شیموگہ:(انقلاب نیوزبیورو):۔ٹیکنالوجی جتنی آسان بن چکی ہے اتنی ہی مشکل بھی بن جارہی ہے۔ جی ہاں ! آج کل ہر کوئی آن لائن لین دین، کاروبار کو مزید تقویت دینے کی ترغیب دیتا ہے لیکن یہ اتنا خطرناک بھی ثابت ہوتا ہے کہ چند منٹوں میں ہی آپ کے اکائونٹ سے ایک جادو کی طرح رقم غائب کردی جاتی ہے۔ آن لائن جعلسازی کے تعلق سے حال ہی میں 2 ایسے واقعات شہر میں رونما ہوئے ہیں جن سے لاکھوں روپئے لوٹ لئے جانے کی شکایت درج کروائی گئی ہے۔ شیموگہ سی ای این تھانے میں ان دنوں درج کی گئی شکایت میں بتایا کہ تلک نگر کے ساکن 68 سالہ ڈاکٹر مہیشورپا کے ایس بی آئی کے بینک اکائونٹس کو اپ ڈیٹ کرنے کی بات کہتے ہوئے کسی نہ معلوم نے فون کرکے بتایا تھا ۔کے وائی سی اپ ڈیٹ کرنے کیلئے اس نےhttps:sbikyc.com لنک بھیجا بعدازاں اوٹی پی بھیجا،اوٹی پی نمبر کو واپس حاصل کرتے ہوئے جعلسازوں نے ڈاکٹر کے بینک اکائونٹ سے مرحلہ وار 64500 روپئے سرقہ کرنے میں کامیاب ہوچکے ہیں۔ اسی طرح کے ایک اور معاملے میں ایک سیکوریٹی گارڈ کی غفلت کی وجہ سے 49998 روپئے کھودینے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ بینک قرضہ ادا کرنے کے بعد کلیئرنس سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کی کوشش میں ایک سیکوریٹی گارڈ نے آن لائن میں بجاج فینانس کے کسٹمر کیئر نمبر کوگوگل میں تلاش کررہا تھا ، نمبر ملنے کے بعد اس نےاس نمبر فون کیا لیکن کسی نے بھی جواب نہیں دیا، بعدازاں دوبارہ اسی نمبر سے فون آیا جس میں انہوں نے بتایا کہ کلیئرنس سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کیلئے 11 روپئےفیس ادا کرنی پڑیگی۔ اس کیلئے any deskآیپ ڈائون لوڈ کرنے کا مشورہ دیا گیا۔ سیکوریٹی گارڈ موہن بہادر نے any deskکے ذریعہ اوٹی پی حاصل کرلیا۔ بعدازاں چند ہی سکینڈ میں بینک نمبر سے 49998 روپئے ڈرا ہونے کا مسیج آیا۔ڈاکٹر اورسیکوریٹی گارڈ دونوں نے اپنے نقصان کو لیکر سی ای این پولیس تھانے میں شکایت درج کروائی ہے۔
