گلبرگہ میں افسانوی نشست کا کامیاب انعقاد; وہاب عندلیب، امجد جاوید، اکرم نقاش، و دیگر کا خطاب

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر
گلبرگہ:۔قاضی رضوان الرحمٰن صدیقی مشہود نائب صدر تنظیم اردو صحافت و ادب کے بیان کے بموجب تنظیم اردو صحافت و ادب گلبرگہ کے زیر اہتمام ممتاز شاعر اکرم نقاش کی رہائش گاہ گلبرگہ پر ایک افسانونی نشست کا انعقاد عمل میں لایا گیا۔مولانا محمد نوح قائد مسلم لیگ کی قرائت کلام پاک سے جلسہ کا آغاز ہوا۔ صدر تنظیم جناب فضل احمد تماپوری نے اس موقع پر صدر جلسہ، افسانہ نگاران اور افسانوں کے تجزیہ نگاران حضرات کاتعار ف پیش کرتے ہوئے ان کا خیر مقدم کیا۔سعودی عرب سے گلبرگہ آئے ہوئے معروف افسانہ نگارتنویر احمد تماپوری نے افسانہ مکافات عمل سنایا۔ اس افسانہ کا تجزیہ کرتے ہوئے ممتاز شاعرانجینئر اکرم نقاش نے کہا کہ اس افسانہ کا بیانیہ شفاف ہے۔ افسانہ کا موضوع خلیجی ممالک میں غیر ملکیوں کے جنسی استحصال  اور ان کے ساتھ جبر و و تشدد کے واقعات پر مشتمل  ہے۔افسانہ نہایت سیدھا سادہ ہے اور اس کی زبان تخلیقی ہونے کے علاوہ فضا افسانوی ہے۔ کسی بھی تخلیق میں قاری کی شمولیت از حد ضروری ہے۔ انھوں نے کہا کہ قاری کو افسانہ پڑھنے کے دوران غور و فکر کے مرحلے پیش آنے چاہئیں۔ انھوں نے تنویر احمد تماپوری کو ان کے افسانہ پر مبارکباد پیش کی اورزبان و بیان اور کرداروں کی تشکیل پر مزید توجہ دینے کی خواہش کی۔اس نشست کے دوسرے افسانہ نگار علیم احمد نے افسانہ نوری جام تماچی اس انداز سے سنایا کہ سامعین پر افسانہ کی ترسیل آسان تر ہوگئی۔ معروف ممتاز افسانہ نگار امجد جاوید نے نوری جام تماچی پر مفصل انداز میں تجزیہ پیش کیا۔ انھوں نے کہا کہ یہ افسانہ علیم احمد کا بہترین افسانہ ہے۔ افسانہ کی زبان اور اور اس کا اسلوب نہایت غیر معمولی ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ یہ افسانہ تین ادوار کی تاریخ کو بیان کرتا ہے۔ چونکہ حسن ابدی اور لازوال ہوتا ہے لہٰذا یہ افسانہ حسن و عشق کی داستان ہوتے ہوئے بھی تاریخ کا منظر نامہ بھی ہے۔انھوں نے کہا کہ درحقیقت اس کہانی کو افسانوی جامہ پہنا کر جناب علیم احمد نے خوب صورت تصویر کشی کی ہے۔ صدر جلسہ وہاب عندلیب ،سابق صدر کرناٹک اردو اکیڈمی نے اپنی صدارتی تقریر میں کہا کہ افسانہ اپنی ابتدا سے تا حال مختلف موڑ سے گزرتا رہا ہے اور افسانہ مقصدیت، داخلیت اور حقیقت پسندی پر اصرار کے اطراف گھومتا ہے۔ افسانہ کا خاص وصف اس کا حسن بیان ہوتا ہے۔ اس طرح کی نشستوں کی ستائش کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اس طرح کی نشستوں میں نوجوان قلم کاروں کی شمولیت سے ان کی صلاحیتوں میں  اضافہ ہوتا ہے۔ تجزیہ نگاروں نے افسانوں کی تشریح و تفہیم میں  بڑی دیانت داری سے کام لیا ہے۔ یہ دونوں تجزئے اس طرح سے پیش کئے گئے کہ ان کو سن کر سامعین کافی محظوظ ہوئے۔ اس کے علاوہ انھیں فن افسانہ نگاری کے کے مختلف پہلوؤں سے بھی واقفیت ہوئی۔اس موقع پر ڈاکٹر عبدالحمید اکبر صدر شعبہ اردو خواجہ بندہ نواز یونیورسٹی، اور منہاج مہدی نے بحث میں حصہ لیا۔ محمد افتخار اختر نے نظامت کے فرائض بحسن و خوبی انجام دیئے۔ اس اجلاس میں ریاض قاصدار، لطیف، اسد علی انصاری، سراج وجیہ، مبین ریاض، سید نئیر خورشید، شاہ نوازخان شاہین، اقکبر علاء الدین، ڈاکٹر ماجد داغی، ولی احمد، ڈاکٹر رفیق رہبر، محمد صادق علی، ریاض خطیب ، مختار احمد دکنی، راشد ریاض، صدر الدین پٹیل، ڈاکٹر اعجاز و دیگر نے شرکت کی۔ منہاج مہدی کے شکریہ پر افسانوی نشست اختتام پذیر ہوئی۔