نے جے ڈی ایس کو اپنے ریاستی رشتوں کاحوالہ دیکر ایک آزادامیدوارکے ساتھ ٹیم بناتی ہے تو وہاں پر بی جے پی اقتدارمیں آسکتی ہے۔سب سے بڑی بات یہ رہی ہے کہ کانگریس نے بی جے پی کی کمزوریوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ان بلدیاتی اداروں کے انتخابات کا مقابلہ نہیں کیا اور بی جے پی کو سراٹھانے کا موقع دیاہے وہ کانگریس کیلئے آنے والے دنوں میں نقصاندہ بات ہوسکتی ہے۔دوسری جانب باغی امیدوار کانگریس کیلئے سردرد ثابت ہوئے کیونکہ کئی سالوں سے پارٹی کیلئے کام کرنے والے کارکنوں کونظرانداز کرتے ہوئے نئے چہروں کو ٹکٹ دیکر انتخابات میں حصہ لینے کاموقع دیاتھا وہ پرانے کارکنوں کیلئے ناقابل قبول بات رہی اور ان میں سے کئی کارکنان آزادامیدوارکے طورپر یا پھر باغی امیدواروں کے طو رپر انتخابات میں حصہ لینے پہنچے،جسکا خمیازہ سیدھے کانگریس پارٹی کو اٹھاناپڑا۔
