شیموگہ: شیموگہ لوک سبھا حلقے کے حدود میں مرکزی حکومت کے 47 متعددمحکموں کے ذریعہ لاگو کئے جانے والے منصوبوں کو کامیابی کے ساتھ لاگو کریںاوراسکی سہولیات اہل افراد تک پہنچائیں ۔اس بات کی ہدایت رکن پارلیمان بی وائی راگھویندرا نے متعلقہ عہدیداروں کودی ہے ۔انہوں نے آج ضلع پنچایت کے عبدالنظیر صاحب میٹنگ ہال میں منعقدہ ڈسٹرکٹ لیول ڈیولپمنٹ کوآرڈینیشن اور نگرانی کمیٹی کے پیش رفت کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر رکن پارلیمان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی اسکیموںکے نفاذ میں ضلع کی ترقی اطمینان بخش ہے۔اس کے علاوہ اسکل ڈیولپمنٹ کے پروگراموں کو نافذ کرنے میں بھی ضلع سب سے آگے ہے۔ موبائل اور انٹرنیٹ کے صارفین میں دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے اور ان کی توقعات پر پورا اُترنے کیلئے نیٹ ورک کی خدمات فراہم کرنے میں بہت سی کوتاہیاں دیکھی گئی ہیں ۔ ان سے نمٹنے کیلئے نجی ٹیلی اداروںکے ساتھ مل کر موبائل ٹاور بنانے کا کام جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مسئلے کو حل کرنے کیلئے ہم نے پہلے ہی مرکزی وزیر سے مشاورت کی ہے اور امید ہے کہ جلد ہی کوئی حل نکل آئے گا۔رکن پارلیمان نے مزید کہا کہ دیہی علاقوں میں لوگوں کو سہولت فراہم کرنے اور سرکاری اسکولوں کو نیٹ ورک سروس فراہم کرنےکی ضرورت ہے ۔اس کیلئےضروری امدادکیلئے رکن پارلیمان نے اپنی ذاتی کھاتے سے 20 لاکھ کا فنڈ اور ضلع کے دیگر ایم ایل اے فنڈز کو جمع کرتے ہوئے اگلے ایک ماہ کے اندر اس کی سہولت فراہم کرنے کی یقین دہانی کی ہے۔اس کے علاوہ اس حلقے میں بہتر، معیاری اور تیز سروس فراہم کرنے کیلئے سرمایہ کاروں کو دعوت دی گئی ہے۔ اُجولاا سکیم کے تحت بجلی کے صارف کو رعایتی شرح پر بلب اور ٹیوب لائٹس کی فروخت کیلئے ٹھیکداری دیئے گئے ٹھیکیدار کی کارکردگی تسلی بخش نہیں ہے۔ منصوبے کی کامیابی کیلئے متعلقہ عہدیداروں کو فوری کارروائی کرتے ہوئے اس پرتوجہ دینے کی تاکیدکی ۔ وزیراعظم آواس اسکیم کے تحت پہلے سے منتخب کردہ مستحقین کا گھر بنانے میں تکنیکی دشواری پیش آرہی ہیں ایسی شکایت موصول ہوئی ہے اس مسئلے کی وجوہات کی نشاندہی کریں اور جلدازجلددرست کرنے کی افسران کو ہدایت دی ۔انہوں نے کہا کہ مستحقین کو بروقت گھر کی تعمیر کرنے کا موقع دینا چاہئے اسکے ساتھ ساتھ بنیادی سہولت فراہم کرناچاہئے۔نشست میں ڈپٹی کمشنر کے بی شیوکمار، ضلع پنچایت سی ای او ایم ایل ویشالی،سمیت دیشا کمیٹی کے اراکین، ضلعی سطح کے متعدد محکموں کے سینئرعہدیدار، مقامی اداروں کے پنچایت ممبران وغیرہ موجودتھے۔
