کانگریس،کانگریس اقلیتی شعبہ اور جے ڈی ایس خاموش، نہ احتجا ج نہ میمورنڈم نہ ہی درج ہوئی شکایت
شیموگہ:۔بی جے پی رہنماء ایشورپا نے منگلورومیں ہونےوا لے وجئے سنکلپ یاترا کےدوران اذان کے تعلق سے متنازعہ بیان دیتے ہوئے کہاکہ میں جہاں کہیں بھی جاتاہوں وہاں اس آواز سے پریشان ہورہاہوں،جلدہی یہ آواز بند کی جائیگی۔ سپریم کورٹ نے فجرکی اذان لائوڈ اسپیکرپردینے کیلئے پابندی لگائی ہے لیکن وہ دن دورنہیں جب اس آواز کو ہمیشہ کیلئے بند کردیاجائیگا۔مزید ایشورپانے کہاکہ کیا مسلمانوں کے خداکو کان سُنائی دیتےجو لائوڈ اسپیکر پر اذان دی جاتی ہے،اس سے تو ہم ہندو بہترہیں جو بغیر لائوڈ اسپیکرکے ہی اپنے بھگوان کی پوجاکرتے ہیں۔وہیں دوسری جانب سوشیل میڈیاپر ایشورپاکی سخت مذمت کی جارہی ہے ،خاص طورپر ایشورپاکے ساتھ رہنےوالےمسلم لیڈروں کو تلوے چاٹوکہتے ہوئے یہ کہاجارہاہے کہ اگر واقعی میں تلوے چاٹو مسلم لیڈران میں ہمت ہے تو وہ ایشورپاسے معافی منگوائیں۔بعض لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ یقیناً اذان سے شیطان کو تکلیف ہوتی ہے اور ایشورپا شیطان ہے تو اسے تکلیف ہوکرہی رہے گی۔وہیں ایشورپاکی گُل پوشی و شال پوشی کرنےوالے مسلم لیڈروں پر بھی تنقیدکی جارہی ہے اور کہاجارہاہے کہ ایشورپا ان لوگوں کا باپ ہے،اس لئے وہ ایشورپاکی چاپلوسی کرتے گھوم رہے ہیں۔ بات کچھ ہو ایشورپاکُتے کی دُم کی مانند ہیں، انہیں بریانی کھلائیں یاپھر گل پوشی وشال پوشی کریں یہ دُم سیدھی ہونےوالی نہیں ہے۔دوسری جانب مسلمانوں کے ووٹوں کے منتظر کانگریس اور جے ڈی ایس اس معاملے میں خاموشی اختیارکئے ہوئے ہیں،ان کی طرف سے اس تعلق سے اب تک کسی بھی طرح کی مزاحمت نہیں کی گئی ہےنہ کہیں شکایت درج کی گئی ہے اور نہ ہی کوئی احتجاج یا میمورنڈم پیش کیاگیاہے۔کانگریس اور جے ڈی ایس اس معاملے پر تبصرہ کرنانہیں چاہ رہے ہیں کیونکہ یہ لوگ اس بات سےخوف کھائے جارہے ہیں کہ کہیں ہندو ووٹ بینک پر اثر نہ پڑے۔کانگریس اور جے ڈی ایس اہم شاخیں تو دورکی بات ان پارٹیوں کے بلاک صدور،اقلیتی صدورکی طرف سے بھی کوئی کارروائی نہیں کی جارہی ہے۔
