مجھے آئی ایس آئی ایس نے جان سے مارنے کی دھمکی دی:گوتم گمبھیر 

سلائیڈر نیشنل نیوز
دہلی: مشرقی دہلی سے بی جے پی رکن پارلیمنٹ اور سابق کرکٹر گوتم گمبھیرکو آئی ایس آئی ایس کشمیر سے جان سے مارنے کی دھمکی ملی ہے۔ گوتم گمبھیر نے دہلی پولیس سے رابطہ کیا ہے اور الزام لگایا ہے کہ انہیں ’آئی ایس آئی ایس کشمیر‘ سے جان سے مارنے کی دھمکی ملی ہے۔ ڈی سی پی سینٹرل شویتا چوہان نے بتایا کہ اس معاملے میں جانچ کی جارہی ہے۔ گوتم گمبھیر کی رہائش گاہ کے باہر سیکورٹی بڑھا دی گئی ہے۔واضح رہے کہ گوتم گمبھیر کو جان سے مارنے کی دھمکی والا ای-میل ملا ہے۔ اس ای میل کے بعد دہلی پولیس نے گوتم گمبھیر کی رہائش گاہ کے باہر سیکورٹی میں اضافہ کر دیا ہے۔ ڈی سی پی سینٹرل شویتا چوہان نے بتایا کہ دھمکی بھرا ای-میل ’آئی ایس آئی ایس کشمیر‘ سے ملا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے کی جانچ کی جارہی ہے۔ شویتا چوہان نے بتایا کہ گوتم گمبھیر نے دہلی پولیس کو اس بارے میں جانکاری دی ہے۔واضح رہے کہ گوتم گمبھیر سال 2019 کے لوک سبھا الیکشن کے ٹکٹ پر مشرقی دہلی پارلیمانی حلقہ سے الیکشن جیتے تھے۔ گوتم گمبھیر ہر موضوع پر بیباک رائے رکھنے کے لئے جانے جاتے ہیں۔ انہوں نے کئی بار دہشت گردی کے خلاف بیان دیا ہے۔ گوتم گمبھیر سال 2011 میں عالمی کپ جیتنے والی ٹیم کا حصہ رہے ہیں۔گوتم گمبھیر اپوزیشن لیڈران پر اپنی بیان بازی کو لیکر سرخیوں میں بنے رہتے ہیں۔ حال ہی میں  انہوں نے نوجوت سنگھ سدھو کو گھیرا تھا۔ گوتم گمبھیر نے نوجوت سنگھ سدھو کو پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کو اپنا ’بڑا بھائی‘ کہنے پر کہا کہ پہلے اپنے بچوں کو سرحد پر بھیجیں پھر ایسے بیان دیں۔ گوتم گمبھیر نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان 70 سالوں سے پاکستان کے ذریعہ منصوبہ بند دہشت گردی کے خلاف لڑ رہا ہے اور نوجوت سنگھ سدھو کی طرف سے ایک دہشت گرد ملک کے وزیر اعظم کو اپنا بڑا بھائی کہنا شرمناک ہے۔