شہر شکاری پور میں ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی کا پرتپاک استقبال اور گلشنِ زبیدہ میں منعقد کی گئی ایک شاندار اعزازی نشست; بچوں کی تمناؤں کی تکمیل نے مجھے اس مقام تک پہنچایا ہے: حافظ کرناٹکی

ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر

????????????????????????????????????

????????????????????????????????????
????????????????????????????????????

شکاری پور:۔ ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی جب ساہتیہ اکادمی دہلی کی جانب سے عطا کردہ ایوارڈ لے کر واپس اپنے گاؤں پہنچے تو صدر دروازے پر آپ کا شاندار استقبال کیا گیا جس میں علماء و ائمہ اساتذہ اور شہر کی مختلف تنظیموں کے افراد شریک تھے ۔ اس موقع پر ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی کیلئے عوام نے فخر ہند فخر کرناٹک کے نعرے لگائےاوراپنی جانب سے گلپوشی اور شال پوشی کے ذریعے اپنی اپنی خوشی اور مسرت کا اظہار کیا واضح رہے کہ ڈاکٹرحافظ کرناٹکی کو کلچر اینڈمنسٹری کی جانب سے 14 نومبر یوم اطفال کے موقع سے بال ساہتیہ پرسکار سے نوازا گیا۔ ڈاکٹر حافظ کرناٹکی کے اعزاز میں اس موقع پر گلشن زبیدہ میں ایک اعزازی نشست منعقد کی گئی جس کی صدارت حماد انور اللہ منتظم گلشن زبیدہ نے انجام دی۔ جلسے کا آغاز قاری سہیل شاہی کی تلاوت کلام پاک سے ہوا اس کے بعد ثانیہ بنت خلیل احمد نے نعتیہ اشعار گنگنائے، حافظ ناصرنے آئے ہوئے مہمانوں کا استقبال کیا۔ اسٹیج پر مقبول احمد ، عبدالکریم، حبیب اللہ،حنیف ،عبدالکریم انڈے والے، سمیع اللہ،اسلم ،انور ، مدھو ، لکشمن اورصحافی ہچرایپا،فیاض تشریف فرما تھے۔ حاضرین مجلس میں گلشن زبیدہ کا مکمل اسٹاف طلباء و طالبات، عمائدین شہر اور علمائے کرام موجود تھے پورا جلسہ گنگا جمنی تہذیب کا ثبوت دے رہا تھا اس کے بعد گلشنِ زبیدہ کے مختلف ادارہ جات نے ڈاکٹرحافظ کرناٹکی کا اعزاز کیا۔ جامعہ مدینۃ العلوم کے اساتذہ کی جانب سے مولانا اظہرالدین ازہر ندوی کا لکھا گیا منظوم و منثور تہنیت نامہ پیش کیا گیاجس کو سمیع اللہ عاقل نےسنایا، ڈاکٹر حافظ کرناٹکی نے اس موقع پر مولانا اظہر صاحب کو مبارکباد دی اور ڈھیر ساری دعاؤں سے نوازا۔ ساہتیہ اکادمی کے اعزاز یافتہ ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی نے اپنے خطاب میں کہا کہ میری اس ترقی، عروج اور خصوصاًاس ایوارڈ کے ملنے پر فضل خداوندی کے بعد میرے والدین کی عنایتیں اساتذہ کا خلوص، میرے دیرینہ رفقاء کی محبتیں اور علمائے کرام کی دعائیں شامل ہیں اورمیں ساہتیہ اکادمی کا بھی شکر گزار ہوں کہ انہوں نے ایک حساس ٹیم کے ذریعہ میری تصانیف و تالیفات کا جائزہ کروایا پھر میرے نام کو انہوں نے ایوارڈ کیلئے نامزد کیا جس کیلئے میں ان کا ممنون و مشکور ہوں۔ لکشمن نے اپنے خطاب میں کہا کہ حافظؔ کرناٹکی ایک بہترین شخصیت اور متحرک انسان ہیں یہ ہندو مسلم بھائی چارگی کے علمبردار ہیں ہم انہیں برسوں سے دیکھ رہے ہیں جو بلا تفریق مذہب رفاہی خدمات انجام دے رہے ہیں ان کی حب الوطنی کے نغموں سے میں خوب محظوظ ہوتا ہوں، مجھے ان نغموں کے مطالعے سے ان کے دیش پریم ہونے کا احساس ہوتا ہے اس موقع پر انہوں نے گیت گا کر سب کو محظوظ کیا۔شری مدھو نے بھی حافظؔ کرناٹکی کی حیات و خدمات کو سراہا اور کہا کہ ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی تعلیم یافتہ اور قائدانہ صلاحیت کے حامل ہیں۔صحافی ہچرایپا نے کہا کہ حافظؔ کرناٹکی نے یہ اعزاز بڑی محنت،جانفشانی اور جدوجہد سے حاصل کیا ہے لکھنا پڑھنا ان کی زندگی کا مشغلہ ہے میں نے انہیں بہت قریب سے دیکھا ہے وہ بڑے اچھے انسان ہیں۔ایچ کے فاؤنڈیشن کے صدر اور حافظؔ کرناٹکی کے ہمسفر فیاض احمد نے بھوبنیشور میں ہوئے جلسے کا آنکھوں دیکھا حال سنایا اور کہا کہ میں خوش نصیب ہوں کہ میں نے اپنی آنکھوں سے حافظ ؔکرناٹکی کا اعزاز دیکھا ہے۔سکریٹری انجمن اسلام جامع مسجد شکاری پور مقبول احمد نے اس موقع سے کہا کہ یہ اعزازی نشست حافظؔ کرناٹکی کا صرف استقبال ہے بہت جلد اجتماعی طور پر پورے شہر سے ان کا اعزاز کیا جائے گا کیوں کہ یہ نیشنل ایوارڈ ہے۔مہتمم جامعہ مدینۃ العلوم شکاری پور مولانا اظہر ندوی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی ایک ہمہ گیر شخصیت ہیں۔ وہ اپنی ذات میں ایک انجمن ہیں۔ کبھی کبھار ایوارڈ کو شخصیت سے پہچانا جاتا ہے ساہتیہ ایوارڈ کو ہم نے ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی سے پہچانا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈاکٹر حافظ ؔکرناٹکی نے ہندوستان کی مختلف مشہور و معروف شخصیات کی سوانح لکھ کر ایک بہترین سوانح نگار کی حیثیت سے اپنا منفرد مقام بنایا ہے فخرِ وطن کتاب اس کا ایک نمونہ ہے جسے سامنے رکھ کر ڈاکٹرحافظ کرناٹکی کو ادب اطفال کے ایوارڈ سے نوازا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ ایوارڈ بشمول گلشن زبیدہ پورے شکاری پورکا بلکہ پورے ہندوستان کا ہے ،جبکہ حافظ ؔکرناٹکی نے کہا کہ بچے ہر موقع سے بلا تکلف مجھ سے فرمائش کر کر کے نظم و نثر لکھواتے تھے انہیں معصوم بچوں کی تمناؤں کی تکمیل نے مجھے اس مقام تک پہنچایا ہے۔اس ایوارڈ نے مجھے ادب اطفال میں مزید کام کرنے کا حوصلہ بخشا ہے۔ صدارتی خطاب میں حماد انور اللہ نے کہا کہ یہ ہماری سعادت مندی ہے کہ ہم حافظؔ کرناٹکی جیسے مخلص،امانتدار،کتاب دوست اور ادب نواز شخصیت کے ادراہ میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔حافظؔ کرناٹکی کے اس ایوارڈ نے ہماری خوشیوں میں اضافہ کیا ہے ۔نظامت کے فرائض مولانا ازہر ندوی نے ادا کئے اور انہیں کی دعا پر یہ جلسہ اختتام کو پہنچا۔