کیا عیدگاہ کرایہ کیلئے دستیاب ہے؟ احتجاجات کیلئے عیدگاہ کا استعمال ،بنتاجارہاہے نیا شیوہ،آج اوبی سی کیلئے تو کل آر ایس ایس کریگا جگہ دینے کامطالبہ!

ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر نمایاں

شیموگہ:۔شیموگہ شہرکے مرکزی عیدگاہ کی جگہ ویسے تو سال بھر مفت پارکنگ کیلئے استعمال کی جارہی ہے،لیکن اب شیموگہ مرکزی سُنی عیدگاہ کی اراضی سیاسی لیڈروں کے مفادات کیلئے استعمال ہونے لگی ہے۔پچھلی دفعہ این آر سی اور سی اےا ے کی مخالفت میں کئے جانے والے احتجاج کیلئے اس عیدگاہ میدان کا استعمال کیاگیاتھا اُسی وقت دوراندیشوں نے واضح کردیاتھاکہ آنے والے دنوں میں اس اراضی پر دوسری تنظیمیں وادارے بھی احتجاج یا جلسے منعقد کرنے کیلئے اس اراضی کو استعمال کرینگے۔جس دور اندیشی کے تحت اعتراض کیاگیاتھا وہ دوراندیشی آج سچ ہوتی دکھائی دے رہی ہے جس کے مطابق آج یعنی بروزجمعہ کےدن پسماندہ طبقات کی تنظیم کی جانب سے عیدگاہ میدان میں احتجاجی جلسہ رکھاگیاہے۔ویسے تو عیدگاہ کی اراضی کو بچانے کیلئے اب تک کوئی خاص پیش رفت نہیں ہوئی تھی،اب جبکہ اس زمین کے دستاویزات مکمل ہوچکے ہیں تو یہاں پرسیاسی احتجاجات کامرکز بنایاجارہاہے۔حالانکہ دستاویزات مکمل ہونے کے باوجود کچھ ماہ قبل سنگھ پریوارکے لوگوں نے عیدگاہ کوسرکاری املاک بتاکر اس قبضہ جمانے کی کوشش کی تھی،بعدمیں دستاویزات پیش کرنے پر انہیں خاموش جاناپڑا۔اہم سوال یہ ہے کہ آج اوبی سی تنظیم کی جانب سے احتجاج یا جلسے کیلئے اس زمین کا استعمال کیاجارہاہے توکل اور کوئی سیاسی پارٹی یہاں پر احتجاج کیلئے جگہ طلب کریگی،پھر اس عیدگاہ میں آر ایس ایس کامنچ بھی بیٹھے گا،کمارسوامی بھی آکر بیٹھیں گے،کانگریس کی ریالی بھی ہوگی،اس طرح سے کوئی نہ کوئی شخص اس عیدگاہ کو اپنے مفادات کی تکمیل کیلئےاستعمال کرنے لگے گا،بلاآخریہاں میلے،جترے،شادیاں بھی ہونے لگے گیں۔قوم کی املاک کے تحفظ اور بقاء کے دعویدارلیڈران آج خود بھی عیدگاہ کو اپنی من مانی کیلئے استعمال کررہے ہیںاور اپنے سیاسی آقائوں کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے آنکھیں بند کئے ہوئے ہیں۔سوال یہ ہے کہ کیا قوم اسی طرح سےقوم کی املاک کو دوسروں کے حوالے کرتی رہے گی،یادرہے کہ اگر آج نہیں روکاگیاتو کل سنگھ پریوار کو روکنا مشکل ہوجائیگا۔