دہلی:۔ایک طرف آسمان چھوتی مہنگائی سے عوام بہت پریشان ہیں تو دوسری طرف اگلے ماہ یعنی نومبر کی پہلی تاریخ سے ملک بھر میں کئی بڑی تبدیلیاں ہونے والی ہیں۔ ان تبدیلیوں کے بارے میں جاننا ہر ایک کے لیے بہت ضروری ہے کیونکہ اس کا براہ راست اثر آپ کی جیب اور زندگی پر پڑ سکتا ہے۔ دراصل یکم نومبر کو ہونے والی تبدیلیوں میں روزمرہ کی چیزیں شامل ہیں جیسے بینکوں میں پیسے جمع کروانے سے لے کر پیسے نکالنے، ریلوے کے ٹائم ٹیبل میں تبدیلی اور گیس سلنڈر کی بکنگ۔یکم نومبر سے آنے والے نئے اصول میں اب بینکوں کو اپنی رقم جمع کرنے اور نکالنے کے لیے چارج ادا کرنا ہوگا۔ بینک آف بڑودہ (بی او بی ) نے اس کی شروعات کی ہے۔ بی او بی کے مطابق آئندہ ماہ سے مقررہ حد سے زیادہ بینکنگ کرنے پر لوگوں سے الگ فیس وصول کی جائے گی۔ اس کے علاوہ یکم نومبر سے صارفین کو لون اکاؤنٹ کے لیے 150 روپئے ادا کرنے ہوں گے۔ نئے اصول کے مطابق سیونگ اکاؤنٹ میں تین بارپیسے جمع کروانا مفت ہوگا لیکن اگر اکاؤنٹ ہولڈر ایک ماہ کے اندر تین بار سے زیادہ رقم جمع کرتا ہے تو اسے ہر بار 40 روپئے ادا کرنے ہوں گے۔ نیز جن دھن کھاتہ داروں کو اس میں کچھ راحت ملی ہے، انہیں تین بارسے زیادہ جمع کرانے پر کوئی فیس نہیں ادا کرنی پڑے گی، اس کے بجائے انہیں نکالنے پر 100 روپئے ادا کرنے ہوں گے۔نئے مہینے کے آغاز کے ساتھ ہی ہندوستانی ریلوے پورے ملک میں ٹرینوں کے ٹائم ٹیبل میں تبدیلی کرنے جا رہا ہے۔ دراصل یہ تبدیلیاں پہلے ہی طے کر لی گئی تھیں۔ پہلے ٹائم ٹیبل یکم اکتوبر کو تبدیل ہونا تھا لیکن کسی وجہ سے اسے یکم نومبر تک ملتوی کردیا گیا۔ ٹرین کا نیا ٹائم ٹیبل اگلے ماہ کے آغاز سے نافذ ہو جائے گا۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق اس تبدیلی میں 13 ہزار مسافر ٹرینیں اور 7 ہزار مال گاڑی ٹرینیں شامل کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ ملک میں چلنے والی تقریباً 30 راجدھانی ٹرینوں کے اوقات میں تبدیلی کی جائے گی۔یکم نومبر سے گھر گھر گیس سلنڈر پہنچانے کا پورا طریقہ بدل دیا جائے گا۔ نئے اصول کے مطابق گیس بکنگ کے بعد صارفین کو ان کے رجسٹرڈ موبائل نمبر پر او ٹی پی بھیجا جائے گا۔ او ٹی پی کے بغیر کوئی بکنگ نہیں کی جائے گی۔ نیز گاہک سلنڈر بوائے کواس او ٹی پی کو بتانے کے بعد ہی سلنڈر لے سکیں گے ،واضح رہے کہ نئی سلنڈر ڈلیوری پالیسی کے تحت غلط ایڈریس اور موبائل نمبر دینے والے صارفین کی مشکلات میں اضافہ ہوسکتا ہے ، اس لیے کمپنیوں نے پہلے ہی تمام صارفین کو اپنا نام، پتہ اور موبائل نمبر اپ ڈیٹ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ تاکہ انہیں سلنڈر لینے میں کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ تاہم یہ اصول کمرشیل(ایل پی جی) سلنڈروں پر نافذنہیں ہوگا۔
