از:۔مدثراحمد۔شیموگہ۔کرناٹک۔9986437327
کل یعنی 17 ستمبر کو وزیر اعظم نریندر مودی کی یوم پیدائش پر ملک بھر میں کورونا کی ٹیکہ اندوزی کے لئے خصوصی مہم چلائی گئی جس میں5.2 کروڑ افراد نے ٹیکہ حاصل کیا، اس پر وزیر اعظم نریندر مودی نے فخریہ انداز میں یہ کہا کہ کسی بھی ترقی یافتہ ملک میں بھی اتنے بڑے پیمانے پر کورونا کے ٹیکے نہیں لگوائے گئے ہیں جبکہ میری یوم پیدائش کے موقع پر اتنے کروڑ لوگوں نے دلچسپی دکھاتے ہوئے ٹیکے لگوائے ہیں ۔ یہ بات اور ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی ہی ملک کے ایسے وزیر اعظم ہیں جنکی یوم پیدائش سال میں دو دفعہ آتی ہے اور ان دونوں ایام میں بھگت مودی جی کا برتھ ڈ ے مناتے رہے ہیں ۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے جس طرح سے کہا ہے کہ انکی یوم پیدائش پر لوگوںنے بڑھ چڑھ کر ویکسینیش کروایا ہے یہ بات انکے لئے فخر کی ہے ۔ لیکن ہم آپ کو بتادیں کہ بھارت کے 99 فیصد لوگوں کو یہ بات ہی نہیں معلوم کہ وزیر اعظم نریند ر مودی کا یوم پیدائش 17 ستمبر کو ہے اور وہ اپنے برتھ ڈے پر ویکسین لگوارہے ہیں ۔ عام لوگوں نے تو یہ ویکسین خالص کورونا سے بچنے یا کمزور کرنے کے لئے لگوایا ہے لیکن مودی جی نے تو ویکسین مہم کو بھی اپنے نام کرتے ہوئے یہ ثابت کردیا کہ پھوپھا کے چہلم میں چاچا کا ولیمہ کیا جارہاہے ۔ ایک طرف مودی جی اپنے برتھ ڈے کو ویکسین ڈے کے طور پر منارہے ہیں تو دوسری طرف ملک بھی میں لوگوں نے انکی یوم پیدائش کو یوم بے روزگار یعنی ان ایمپلائمنٹ ڈے کے طورپر مناتے ہوئے احتجاج کرتے رہے ، دراصل وزیر اعظم مودی کو اگر واقعی میں کچھ کرنا تھا تو وہ 5.2 کروڑ لوگوں کو ویکسین لگوانے کے بجائے کم از کم 50 لاکھ بے روزگاروں کو روزگار کے مواقع ہی فراہم کرتے ، لیکن نہیں ۔ مودی جی اس وقت کام کے موڈ میں نہیں ہیں وہ برتھ ڈے کے موڈ میں ہیں جسکی وجہ سے وہ ہر سرکاری مشن کو بھی اپنے نام سے جوڑنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں ۔ بھارت میں بے روزگاری کی شرح مسلسل بڑھتی ہی جارہی ہے ۔ بڑے بڑے کارخانے بند ہورہے ہیں ، گورنمنٹ سیکٹرز کو پرائیویٹ سیکٹر میں تبدیل کیا جارہاہے یاپھر پرائیویٹ کمپنیوں کے ماتحت کردیا جارہاہے ، بھارت کے اہم کاروباری شعبے مثلاََ ریل ، ہوائی اڈے ، گیس لائن، پٹرولیم کی کمپنیاں ، ٹیلی کام سیکٹر ، آئی ٹی سیکٹر کو گروی رکھا جارہاہے اور دیش چلانے کے لئے نئے وسائل پیدا کرنے کے بجائے اس شرابی شوہر کی مانند دیش کی قیمتی چیزوںکو بیچا جارہاہے جو شراب پینے کے لئے اپنی بیوی کے زیورات ، کبھی گھر کا سامان یا پھر پڑوسیوں کا کباڈ بیچ دیتاہے ۔ مودی جی کو شاید معلوم نہیں کہ دیش کی جنتا نے انکی محبت میں ویکسین لینے نہیں لی بلکہ اپنی جان بچانے یا پھر افسروں کی حراسانی کی وجہ سے ویکسین لیا ہے ، جس طرح سے بات بات پر دھمکیاں دے کر ویکسین دیا جارہاہے ان دھمکیوں سے بچنے کے لئے لوگوں نے ویکسین لیاہے ورنہ سب جانتے ہیں کہ ویکسین کیاہے ، کیسے کام کررہاہے ، کیااثرات ہیں اور کتنا فائدہ اس ویکسین سے ہورہاہے ۔ دراصل جس طرح سے مودی جی اکیلے ریڈیو پر بیٹھ کر من کی بات کرتے ہیں اسی طرح سے اپنے برتھ ڈے کے موقع پر لوگوں کو گمراہ کرکے ویکسین دلواکر اپنی پاپولاریٹی بڑھانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں ۔دیش کی جنتا تو اب یہی کہہ رہی ہے کہ بے روزگاری سے کورونا ہی بہتر ہے جو مرنے کے بعد کم از کم گھر والوں کو ایک لاکھ روپئے تو دلوارہاہےورنہ بے روزگار مرنے پر طعنوں کے علاوہ کچھ نہیں مل رہاہے ۔ اگر دینا ہی ہو تو روزگار دو ۔ ویکسین نہیں ۔ !!
