دہلی:۔ کرناٹک میں جمعرات کوکورونا کی نئی قسم ’اومیکرون ‘ رپورٹ ہونے کے بعد اب ہندوستان بھی ان ممالک کی فہرست میں شامل ہو گیا ہے، جہاںکورونا کی نئی قسم نمودارہوئی ہے ۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے اس نئی قسم کو باعث تشویش قرار دیا ہے۔ اب مرکزی وزارت صحت نے اس سلسلے میںایک فہرست جاری کی ہے۔ حکومت نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اومیکرون سے نہ گھبرائیں۔ ہندوستان میں اومیکرون سے متاثرہ ایک مریض کی عمر 66 سال ہے، جبکہ دوسرے کی عمر 46 سال ہے۔ ان میں سے ایک جنوبی افریقہ کا شہری ہے ،جبکہ دوسرا مقامی ڈاکٹر ہے۔اومی کرون کے بارے میںکووڈ ٹاسک فورس کے ایک رکن نے کہا کہ اس وقت اس سے ویکسی نیشن، جینوم سکویسنگ اور سفری قوانین میں چوکسی کے ذریعہ نمٹا جا سکتا ہے۔ملک میں تقریباً 12 ایسے ہوائی اڈے ہیں جہاں زیادہ خطرہ والے ممالک سے پروازیں آرہی ہیں۔ یہاں سے آنے والے مسافروں کی ٹیسٹنگ لازمی طورپر کی جا رہی ہے۔وہیں دہلی اور ممبئی ہوائی اڈوں پر خطرے کی فہرست میں شامل ممالک سے آنے والے مسافروں کی اسکریننگ کے لیے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔فی الحال اس سوال کا جواب آنا باقی ہے کہ کیا کووڈ کا یہ نیا ورژن ’اومیکرون ‘ڈیلٹا کی طرح خطرناک ہے یا نہیں۔ اس وقت پوری دنیا کے سائنس دان وائرس کی نوعیت کے بارے میں اس کی صلاحیت کا تجزیہ کر رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق وائرس کے متعلق تحقیق میں ایک سے دو ہفتے لگیں گے۔ عالمی ادارہ صحت کے پاس بھی اس قسم کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں ہیں۔ اگرچہ اسے تشویش کی ایک قسم قرار دیتے ہوئے، ڈبلیو ایچ او نے کہا تھا کہ یہ پہلے کی قسم سے زیادہ متعدی اور خطرناک ہے۔خیال رہے کہکورونا وائرس کی نمودار کی جانے والی نئی قسم کو اومیکرون کانام دیا گیا ہے ۔ جو حال ہی میں 24 نومبر کو جنوبی افریقہ سے رپورٹ کیا گیا تھا۔ عالمی ادارہ صحت نے 26 نومبر کو اس بارے میں خبردار کیا تھا۔ اس نوع کی شناخت پہلے B.1.1.1.529 کے طور پر کی گئی تھی ۔کورونا کے دیگر اقسام کے مقابلے زیادہ متعدی ہونے کی وجہ سے اسے تشویش ناک قرار دیا گیا ہے۔
