بنگلورو:۔ریاست کے کسان کھاد کی کمی کی وجہ سے پریشان ہوچکے ہیں ، لیکن حکومت ان کسانوں کی مدد کیلئے کسی بھی طرح کی پیش رفت نہیں کررہی ہے۔ اس بات کا اظہار سابق وزیر اعلیٰ سدرامیا نے کیا ہے۔ انہوں نے یہاں بات کرتے ہوئےکہاکہ بی ایس یڈورپا جس وقت ریاست کے وزیر اعلیٰ کے عہدے کو سنبھالاتھا اس وقت کھاد کامطالبہ کرنے والے کسانوں کو انہوں نے گولی بار کے ذریعہ ہلاک کروایا تھا۔ اب ریاست میں موجود بمائی حکومت دوبارہ اسی راہ پررواں دواں ہے۔ ریاست میں ڈی اے پی اورایم اوپی کھاد کی ذخیرہ اندوزی 65 سے 75 فیصد تک کم ہوئی ہے۔ موجودہ کھاد بلاک مارکیٹنگ کے ذریعہ فروخت کی جارہی ہے۔ بی جے پی حکومت کسانوں کے ان مسائل سے لاپرواہ ہوتی جارہی ہے اور خام اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ کرنے کے علاوہ ٹیکس میں بھی اضافہ کیا جارہا ہے۔ تین ماہ پہلے ہی اس تعلق سے ریاستی حکومت کو اطلاع موصول ہوئی تھی ، لیکن وہ آنکھیں بند کرکے بیٹھی ہوئی ہے۔ زرخیز وغیرزرخیز فصلوں کیلئے فوری طور پر کھاد کی ضرورت ہے۔ وزیر اعلیٰ صرف انتخابی تشہیر میں وقت صرف کررہے ہیں۔ جبکہ ریاستی وزیر برائے زراعت ڈی سی پاٹل کو تلاش کی نوبت آئی ہوئی ہے۔
