عدالتوں میں سماعت کے طریقے پر وکلاء کی مختلف آراء: عدالت

سلائیڈر نیشنل نیوز
دہلی:۔ عدالتوں میں ڈیجیٹل سماعت جاری رکھنے پر وکلاء مختلف خیالات کا اظہار کر رہے ہیں۔ سپریم کورٹ نے یہ تبصرہ منگل کو کیا جب اتراکھنڈ ہائی کورٹ کے مقدمات کی براہ راست سماعت شروع کرنے کے فیصلے کے خلاف ایک درخواست فوری سماعت کے لیے آئی۔چیف جسٹس این وی رمن اور جسٹس سوریہ کانت کی بنچ نے کہاکہ کچھ لوگ چاہتے ہیں کہ عدالتیں کھلیں، کچھ لوگ ایسا نہیں چاہتے۔بنچ نے یہ تبصرہ وکلاء کی تنظیم ’آل انڈیا جورسٹس ایسوسی ایشن‘ کی جانب سے فوری سماعت کی درخواست پر دیا۔ایڈوکیٹ سدھارتھ آر گپتا نے کہا کہ اتراکھنڈ ہائی کورٹ نے ڈیجیٹل سماعت کو مکمل طور پر روکنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس سے وکلاء اور قانونی چارہ جوئی کرنے والوں کو تکلیف ہوگی۔اس معاملے پر وکلاء کے درمیان اختلافات کاحوالہ دیتے ہوئے بنچ نے کہا کہ وہ درخواست کو فوری سماعت کیلئے درج کرنے کے دلائل پر غور کرے گی۔اس سے قبل اتراکھنڈ ہائی کورٹ کے ایک حکم کے خلاف سپریم کورٹ میں ایک عرضی داخل کی گئی تھی۔ ہائی کورٹ نے اپنے حکم میں کہا تھا کہ کووڈ 19 وبا کی وجہ سے مارچ میں معطل ہونے والے مقدمات کی براہ راست سماعت 24 اگست سے دوبارہ شروع کی جائے گی۔ہائی کورٹ کے رجسٹرار جنرل نے اس حوالے سے 16 اگست کو نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔درخواست میں اس نوٹیفکیشن کو کالعدم قرار دینے کی درخواست کی گئی ہے، جس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ویڈیو کانفرنس کے ذریعے سماعت کی کوئی درخواست قابل غور نہیں ہوگی۔