شیموگہ: زرعی مصنوعات کی منافع بخش قیمت کا اعلان کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئےبھارتیہ کسان سنگھا کی ضلعی شاخ کی جانب سے آج ڈپٹی کمشنر دفتر کے روبرو دھرنہ اورستیہ گرہ کیا گیا اور ضلع انتظامیہ کے ذریعہ وزیر اعظم کو یادداشت پیش کی گئی ہے۔ احتجاجیوں نے الزام لگایا کہ آج زرعی پیشہ زوال کا شکار ہے۔ کسانوں کو انکی محنت کے مواقف قیمت نہیں مل رہی۔ قدرتی آفات سےکسان بڑے پیمانے پر نقصان اٹھارہے ہیں۔کئی طرح کی پریشانیوں میں گھرے ہوئے پریشان کسان خودکشی کے راستے پرچل پڑے ہیں ۔انہوں نے بتایا کہ 1990 سے اب تک 3.5 لاکھ کسانوں نے خودکشی کی ہے۔ مختلف شعبوں کے صنعتکار اپنی تیار شدہ مصنوعات پرخود ہی قیمت مقرر کرتے ہیں۔ لیکن اکیلے کسان کیلئے ہی ایسا ممکن نہیںہے۔کسانوں نے غیر اطمینانی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ کسانوں کی اگائی ہوئی فصلوںکی قیمت کوئی دوسرا مقرر کرتا ہے شاید اسی صورتحال کی وجہ سے آج زرعی پیشہ زوال کا شکار ہے۔ اس نظام کو درست کرنے کی ضرورت ہےاور کسان کواپنی فصلوں پر خود ہی قیمت طئےکرنی چاہئے ۔ حکومت کی جانب سے معقول امدادی قیمت کا اعلان کرنا کافی نہیں ہے، منافع بخش قیمت مقرر کرنےکی ضرورت ہے۔
