ہر تعلق میں دارالقضاء کے قیام کی ضرورت ہے :ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی 

اسٹیٹ نیوز ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر
شکاری پورعیدگاہ میدان میں مرکزی دفتر انجمن اسلام کمیٹی و دارالقضاء شکاری پور تعلق کا سنگ بنیاد
شکاری پور(انقلاب نیوزبیورو):۔ شکاری پور کے عیدگاہ میدان میں مرکزی دفتر انجمن اسلام کمیٹی و دارالقضاء شکاری پور تعلق کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔ اس تقریب کی صدارت انجمن اسلام کمیٹی کے صدر ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی نے انجام دی۔ مجلس کا آغاز امام و خطیب جامع مسجد شکاری پور مولانا عرفان قاسمی کی تلاوت کلام پاک سے ہوا، اس کے بعد سنگ بنیاد کی کارروائی کی گئی جس میں عمائدین شہر، صدورِ مساجد، ائمہ مساجد و علمائے کرام کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔ مولانا ازہر ندوی نے دعا فرمائی پھر شیرینی تقسیم کی گئی۔صدرجلسہ ڈاکٹر حافظ کرناٹکی نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ ہر تعلق میں دارالقضاء کے قیام کی ضرورت ہے تا کہ مسلمان اپنے عائلی مسائل ان دارالقضاء کے ذریعہ حل کرسکیں۔ اس وقت جگہ جگہ دارالقضاء کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے۔ خلع اور طلاق کے مسائل کے ساتھ اور بے شمار مسائل ایسے ہیں جو دارالقضاء سے منسلک ہیں۔ مسلمان اس کی اہمیت کو سمجھیں اور اپنے مسائل دارالقضاء سے قرآن و حدیث کی روشنی میں حل کروانے کی کوشش کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئندہ ان شاء اللہ انجمن کے اس مرکزی دفتر کے سامنے پرچم کشائی کی تقریب بھی ہوگی جہاں بلا تفریق مذہب لوگ جمع ہو کر حب الوطنی کا ثبوت دینگے۔سکریٹری انجمن اسلام مقبول احمد نے اپنے خطاب میں کہا کہ آنے والے دنوں میںیہ دفترپورے شکاری پور تعلق کا محور اور مرکز ہوگا۔ لوگوں کے مسائل حل کرنے کی کوشش کی جائیگی۔ شہر کی تمام مساجد سے جڑے لوگوں کے دستاویز جمع کرکے یہاں رکھا جائیگا۔ حکومت سے وابستہ چیزیں جیسے ووٹر آئی ڈی، آدھار کارڈ، راشن کارڈ وغیرہ کی فراہمی کا نظم بھی کیا جائیگا ۔ جس کیلئے انہوں نے عوام الناس سے تعاون کی اپیل کی ۔سابق صدر انجمن یوسف علی نے حالیہ صدر ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی کے کاموں کو سراہا اور کہا کہ حافظ کرناٹکی نے قوم و ملت کی تعمیر و ترقی کا جو بیڑا اٹھایا ہے وہ قابلِ قدر بھی ہے اور لائقِ ستائش بھی۔ حافظؔ کرناٹکی نے اپنے خطاب میں آئندہ بزرگوں کے گھر اور ایمبولینس کی فراہمی کی جو بات کہی ہے وہ بہت بڑی بات ہے شکاری پور کو اس وقت ان دو چیزوں کی اشد ضرورت ہے۔ دعائیہ کلمات کے ساتھ انہوں نے اپنی بات مکمل کی۔مولانا محمد اظہر الدّین ازہر ندوی نے اپنے خطاب میں دارالقضاء کی اہمیت اور افادیت پر مختصر روشنی ڈالی اور عوام الناس کو آپس میں اتحاد و اتفاق سے رہنے کی اپیل کی۔ ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی کے کاموں اور کارناموں کو سراہتے ہوئے درازیٔ عمر کی دعادی۔ نظامت کے فرائض مولانا محمد ازہر ندوی مہتمم جامعہ مدینۃ العلوم نے انجام دیا۔اس موقع پرجعفر علی ، عبدالکریم ، حبیب اللہ ، اشرف اللہ، رحمت اللہ پٹیگار روشن ، سیدپیر ، ہچرایپااور دیگر عمائدین و معززین موجود تھے۔اسی طرح علمائے کرام میں مولانا محبوب الرّحمٰن ندوی، مولانا عبدالرّقیب، مولانا عبدالحفیظ ، مولوی اشفاق ، حافظ ریحان ، مولانا عطاء اللہ بھی حاضر تھے۔ صبغت اللہ کے شکریہ کلمات کے ساتھ تقریب اپنے اختتام کو پہنچی۔