پی ایم کیئرز فنڈ پر مرکز یا ریاستوں کا کوئی کنٹرول نہیں ; آر ٹی آئی کے تحت عوامی اتھارٹی بھی نہیں، پی ایم اوکا دہلی ہائی کور ٹ میں جواب

سلائیڈر نیشنل نیوز
دہلی(نیوز ایجنسی):۔پی ایم کیئرزفنڈکے حوالے سے پی ایم اونے دہلی ہائی کورٹ میں کہاہے کہ مرکزی حکومت یا ریاستی حکومت کا کوئی کنٹرول نہیں ہے۔ پی ایم اوکے حلف نامے میں کہا گیا ہے کہ یہ فنڈ حکومت ہندسے نہیں بلکہ چیریٹیبل ٹرسٹ سے وابستہ ہے۔ اس فنڈ میں آنے والی رقم حکومت ہندکے جمع فنڈمیں نہیں جاتی۔این ڈی ٹی وی کے مطابق وزیر اعظم آفس (پی ایم او)نے کہا ہے کہ پی ایم کیئرز فنڈ کو نہ تو پبلک اتھارٹی کے طور پر رائٹ ٹو انفارمیشن (آر ٹی آئی) ایکٹ کے دائرہ کار میں لایا جا سکتا ہے اور نہ ہی اسے ریاست کے طور پر درج کیا جا سکتا ہے۔ دراصل وکیل سمیک گنگوال نے اس فنڈ کے حوالے سے دہلی ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی ہے۔ مطالبہ کیاہے کہ پی ایم کیئرز فنڈ کو ریاستی قرار دیا جائے اور اسے شفافیت کو برقرار رکھنے کے لیے آر ٹی آئی کے دائرہ کار میں لایا جائے۔اس درخواست پرپی ایم اوکے انڈر سیکریٹری پردیپ شریواستو نے عدالت کو فنڈ کے بارے میں بتایاہے کہ ٹرسٹ مکمل شفافیت کے ساتھ کام کرتا ہے اور اس کے فنڈ کا آڈیٹر آڈٹ کرتا ہے۔ فنڈ میں شفافیت کو برقرار رکھنے کے لیے اس ٹرسٹ کوموصول ہونے والے فنڈز اور اس کی تمام تفصیلات سرکاری ویب سائٹ پر ڈال دی جاتی ہیں۔ درخواست کے جواب میں انہوں نے کہاہے کہ ٹرسٹ کو جو بھی عطیات ملتے ہیں ، وہ آن لائن وصول کیے گئے ہیں ، چیک یا ڈیمانڈ ڈرافٹ کے ذریعے ملے ہیں۔ ٹرسٹ اپنی ویب سائٹ پر اس فنڈ کے تمام اخراجات کی تفصیلات اپ ڈیٹ کرتا ہے۔سمیک گنگوال کی جانب سے دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ پی ایم کیئرز فنڈ کو وزیراعظم نے مارچ 2020 میں کوویڈ 19 وبائی امراض کے تناظر میں ملک کے شہریوں کو مدد فراہم کرنے کے بڑے مقصد کے لیے تشکیل دیا تھا اور بڑے عطیات وصول کیے تھے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ دسمبر 2020 میں پی ایم کیئرزفنڈکی ویب سائٹ پر اس ٹرسٹ کے حوالے سے معلومات دی گئی تھی کہ یہ آئین یا پارلیمنٹ کے بنائے گئے کسی قانون کے تحت نہیں بنایا گیا ہے۔