از:۔مدثراحمد۔شیموگہ۔کرناٹک۔9986437327
کرناٹک میں این ای پی کو نافذ کرنے کیلئے ریاستی حکومت کی طرف سے جیسے ہی پہل کی گئی اسی رفتار کے ساتھ ریاست کے مختلف حلقوں میں کھلبلی مچ گئی ہے۔ نیشنل ایجوکیشن پالیسی نہ صرف کے نفاذ سے ملک کا تعلیمی نظام تتربتر ہونے کے خوی امکانات ہیںاوراس پالیسی سے بھارت کے غریب اور متوسط گھرانے کے بچوں کو آج نہیں تو کل نقصان اٹھانا پڑیگا۔ اس بات کو لیکر بہت ہی کم لوگ سنجیدہ نظرآرہے ہیںاور جو لوگ این ای پی کی مخالفت کررہے ہیں انکا مکمل طورپرساتھ دینے کیلئے تمام اپوزیشن جماعتیں بھی تیارنہیں ہیں۔ این ای پی سے جہاں مختلف کیٹگیری کے لوگوں کو نقصان اٹھانا پڑرہاہے،وہیں سب سے بڑا نقصان اردو والوں کو اٹھانا پڑیگا،جس کے مطابق اردو زبان کا زوال قریب ہونے لگے گا۔دراصل این ای پی میں کہاگیاہے کہ دو زبانوں کو لازمی طورپر پڑناہوگا،جس میں انگریزی کو لازمی طلباء پڑھیں گے ہی ساتھ ہی کنڑا زبان کو بطور ریاستی زبان پڑھنا ہوگا او ر تیسری زبان کے نظام کو ختم کیاجارہاہے۔اب سوال یہ ہے کہ اردو کسی بھی ریاست کی سرکاری زبان نہیں ہے،تو کس ریاست میں اردو کو پڑھایاجائیگا؟۔جب کرناٹک میں کنڑا کو لازمی قرار دیاگیا تو کرناٹک کے ایک اسکول میں زیر تعلیم چوتھی جماعت کے طالب العلم نے کرناٹکا ہائی کورٹ میں پی آئی ایل درج کرواتے ہوئے کہاکہ کنڑا کو لازمی زبان کے طور پر نہ پڑھایاجائے،نہ ہی اسے ضروری قرار دیاجائے۔اب ہم اگر کرناٹک سے باہر کہیں جاتے ہیں تو کنڑا کی اہمیت نہیں رہتی،وہیں ہمیں ہندی،سنسکرت،اسپانش جیسی زبانیں سیکھنی ہوں تو اس کیلئے مشکلات درپیش ہونگی۔اس پر عدالت نے اس سلسلے میں کرناٹکاحکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کیاہے۔یہ واقعہ اس لئے پیش کیاگیاہے کہ جب کنڑا زبان کی لازمیت کو قرار دینے کے بعد ایک معصوم بچے نے عدالت کو جانے کی ہمت جٹائی،بھلے اس کیلئے اس کے والدین ساتھ دے رہے ہوں تو ریاست بھرکےوہ اردودان کہاں چلے گئے،جنہوں نے اردو زبان کی محبت اور عقیدت میں اپنے آپ کو اہل اردو قراردیا۔مشاعروں ،جلسوں اور سمیناروں پر اردو کی بقاء کا تاثر پیش کرنے والے اہل ادب کے سامنے اردو کا گلہ گھونٹاجارہاہے تو یہ لوگ تماشہ بین کر بیٹھے ہیں۔ ہر سماجی تنظیم میں طلباء کی یونٹ بھی دکھائی دیتی ہے،لیکن کیا یہ یونٹس محض زندہ باد مردہ بادکے نعرے لگانے کیلئے مختص ہوئے ہیں؟۔این ایس یو آئی،جے ڈی ایس اسٹوڈینٹ یونٹ،ایم آئی ایم اسٹوڈینٹ یونٹ،سی ایف آئی،ایس ایس ایف،ایس آئی او جیسی تنظیمیں ہمارے پاس ہوتے ہوئے کسی بھی تنظیم کے ذریعے حکومت کے خلاف آواز اٹھانے کیلئے عدالت کادروازہ نہیں کھٹکھٹایا،بلکہ میمورنڈم اور احتجاجات پر اکتفاکیاگیا۔آخر وہ کونسی پریشانیاں ہیں جس کی وجہ سے کرناٹک میں مسلمان اردو زبان کی ترقی وبقاء کیلئے کم ازکم ایک پی آئی ایل ڈالنے کیلئے تیارنہیں ہیں۔اس سے افسوسناک بات یہ بھی ہے کہ ہمارے درمیان اب بھی درجنوں اردو پروفیسران ہیں،وظیفہ یاب پروفیسران بھی اچھی تنخواہوں کے اچھی پینشن لیکر اپنی آخری زندگی بھی مزےسے گذار رہے ہیں،لیکن جس زبان سے یہ پینشن کے حقدار بنے ہیں وہ پی آئی ایل کیلئے معمولی خرچ برداشت کرنے کیلئے بھی تیارنہیں ہورہے ہیں۔خرچ کی بات چھوڑیئے تو اگر یہ لوگ پیش رفت بھی کرتے ہیں تو ان کیلئے چندے بھی اکٹھاکئے جاسکتے ہیں۔آخر وہ کونسا نشہ ہےجسے اُمت کا بڑا طبقہ استعمال کررہاہے۔ہم ہرگز بھی اس لفظ کا استعمال نہیں کرینگے کہ قوم سورہی ہے،بلکہ ہم یہ کہیں گے کہ قوم جاگ بھی رہی ہے مگر سونے کا ناٹک کررہی ہے،ایسا نہیں ہے کہ قوم کے پاس پیسے نہیں ہیں بلکہ ان کے پروفیسروں کے بچوں کی چھوٹی موٹی شادیوں کو دیکھ لیں کہ کس طرح سے ان کے اپنے بچوں کی شادیوں کیلئے لاکھوں روپئے خرچ کرتے ہوئے اپنے آپ کو سخی و مہمان نوازکے طورپر پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔جبکہ یہی سخاوت اگر وہ قوم،زبان اور ملت کیلئے بھی صرف کرنے لگے گیں تویقیناً مسلمانوں کو یہ حالات دیکھنے نہ پڑتے۔
