شیموگہ: (انقلاب نیوزبیورو):۔شیموگہ شہر کو یوں تو علم وادب کا گہوارا کہاجاتا ہے ،یہاں پر متعدد مدارس اسلامیہ موجودہیں ،جہاں پر ہرسال سینکڑوں طلباء علم و عرفانیت کے چراغ روشن کرتے ہوئےدین اسلام کی نمائندگی کرتے رہے ہیں ، لیکن شہر کے الیاس نگر میں ایک گھر ایسا بھی ہے جسے "بیت حفاظ "کہا جائے تو غلط نہیںہوگا۔ لیاس نگر کے ساکن مولانا محمد عمران کے فرزندمحمدفیضان نے محض 9 سال کی عمر میں 6 ماہ کی مدت میں قرآن پاک کو حفظ کیا تھا۔ محمد فیضان کو دیکھتے ہوئے انکی بہن مزیہ مریم اورمحمد سیہان نے بھی قرآن پاک کو حفظ کرنے کا ارادہ ظاہر کیا اوراب ان دونوںہی بچوں نے 6 ماہ کی مختصر مدت میں قرآن پاک کو ذہین نشین کرتے ہوئے شہر میں شیموگہ واطراف کے علاقوں کمسن حفاظ کا مقام حاصل کیا ہے۔ مزیہ مریم سے روز نامہ آج کا انقلاب نے جب اس سلسلے میں گفتگو کی تو پہلے انہوں نے قرآن پاک کی آیتوں کو تجوید کے ساتھ روانی قرآن پاک کی طلاوت کی۔ انہوں نے اس موقع پر کہا کہ میں اسکول بھی پڑھتی ہوں ، اس وقت 5 ویں جماعت کی طالباء ہوں اورمجھے یہ ذوق ہمارے گھر میں ہمارے والدین کے دینی جذبے کو دیکھ کر پیدا ہوا۔ میرے والد مولانا محمد عمران اور والدہ مجاہدہ فاطمہ ہیں۔ جنہوں نے مجھے قرآن حفظ کرنے میں مکمل تعاون کیا۔ اسی طرح سے مزیہ مریم کے اورایک بھائی محمد سیہان جنہوں نے محض 6 مہینوں میں قرآن پاک کو حفظ کیا اورانکی عمر 7 سال ہے وہ بھی کہتے ہیں کہ مجھے ترغیب میرے بھائی محمد فیضان کودیکھ کر ملی جنہوں حفظ قرآن کو مختصر عرصے میں کیا تھا۔ مولانا محمد عمران کے گھر پر اس وقت جہاں تین بچے حفظ کرچکے ہیں۔ وہیں انکے یہاں دودرجن کے قریب رشتہ دار ، علماء، حفاظ، قاری ومفتی ہیں۔ مولانا عمران نے اس سلسلے میں کہا کہ قرآن کو سیکھنا اورسکھانا ہر مسلمان کیلئے فرض ہے لیکن میں نے اپنے بچوں کو قرآن پاک کا حفظ کروایا ہے یہاں میری اپنی کوشش سے زیادہ بچوں کی دلچسپی رہی ہے۔ بچوں نے خود قرآن پاک کو حفظ کرنے کا بیڑا اٹھایا تھا، جب لاک ڈائون کا اعلان کیا تھا تو میں نے اپنے بچوں ناظرہ کروانے کی پیش رفت کی لیکن جب انہوں دلچسپی دکھائی تو انہیں حفظ کروایا گیا۔ میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اللہ نے میرے بچوں کو اسکا کلام حفظ کرنے کی سعادت نصیب فرمائی ۔اب تینوں ہی حفاظ قرآن کریم کے متشابہات کی تعلیم حاصل کرنے کی پہل کرچکے ہیں۔
