کینٹین میں بیٹھ کر وقت برباد کرنے سے اچھاہے کہ کورٹ روم میں بیٹھیں:سپریم کورٹ 

سلائیڈر نیشنل نیوز
دہلی:۔سپریم کورٹ کے جج جسٹس ایم آر شاہ نے نوجوان وکیلوں کو نصیحت دی کہ وہ کینٹین میں بیٹھ کر گپ شپ کرنے میں اپنا وقت برباد نہ کریں، بلکہ اپنے خالی اوقات میں وہ کورٹ روم میں بیٹھ کر یہ دیکھیں کہ ان کے سینئر وکلاء کس طرح جرح کر رہے ہیں۔ جسٹس ایم آر شاہ نے اپنے پرانے دنوں کو یاد کرتے ہوئے نوجوان وکلاء سے کہا کہ ’’جب میں وکالت کے شروعاتی دنوں میں تھا تو اکثر کورٹ روم میں بیٹھا رہتا تھا اور یہ دیکھتا تھا کہ کس طرح وکیل اپنے کیس کو رکھ رہے ہیں اور دلیلیں پیش کر رہے ہیں۔ جب بھی آپ کو وقت ملے آپ کورٹ روم میں جا کر بیٹھیے۔دراصل کئی وکلاء اکثر کینٹین میں وقت گزاری کرتے ہوئے دیکھے جاتے ہیں۔ ان میں نوجوان وکلاء کی بھی اچھی خاصی تعداد ہوتی ہے۔ ایسے وکلاء کو ہی جسٹس ایم آر شاہ نے کورٹ روم میں زیادہ وقت گزارنے کی نصیحت دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جو اس پیشہ میں اپنے کیریر کو بہتر بنانا چاہتے ہیں، انھیں چاہیے کہ اپنے سینئر وکلاء کی جرح کو دیکھیں اور ان سے سیکھیں۔جسٹس شاہ نے اس دوران کئی سینئر وکلاء کا نام بھی لیا اور نوجوان وکلاء سے کہا کہ وہ ان سینئر وکلاء سے کافی کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’’آپ ہر کسی سے کچھ نہ کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ اس بات کا خاص خیال رکھنا چاہیے کہ کورٹ روم میں آپ کبھی بھی حد سے زیادہ جوش سے کام نہ لیں۔ کیونکہ ایسا کرنے سے کورٹ کبھی کبھیہ اپنا نظریہ بھی بدل سکتا ہے۔‘‘ جسٹس شاہ کی اس بات پر وہاں موجود وکلاء نے اتفاق کا اظہار بھی کیا۔واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں روزانہ کی سماعتوں میں کئی ایسے معاملے بھی ہوتے ہیں جن میں نوجوان وکلاء کو بیٹھنے کا موقع دیا جاتا ہے۔ کورٹ روم کے اندر کی ہر بات پر نوجوان وکیل غور کرتے ہیں جس سے ان کے کیریر کو صحیح سمت و رفتار ملتی ہے۔