دہلی :۔اپوزیشن لیڈر ملکاارجن کھڑگے نے پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر کے ایک بیان کو کسانوں کی توہین قرار دیاہے۔ انہوں نے کہاہے کہ زرعی قوانین کی واپسی کے لیے احتجاج کے دوران 700 سے زائد کسانوں کی موت ہوئی اور حکومت کے پاس کوئی ریکارڈنہیں ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیاہے کہ 50 لاکھ سے زیادہ لوگ کورونا کی وجہ سے مر چکے ہیں۔ کسان تنظیموں کا دعویٰ ہے کہ تین زرعی قوانین کو واپس لینے کے مطالبے کے لیے شروع ہونے والی تحریک میں 700 سے زائد کسان شہید ہوئے تھے۔ تاہم ابھی تک اس حوالے سے کوئی سرکاری اعداد و شمار جاری نہیں کیے گئے ہیں۔ وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر نے پارلیمنٹ میں ایک سوال کے تحریری جواب میں کہاہے کہ وزارت زراعت کے پاس دہلی میں احتجاج کے دوران کسانوں کی موت کے بارے میں کوئی سرکاری ڈیٹانہیں ہے۔
