توہین رسالت ﷺکے خلاف اور تریپور ہ مسلمانوں کی تائید میں شیموگہ کے مسلمانوں کا شدید احتجاج; ٭دکانیں وکاروبار ہوئے تھے بند٭کچھ نےکاروبارکو اُوپر سے کیابنداندر سے رکھاکھلا٭علماء نے کیاا ظہارخیال

ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر نمایاں

شیموگہ:۔شیموگہ شہرکے سُنی جمعیۃ العلماء کمیٹی کی جانب سے آج پیر کو شیموگہ بند کی اپیل کی گئی تھی اور شہرمیں مسلمانوں کے جانب سے بڑے پیمانے پر یہاں کے مرکزی سُنی عیدگاہ میں احتجاجی جلسے کا اہتمام کیاگیاتھا،توہین رسالتﷺ کے خلاف آواز اٹھانے اور تریپورہ کے مسلمانوں کے تائید ی احتجاج میں ہزاروں لوگ شریک رہے اور نعرے رسالت کے نعرے بلند کرتے رہے۔آج صبح شہرکے بیشتر مسلم تجارتی مراکز بند رہے اور آٹو رکشاڈرائیوروںنے بھی سڑکوں پر اترنے سے انکارکیا۔قریب صبح11 بجے مرکزی سُنی عیدگاہ میں ہزاروں لوگوں کا مجمع رہا۔مسلمانوں نے اپنے محلوں سے عیدگاہ میدان میں جمع ہوکر گستاخ رسول وسیم رضوی کے خلاف نعرے لگائے وسیم رضوی کے خلاف نعروں سے عید گاہ میدان گو نج اٹھا ۔احتجاجیوں نے بتایاکہ یوپی شیعہ بورڈ کے سابق چیرمین وسیم رضوی نے قرآن مجید کی آیات کو حذف کی کوشش کے بعد حضرت محمد مصطفی ﷺ کی زندگی پر کتاب لکھ کر ایک نیا تنازع کھڑا کردیا ہے ۔اس کے خلاف مسلمانوں میں غم وغصہ پایاجارہا ہے ۔گستا خ رسول ﷺوسیم رضوی کے خلاف سخت قانونی کارروائی متنازعہ کتاب پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ اور تریپورہ میں مسلمانوں پر ظلم کے خلاف یہ احتجاجی مظاہرہ مرکزی ادارہ سُنی جمعیۃ العلما ء کمیٹی کی قیادت میں انجام دیاگیا۔اس موقع پرمرکزی سُنی جامع مسجد کے خطیب وامام عاقل رضا مصباحی نے خطاب کرتے ہوئے کہاوسیم رضوی کے خلاف ملک بھر میں مسلمان اور امن پسند لوگوں نے احتجاج کیا تھا لیکن اس کے خلاف قانونی کارروائی نہیں کی گئی اب اس نے ایک نیا تنازع کھڑا کیا ہے ۔اس کے خلاف بھی ملک بھر میں احتجاجی مظاہر ہ ہورہے ہیں لیکن حکومت ایسے ملک غدارلوگوں کی پشت پناہی کررہی ہے،وسیم رضوی کی شرانگیزیاں ملک کو توڑ نے کی کوشش ہے اور حکومت ایسے افراد کےخلاف کسی بھی طرح کی کارروائی کرنے کا تیارنہیں ہے،اگر یہی کام مسلمان کی جانب سے کیاجاتاتو کیا حکومتیں کارروائی نہیں کرتیں؟انہوں نے اپنی تقریر جاری رکھتے ہوئے کہاکہ ملک میں انصاف کاقتل کیاجارہا ہے ،دستو ہند کی توہین کی جارہی ہے ۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیاکہ وسیم رضوی کو فوری طور پر گرفتار کرکے سخت قانونی سزا دی جائے اور اس نے جو کتاب لکھی ہے اس کتاب کی ملک بھر میں فروخت پر مکمل پابندی عائد کی جائے ۔تریپورہ میں مسلمانوں کے خلاف یکطرفہ کارروائی کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہاکہ تریپورہ تشدد حکومت اور انتظامیہ کی ناکاموں کا نتیجہ ہے ۔اگر حکومت کی جانب سے بروقت اقدامات کئے جاتے تو اتنا نقصان نہیں ہوتا ۔انہوں نے مطالبہ کیا کے حکومت کو چاہئے کہ جن کی دکانیں اورمکانوں کا نقصان پہنچایاگیاہے انہیںمعقول معاوضہ دیاجائے اور ملزمین کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود سیکولر پارٹیاں خاموش ہیں ۔
اس موقع پر مولانا قاضی سید اشرف حسین ،مولانا مبارک حسین محسن رضوی خطیب وامام مدینہ مسجداورحافظ اعجازقادری دیگر علمائے کرام نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وسیم رضوی کے ذریعہ مسلسل مسلمانوںکے جذبا ت کو مجروح کیاجارہا ہے ۔اس نے پہلے بھی قرآن مجید کے سلسلے میں توہین آمیز بیانات دئیےہیں مگر اس پر کسی بھی طرح کی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔یہی وجہ ہے کہ اب اس نے پیغمبر اسلام ﷺکی شان میں گستاخی کی ہے ۔نرسمانند سرسوتی کے ساتھ سےیہ بات صاف طور پر واضح ہوتی ہے کہ وسیم رضوی جیسے شیطان نمافرد کوان کی حمایت حاصل ہے ۔ مسلمانوں پر ظلم اور حضور ﷺ کی شان میں گستا خی جیسے معاملات حد سے زیادہ تجاویز کرچکے ہیں،ہندوستان جمہوری ملک ہونے کے باوجود کسی نہ کسی طریقے سے مسلمانوں کا جینا دشوار کیاجارہاہےاورروزانہ کہی نہ کہی اس طرح کے معاملات سامنے آرہے ہیں،مسلمان سب کچھ برداشت کرسکتا ہے ،لیکن حضور ﷺ کی شان میں چھوٹی سے بھی گستاخی ہرگز برداشت نہیں کرسکتا۔مزید بتایاگیاہے کہ ایک منظم سازش کے تحت تریپور میں مسلمانوں کی املاک اور مسجدوں کو نقصان پہنچا یا گیا اور حکومت تماشائی بنی بیٹھی ہے۔ملک کی آزادی میں مسلمانوں نے بھی اپنا خون بہایا ہے اور ہندوستان ہمارا ملک ہے۔احتجاجیوں نے پُر زور مطالبہ کیاکہ وسیم رضوی کو سخت سے سخت سزادی جائے ۔اس موقع پر مولانا عبدالحفیظ،مولانا سہیل احمد غزالی ،مولانا بشیرالدین نوری ،مولانا غلام احمد رضا،سُنی جمعیۃ العلماءکمیٹی کےصدر عبدالستار بیگ نظامی ،سکریٹری اعجازپاشاہ ،آفتاب پرویز ،اقبال حبیب سیٹھ اور عمائدین شہر سمیت کثیر تعداد میں مسلمانوں کی شرکت رہی۔واضح ہوکہشہرمیں مسلمانوں کے ایک بڑے طبقے نے رضاکارانہ طو رپر بند کرتے ہوئے مسلم اخوت کا ثبوت دیاجبکہ کئی لوگ ہمیشہ کی طرح” میں بڑا تو بڑا”کی بات کرتے ہوئے اس بند کی تائیدمیں نہیں آئے ۔ شہرمیں بیشتر لوگوں نے آج بند کرتے ہوئے اس بات کاثبوت دیاکہ اب بھی مسلمانوں میں جذبۂ دین ہے اور وہ اُمت کیلئے قربانیاں دے سکتے ہیں۔