بنگلور:(پریس ریلیز):۔ زراعت کے تین نئے قوانین منسوخ کرنے، بجلی کی نجکاری بند کرنے، رسوئی گیس اور ایندھن کی قیمتوں میں کمی کا مطالبہ کرتے ہوئے 27 ستمبر کو بھارت بند کیلئے ویلفیئر پارٹی آف انڈیا کےریاستی صدر طاہر حسین نے حمایت کا اعلان کیاہے ۔ انہوں نے اس سلسلے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ دھرنے پر بیٹھے کسانوں سے مرکزی حکومت 12 مرتبہ ملاقات کر چکی ہے لیکن کوئی تسلی بخش نتیجہ نہیں نکلا ہےجو صرف یہ ڈرامائی لگتا ہے۔ حکومت عوام کو پوری طرح بھول چکی ہے اور کمپنیوں کی حکومت کی طرح برتاؤ کرنے کا الزام لگایا۔انہوں نے کہا کہ لوک سبھا انتخابات 2022 تک کسانوں کی آمدنی کو دوگنا کرنے کے کاوعدہ کیا گیا تھا لیکن بجائے اسکے بغیرکسی منصوبے کے نفاذ کے کسانوں کی پیداواری لاگت میں اضافہ کیا گیا ہے۔ زراعت کیلئے ضروری آلات واشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہواہے۔ امبانی ، اڈانی جیسے امیروں کی کٹھ پتلی کے طور پرکام کررہی حکومت ، ملک کو نجی شعبے کو بیچنے پر گامزن ہے۔ اگر ہم نےخبردار نہ کیا تو کارپوریٹ کمپنی کے مالکان کسانوں کی پیداوار کی قیمت طئے کریں گےکہتے ہوئے غیر اطمینانی کا اظہار کیا۔مزید کہا کہ ڈیزل ، پٹرول اور گیس سلنڈر سمیت ضروری اشیائے کی قیمتوں میں اضافہ کر کے عوام پر مہنگائی کا بہت بڑا بوجھ ڈال دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومتوں کے کسان مخالف رویے کی مذمت میں سینکڑوں کسان ، عوام کے حمایتی افراد، مزدور ، دلت اور تجارتی تنظیموں نے بند کی حمایت کی ہے، اسی طرح ویلفیئر پارٹی آف انڈیا بھی کسانوں کی اس تحریک میں بھرپور تعاون کریگی اوربند کا اہتمام کیا جائیگا۔ اس طرح تمام طبقات سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ بندکیلئے تعاون کریں۔
