موقع پرست لوگوںنے ذہنوں کو بانٹنے کا کام کیا ہے:ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی
شیموگہ:۔شیموگا ضلع کے توگرسی ملے ہیرے مٹھ میں سابق وزیر اعلیٰ ایڈیورپّا اور بہت سارے سماجی کام کرنے والے لوگوں کی ان کی بے مثال خدمات کے تناظر میں ایک نہایت شاندار اعزازی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ اس تقریب کی صدارت کے فرائض جگت گرو سدّا لنگا راجا (اجین مٹھ )نے کی۔ جلسے کی افتتاح کے بعد مٹھ کے اور دوسرے اداروں سے تعلق رکھنے والے طلباء نے رنگارنگ ثقافتی پروگرام پیش کیے۔ اور اپنے پروگراموں میں ہندوستان کی مشترکہ ثقافت اور سنسکرتی کے رنگوں سے حاضرین کے دلوں کو رنگ دیا۔ اور پریم، ایثار، اور ایکتا کی خوشبو سے مہکتی آوازوں میں یکجہتی کے گیت اس والہانہ انداز میں پیش کیے کہ ہندوستان کا بھائی چارہ لو دینے لگا۔ اس خصوصی اعزازی تقریب میں سابق وزیراعلیٰ ایڈیورپّا، ساہتیہ اکادمی انعام یافتہ شاعر و ادیب اور سماجی وبہبودی اطفال کے باب میں نمایاں خدمات انجام دینے والے اور حکومت کرناٹک کے ریاستی ایوارڈ سے سرفراز ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی، گرومورتی صدر ملناڈ ابھی رودھی شیموگہ، نائب صدر محکمۂ جنگلات ریون اپّا بنگلور، چنّاوی رپّا ضلع کو آپریٹیو بینک شیموگہ۔ شیموگہ داونگیرے زون کے ڈیری صدر شری پدھ ہیگڑے نے شرکت کی۔سابق وزیر اعلیٰ ایڈیورپّا کا شری مہانتا دیشی کیندرا سوامی نے نہایت پرتپاک انداز میں اپنے مٹھ کے سبھی ساتھیوں کے ساتھ استقبال کیا۔ اور اپنے استقبالیہ تقریر میں ان کی خدمات سے لوگوں کو واقف کرایا۔ اور کہا کہ آج یہ مٹھ جو اپنے قدموں پر کھڑا نظر آرہا ہے اور اپنی ترقی کی منزلیں سرکررہا ہے تو اس میں بھی شری ایڈیورپّا جی کا تعاون شامل ہے۔ انہوں نے اپنی حکومت کے زمانے میں اس مٹھ کا اتنا زبردست تعاون کیا کہ آج یہ مٹھ تقریباً خود کفیل ہو چکا ہے۔ ان کی استقبالیہ تقریر کے بعد شری گرومورتی، ریون اپّا، شری پدھ ہیگڑے، سن ہن منتپّا اور ایچ، ایس رگھو کا اعزاز کیا گیا۔ ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی کی سماجی خدمات کے اعتراف میں خصوصی طور پر ان سبھی مہاگروؤں نے مل کر ان کا اعزاز کیا۔سابق وزیراعلیٰ ایڈیورپّا نے اپنی مختصر تقریر میں کہا کہ یہ آپ لوگوں کی محبتیں ہیں کہ آپ نے ہر موقع پر میرا ساتھ دیا۔ مجھے اپنا قیمتی ووٹ ڈال کر ایم ایل اے چنا اور میں ریاست کرناٹک کا وزیر اعلیٰ بنا۔ میں نے زندگی میں کبھی بھی مذہبی منافرت کی سیاست نہیں کی۔ میں نے ہمیشہ سچے دل سے عوامی جذبات کا احترام کرتے ہوئے مساوات کی پاسداری کی۔ مجھے خوشی ہے کہ آپ نے میرے کاموں کو سراہا۔ میرا سیاسی سفر اسی طرح جاری رہے گا۔ اور میں انسانیت اور عوامی جذبات کا احترام کرتے ہوئے آگے بڑھتا رہوں گا۔ میرا ماننا ہے کہ انسان عہدے کی بدولت نہیںکام کی بدولت پہچانا جاتا ہے۔جگت گروشری سدّالنگا جی اجین مٹھنے کہاکہ ایڈیورپّا جی کی خدمات کا ہم سبھوں کو اعتراف ہے۔ اس مٹھ کا ایک ایک پتھر ان کے کام کی گواہی دے رہا ہے۔ ہندوستان میں بہت سارے وزیراعلیٰ ہوئے ہیں۔ اور ہوں گے۔ میں خود بہت سارے وزرائے اعلیٰ سے مل چکا ہوں لیکن ایڈیورپّا جی کی مثال بہت کم دیکھی ہے۔ انہوں نے جس طرح مندر، مسجد، گردوارا اور گرجا کا احترام کیا ہے اور سماج کے ہر طبقے اور مذہب کے لوگوں کے ساتھ جڑ کراور ان کا اعتماد حاصل کر کے کام کیا ہے وہ مثالی ہے۔ اگر میں یہ کہوں کہ اس ریاست نے ایڈیورپّا جی کے زمانے میں مثالی ترقی کی ہے اور اس مٹھ نے ان کی توجہ کے بعد اپنے استحکام کی منزلیں طے کی ہے تو بالکل غلط نہیں ہوگا۔میں تو یہ بھی کہوں گا کہ کاش ایڈیورپّا جی کو دو سال کام کرنے کا موقع مل جاتا تو وہ ریاست کو ترقی کی نئی منزلوں پر پہنچا دیتے۔ ہماری دعائیں ان کے ساتھ ہیں۔ اس کے بعد جگت گرو شری سدّا لنگا جی راجا نے ایک بار پھر اپنے ہاتھوں سے ایڈیورپّا اور ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی کی شال پوشی کی اور اپنی گفتگو جاری رکھتے ہوئے ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی کو اجین آنے کی دعوت دی۔ انہوں نے کہا کہ یہاں آنے کے بعد آپ کی خدمات کے بارے میں تفصیل سے جاننے کا موقع ملا۔ آپ نے سچ مچ ہندوستانی ثقافت اور ہندوستان کے رشتے کو باندھ کر رکھا ہے۔ ہم سب ہندوستانی ہیں۔ اور ہر قدم پر ایک دوسرے کے معاون ہیں۔ ہم سب مل جل کر کام کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ شیموگہ ضلع کے ہر طبقے اور مذہب کے لوگوں کی ترقی میں ایڈیورپّا جی نے اپنی انسانیت کا ثبوت پیش کیا ہے۔ اور انہوں نے اس ضلع کی ترقی کو مثالی بنا دیا ہے۔ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی نے نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح سے مٹھوں میں آپسی محبت کے حامل پروگراموں سے آپسی رشتہ مضبوط ہوتا ہے۔ لوگ ایک دوسرے کے دلوں کے قریب آتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ مدرسے اور مٹھ ایک دوسرے کے قریب آئیں۔ مدرسوں میں بھی مٹھوں کے دانشوروں کو بلایا جائے تا کہ افہام و تفہیم کا ماحول بنے اور موقع پرست لوگوں نے جو ذہنوں کو بانٹنے کا کام کیا ہے ان کے ارادوں پر پانی پھر سکے۔ حافظؔ کرناٹکی نے اپنی گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ جب تک ہم ایک دوسرے کو قریب سے نہیں جانیں گے تب تک موقع پرستوں کے ارادوں کو ناکام نہیں بنایا جاسکے گا۔ اس میں شبہ نہیں ہے کہ مٹھوں اور مدرسوں میں انسانیت، بھائی چارے اور مساوات کا سبق پڑھایا جاتا ہے۔ ہمیں مل جل کر اس سبق کو عام کرنا ہے۔ اور ملک عزیز کے حدود میں بسنے والے ہر طبقے اور ہر مذہب کے لوگوں سے محبت کا دم بھرنا ہے۔ ہم سبھوں کو آپسی اتحاد و اتفاق کا پرچم لہراتے ہوئے آگے بڑھنا ہے۔ ہمارا اتحاد ہی ہمارے ملک کی سربلندی کو یقینی بنائیگا۔ میں جگت گرو سدّالنگا جی اور سابق وزیراعلیٰ ایڈیورپّا جی کی روشن خیالی، انسانیت نوازی کی قدر کرتا ہوں۔ یہ تقریب شری مانتا دیشی کے شکریہ کے ساتھ اختتام کو پہونچی۔
