شیموگہ :(انقلاب نیوزبیورو):۔ بغیر کسی بحث کےاچانک نافذ کی گئی نئی قومی تعلیمی پالیسی کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے آج ضلع این ایس یوآئی کی جانب سے زبردست احتجاج کیا گیا۔مظاہرین نے الزام لگایا کہ نئی قومی تعلیمی پالیسی کے نفاذ میںمرکزی اور ریاستی حکومت کا اقدام درست نہیں ہے۔ پورے ملک کا مستقبل تشکیل دینے والے تعلیمی نظام کو جاری کرنے سے قبل مرکزی حکومت اس بات کو ضروری نہیں سمجھا کہ اس اہم مسئلے کو پارلیمنٹ میں رکھا جائے اور اس پر بحث کی جائے۔یہ افسوس کی بات ہے کہ نئی قومی تعلیمی پالیسی کو بغیر کسی بحث کے نافذ کردی گئی ہے۔مزید الزام لگایا کہ کوویڈ وباء جیسی قومی آفت کی صورت میں اچانک اس پالیسی کو نافذ کیا گیا ہے۔ اساتذہ اور طلباء کے درمیان کسی طرح کا تبادلہ خیال کئے بغیرنافذ ہونے والی ایسی تعلیمی پالیسی کتنی مناسب ہوگی اسکے بارے میں شکوک و شبہات ہیں۔ابھی تک اس تعلیمی پالیسی میں لازمی اور مساوی تعلیم کا کوئی ذکر نہیں ہے۔اس پالیسی میں تعلیم کی تجارت، نجکاری کو اولین ترجیح دی گئی ہے۔ اتنا ہی نہیں طلباء کے ساتھ تجربات کرکے ان کے مستقبل کو برباد کرنے کی رسم شروع کی جارہی ہے۔ اس پالیسی طلباءکوغیر ضروری طور پر تین زبانیں سیکھنے کا دباؤ ڈالاجارہاہے۔ اسی طرح اس پالیسی میں طلباء کیلئے اسکالرشپ کے بارے میں بھی مناسب معلومات شامل نہیں ہیں۔غور طلب بات یہ ہے کہ نئی قومی تعلیمی پالیسی کا بغیر کسی پیشگی نفاذ کے جلدبازی میں نفاذ کرنے سے بہت سے خدشات پیدا ہوئے ہیں۔ کالجوں میں داخلے کیلئےعام داخلی امتحان منعقد کئے جائینگے۔ نجی اداروں کو ڈونیشن کے نام پر والدین کو آزادانہ طور پر لوٹنے کی کھلی اجازت مل جائےگی ۔ کالجوں میںہی پرچوں کی جانچ کا رواج اور یونیورسٹی کی ہدایت اوررہنمائی کو تسلیم نہ کرنا ، جیسےبہت سی بے قاعدگیوں کا باعث بنے گا۔مظاہرین نے صدر جمہوریہ ہند سے اپیل کی ہے کہ وہ اس نئی قومی تعلیمی پالیسی کو فوری طور پر منسوخ کردے۔اس پالیسی سے طلباء کے مستقبل کو بہت برا ثر پڑنے والاہے ۔اساتذہ اور والدین کے ساتھ بغیر کسی بحث کے منظور کی گئی ہے جو کہ طلباء کیلئےمہلک ہے۔ این ایس یو آئی نے خبردار کیا کہ اگر مرکزی حکومت نے فوری طور پراس پالیسی کو منسوخ نہیں کرتی ہے تو ملک بھر میں شدید احتجاج ہوگا۔اس موقع پر یوتھ کانگریس کے ریاستی سکریٹری چیتن کے، یوتھ کانگریس لیڈر مدھو سدھن،سٹی کانگریس اقلیتی شعبہ کے صدر محمد نہال، بالاجی، روی، دکشن بلاک صدر ونئے ، گریش وغیرہ موجودتھے۔
