دہلی؛۔جماعت اہل سنت کرناٹکااور آل انڈیاعلماء ومشائخ بورڈ کے زیراہتمام انڈیااسلامک کلچرل سنٹرلودھی روڈ،نئی دہلی میں حضرت امام نسائی کی مشہور زمانہ کتاب ’’خصائص علی‘‘ کا اردوترجمہ ’’شرح خصائص علی‘‘ (شائع کردہ: ڈاکٹرسید افضل پیرزادہ ریسرچ سنٹر،بیجاپور،کرناٹک، انڈیا) کی رسم اجراء قصیدہ بردہ شریف کی روحانی صدائوں کے درمیان علماء کرام ،اسلامی ممالک کے سفراء ومندوبین اور یونیورسٹیز کے اساتذہ، محققین ودانشوران کے ہاتھوںعمل میں آئی۔ اس پروقارتقریب میں اردو اخبارات کے صحافیوںکی ایک کثیر تعداد شریک رہی۔ پروگرام کاآغاز حضرت قاری سمیع اللہ قادری نے تلاوت کلام مجید سے ہوا ۔ حافظ سیدمحمد عریض حسینی ہاشمی نے اپنی مترنم آواز میں بارگاہ رسالت مآب ﷺ میں نعت شریف کانذرانہ پیش فرمایا۔پروفیسر سید واجد پیرزادہ نے استقبالیہ کے کلیدی خطاب میں امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ کی ’’خصائص علی‘‘ کاپس منظر اورتاریخ بیان کرتے ہوئے دور حاضر میں علامہ ظہوراحمدفیضی دامت برکاتہ کی ’’ شرح خصائص علی‘‘ کی ضرورت واہمیت پر انگریزی زبان میں شاندار گفتگوفرمائی۔آل انڈیاعلماء ومشائخ بوڑد کے بانی وصدر مولانا سیدمحمداشرف اشرفی جیلانی کچھوچھوی نے اپنے صدارتی خطاب میںکہاکہ عربی زبان کے بعد فارسی زبان میں اسلامی لٹریچر کا سب سے بڑا ذخیرہ موجود ہونے کے باوجود ابھی تک فارسی مراجع سے استفادہ کا کوئی مستحکم میکانزم تیار نہیں ہوسکاہے۔انہوںنے کہا مولاناسیدمحمدتنویرہاشمی صاحب کی ٹیم نے جوکام کرکے دکھایا ہے وہ قابل تعریف ولائق تقلیدہے۔ ان کا یہ عمل دراصل صحابہ کرام کی سنت ہے۔ کیونکہ صحابہ کرام مومن اورمنافق کے درمیان امتیاز حضرت علی علیہ السلام کے ذکر سے کیا کرتے تھے۔ حضرت علی کا کثرت ذکر کرنا درحقیقت صحابہ کرام کی سنت ہے اور حضرت نبی کریم ﷺ کے ساتھ حضرت علی کی ذات کا ذکرکرنا امت مسلمہ کے لیے نقطہ اتحاد ہے۔ انہوںنے’’ شرح خصائص مولاعلی‘‘ کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس کو مدارس اسلامیہ میں داخل نصاب کیاجانا چاہئے۔ ترکی سفیر فرات سونیل نے مولانا سیدمحمداشرف اور مولاناسیدمحمدتنویرہاشمی کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہاکہ انہوںنے ایک ایسا کارنامہ انجام دیا ہے جس کاعلمی دنیا کو صدیوں سے انتظارتھا۔ اس موقع پرہماری موجودگی بجائے خود ایک تاریخی لمحہ ہے۔ عراق کے قومی جنرل غازی الطوفی نے کہا کہ حضرت علی علم کا دروازہ ہیں لہٰذا اگرہمیں علم حاصل کرناہے تو ’’خصائص علی ‘‘ کا مطالعہ کرناہوگا جس سے ہم اپنی زندگی میں علم کی روشنی حاصل کرسکیں۔ ایرانی سفیر جناب ایچ ای ڈاکٹر علی چیغتی نے کہا کہ حضرت علی سے محبت کرنے والوں اور ان پر تصنیف کردہ کتابوں کی تعداد سب سے زیادہ ہندوستان میں پائی جاتی ہے اوریہاں تک کہ غیر مسلم بھی آپ سے محبت کرتے ہیں۔ جنرل قونصل آف انڈونیشیا مہیش سہاریا نے کہا کہ اس کتاب کے مطالعہ سے ہمیں حق اور باطل کے درمیان فرق معلوم ہوگاجس سے ہم اپنے ممالک انصاف قائم کرسکیںگے۔ مولانا سیدمحمدتنویر ہاشمی نے کہا کہ ہر دور میں خارجیت اورناصبیت نے حضرات اہل بیت اور صحابہ کرام کی نہ صرف دل آزاری کی ہے بلکہ ان کو شدید تکلیفیں بھی پہنچائی ہیں اور آج بھی یہ عمل جاری ہے۔ اس کے تدارک کے لیے کسی کارگر تدبیرکی سخت ضرورت محسوس کی جارہی تھی۔ اس لیے آل انڈیا علماء ومشائخ بورڈ اور جماعت اہل سنت کرناٹکا نے طے کیا اس زہر ہلاہل کے تریاق کے لیے ’’خصائص مولاعلی‘‘ کی اشاعت کی جائے۔ ہمیں نبی کریم ﷺ کے ساتھ مولاعلی کا علم لے کر چلنے کی ضرورت ہے۔ خصائص علی کے شارح مولانا قاری ظہور احمدفیضی ایک عظیم محقق اور مؤرخ ہیں۔ انہوںنے نہایت عرق ریزی اورتحقیق کے ساتھ 1150 ؍ صفحات پرمبنی اس کی شرح تحریر کی ہے جوکہ محبان اہل بیت کے لیے ایک عظیم تحفہ ہے۔انہوں نے کہا کہ اس کتاب کی اشاعت میں میرے برادر معظم ڈاکٹر افضل پیرزادہ مرحوم کی قربانی اورمحنت کا کلیدی رول رہاہے۔ پروفیسر اختر الواسع نے کہا کہ’’ شرح خصائص علی‘‘ ایک تاریخی کتاب ہے جواردو قارئین کے لیے بے حدمفید ثابت ہوگی۔اس کی اشاعت ہندوستان میں بہت پہلے ہونی چاہئے تھی، لیکن اب یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اس کتاب کو یونیورسٹیز کے نصاب میں داخل کرائیں جس سے طلباء حضرت علی کی حیات کو سمجھ سکیں۔ پروفیسر خواجہ اکرام الدین نے کہا کہ تراجم اور شروحات کا نہ صرف علم وفنون کی پرورش میں بڑا اہم رول رہاہے بلکہ ابلاغ وترسیل اور دعوت وتبلیغ میں بھی ان کا عظیم الشان کردار رہاہے۔ فرید نظامی نے کہا کہ شرح خصائص علی کی اشاعت موجودہ دور کی خارجیت وناصبیت کے منہ پر زوردار طمانچہ ہے۔ مولانا مقبول احمدسالک مصباحی نے کہا کہ جب بھی اہل بیت کی عزت پرحملہ ہوا اللہ تعالیٰ نے کسی نہ کسی عاشق صادق کو پیدا فرمایا جس نے دشمنان اہل بیت کا پامردی سے مقابلہ کیا۔ مفتی محمدعلی قاضی مصباحی نے نظامت کے فرائض انجام دیئے۔
