از:۔مدثراحمد۔شیموگہ۔کرناٹک۔9986437327
سوئی ہوئی قوم سے کیا خطاب ہے؟،قوم سوئی ہوئی ہے، کس سے باتیں کررہے ہیں، یہ قوم جاگنے والی نہیں ہے، آپ کی تحریروں سے کوئی فائدہ نہیں ہے ، کون آپکی تحریروں کو پڑھتا ہے۔ یہ وہ جملے ہیں جو سوشیل میڈیا پر قوم کو جگانے والی تحریروں کے بعد کچھ دانشوروں کی طرف سے کہے جارہے ہیں۔یقیناً یہ جملے کافی حدتک معنی خیز ہیں اورقوم کو ہم سوئی ہوئی قوم نہیں بلکہ سونے کا ناٹک کرنے والی قوم میں شمار کرتے ہیں۔کیونکہ سوئی ہوئی قوم صرف بُرے وقتوں میں نہیں سوتی بلکہ اچھے وقتوں میںبھی سوئی رہتی ہے۔ ویسے بھی ہماری تحریریں نہ تو پیغمبرانہ پیغام دینے والی ہوتی ہیں نہ ہی یہ بزرگوں کی حکایت ہے، نہ یہ آسمانی وحی ہوتی ہیں نہ ہی فرشتوں کے بیان کردہ الفاظ ہیں۔ بلکہ عام اور کم سمجھ قلم کاروں کی تحریریں ہیں اورہم یہ دعویٰ نہیں کرتے کہ ہماری تحریروں سے قوم مسلم میں صد فیصد حرکت ہوگی ، البتہ ہم اس بات کی کوشش میں لگے ہیں کہ ہماری تحریروں سے کہیں ایک شخص بھی عمل کرلے یا ہماری تحریروں کو لاکھوں میں دس افراد بھی پڑھ لے تو یہ ہماری محنت کا ثمرہوگا۔ آئیے آج ہم پھر بات کرتے ہیںکہ ہم کس حدتک حالات سے نمٹنے کیلئے تیار ہیں۔ اس وقت بھارت کے مختلف مقامات پر فرقہ وارانہ تشدد کی آڑ میں مسلمانوں کو حراساں کیا جارہاہے۔ مسلمانوں کو ماراجارہا ہے۔ مسلمانوں کو ذلیل وخوار کیا جارہا ہے، مسلمانوں کی عبادگاہوں، ودینی مراکز کو منہدم کیا جارہا ہے۔ اس سلسلے میں جہاں چند ایک سیاسی وملی جماعتیں احتجاجات کررہے ہیں۔ وہیں دوسری جانب ساری قوم سوئی ہوئی نظرآرہی ہے۔ البتہ حسب توقع امداد ی کام کیلئے سوئی ہوئی کچھ تنظیمیں انگڑائی لیکر بیدار ہورہی ہیںاور ایسٹی میشن کررہے ہیںکہ کتنے کا نقصان ہوا ہے اورکتنا چندہ کرناہے۔ یقیناً یہ کام کچھ علماء کی سرپرستی میں ہورہا ہے ۔ لیکن جو علماء یا قائدین ہمارے رہنمااور اکابرین مانےجاتے ہیں کیا انکا کام صرف تعمیراتی کاموں کے میستری کا ہے جو ٹوٹے ہوئے مکان، جلے ہوئے دکان،پھوٹی ہوئی مسجدیں تعمیر کرتے ہیں۔ کیا ہمارے یہاں ملی وسماجی قیادت کیلئے کوئی تنظیم بھی ہے؟کیا ہماری تنظیموں واداروں کا وجود صرف امدادی کاموں کیلئے ہے۔ کب ہمارے قائد حکومتوں سے دوٹوک بات چیت کیلئے انکے ایوانوں میں جائیںگے؟ اوران سے سوال کریںگے کب مسلمانوں پر ہورہے ظلم وستم پر روک لگائی جائیگی؟۔ کچھ قائدین تو ہماری اپنی محفلوں میں نشستوںمیں، جلسہ گاہوں میں حکومت پر برس پڑتے ہیں ، یہ تو ایسی بات ہوئی کہ آئینہ کے سامنے کھڑے ہوکرہم اپنی شکل کو دیکھ کر یا دوسرے کی شکل کو دیکھ کر گالیاں دیں یا تعریف کریں۔ اصل قیادت تو اسوقت ثابت ہوگی جب ہمارے حریف کے سامنے جاکر ہمارے حالات بیان کریں،اوراُسے سماج میں ہونے والے ظلم وستم کے تعلق سے آئینہ دکھائیں۔ آج کل سوشیل میڈیا پر اورایک ناٹک شروع ہوا ہے۔ کہتے ہیں کہ ہمارے واٹس ایپ پر ظلم کی تصویر لگاکر احتجاج کا ثبوت پیش کریں ، سوال یہ ہے کہ یہ جو ڈی پی لگائی جاتی ہے کونسے حکمران آپ کا نمبر ڈھونڈ کر دیکھیںگےاور کونسے افسران تک آپ کا ڈی پی والااحتجاج دکھائی دیگا۔ کچھ لوگ کہتےہیں کہ ظلم کی اس ویڈیو کو اتنا شیئر کریں اتنا شیئر کریں کہ ظالم کو سزاہوجائے۔ سوال یہ ہے کہ جب ویڈیو کو لائک یا شیئر کرنے سے ظالموں کو سزا ملنے لگےگی تو عدالتوں اور تھانوں کا کیا کام رہ جائےگا۔ درحقیقت مسلمانوں نے ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کے اپنے آبائی طریقے کو بھلا دیا ہےاوراگر کوئی یاد بھی کرتا ہے تو مسلمانوں کے اپنے ہی مخبری کرتے ہوئے حوصلہ مند مسلمانوں کے حوصلوں کو توڑنے کا کام کرتے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ مسلمانوں کے پاس اب بھی مشترکہ طور پر کام کرنے کا منصوبہ رائج نہیں ہوسکا۔ مسلمان اجتماعی طور پر جانوروں کی قربانی تو دے رہے ہیں، اجتماعی شادیوں کا اہتمام بھی کررہے ہیں۔ اجتماعی ختنے بھی عام ہیں۔ اجتماع بھی عام ہے لیکن عام نہیں ہیں تو وہ صرف جہد کاری اور اُمت کو بچانے کیلئے کوئی طریقہ کار ۔ ہم لکھتے ہی رہیںگے، بولتے ہی رہیںگے، کیونکہ بولنے اورلکھنے کا کام ہماراہے ۔ حضرت نوح؊ نے دین اسلام کی تبلیغ کی اور لوگوں کو اللہ کی جانب بلایا، اسی طرح سے موسیٰ ؊، عیسیٰ ؊ نے بھی دعوت دی کہ اللہ کی جانب دوڑولیکن انکی قوموں نے انکی بات نہیں مانی بلکہ انکے پیغام کو ٹھکرایا۔ اسی طرح سےپیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی بات کو بھی ماننے سے لوگ انکار کرتے رہے مگر وہ اپنے رب کی طرف سے دی جانے والی ذمہ داری کو انجام دینے کا سلسلہ نہیں روکتے رہے۔ ہم تو ان میں سے کوئی بھی نہیں ہیں اورہمارا مقام انکے پیروں کی دھول کے برابر بھی نہیں ہےتو ہم یہ امید نہیں کرتے کہ ہماری تحریروں سے پورے کا پورا انقلاب آئے لیکن اتنا تو کہیں گے کہ ہر فرد کے پاس جو صلاحیتیں ہیں ان صلاحیتوں کو لیکر دین اسلام کے تحفظ، مسلمانوں کی بقاء کیلئے کام کریں۔ کتنے مسلمان ہیں جو اپنے اپنے محلوں میں بیت المال قائم کئے ہوئے ہیں۔کتنے مسلم محلوں میں نوجوان کمیٹیاں قائم کی گئیں ہیں اورکتنے مسلم تنظیمیں مرکزی کمیٹیوں کا کردار ادا کررہے ہیں۔ اس بات کا جائزہ لیں۔ بیت المال صرف شادی بیاہ یا ختنوں کیلئے ہی قائم نہیں کیا جاتا بلکہ یہ پورے نظام کو چلانے کیلئے ایک بہترین طریقہ ہے۔ اگر مسلمان اسطرح کے فنڈس بیت المال کے نام پر ذخیرہ کرتے رہیں تو کبھی بھی، کسی بھی وقت استعمال کرسکتے ہیں۔ اس سمت میں توجہ دی۔ کم ازکم محلہ وار سطح پر نوجوانوں کو جمع کریں اور انہیں جسمانی طور پر تربیت دیں، مارشل آرٹس وورزش کرائیں، اسکے لئے محلوں کی مسجدیں ، یوتھ کلب یا اسپورٹس کلب کا نام دے کر کام شروع کریں، بہت بڑی بات نہیں ہے۔ اگر چاہ ہے تو راہ بھی مل جائیگی۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ ہم روتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہمیں مار کرچلے گئے سوال یہ ہے کہ جب وہ ماررہے تھے تو باقی کیا چوڑیاں پہن کر بیٹھے تھے۔ ہر عمل کا ردعمل ہوتا ہے اوراس وقت مسلمان ردعمل پیش کرنے کے بجائے حکمت کا ڈھنڈورا پیٹ رہے ہیں۔
