ضرورت ہے نئے اسکولوں کی ، کام ہورہاہے اسکول بند کرنے کا ! کیا اردو سی آر پی ۔ ای سی او نہیں چاہتے ہیں اسکولوں کی بقاء ؟

ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر نمایاں
شیموگہ :۔ کورونا کےبعد جہاں والدین اپنے بچوں کی تعلیم کو لے کر پریشان تھے انکے لئے سرکاری اسکول ایک طرح سے تحفہ ثابت ہورہے ہیں اور بیشتر والدین اپنے بچوں کو خانگی اسکولوں سے ہٹاکر سرکاری اسکولوں میں داخلے دلوارہے ہیں جس کی وجہ سے سرکاری اسکولوں کا چراغ جو بجھنے والا تھا اس میں کچھ جان آئی ہے لیکن ان چراغوں کو بھی بجھانے کے لئے خود اردو اسکولوں اسکولوں کے ای سی او اور سی آر پی خاموشی کے ساتھ اساتذہ کا ساتھ دے رہےہیں اور آنے والی نسلوں کو سرکاری نوکریوں سے محروم کرنے کی ساز ش کررہے ہیں ۔ شیموگہ شہر کے سومن کوپہ سرکاری اسکول میں 220 کے قریب بچے زیر تعلیم ہیں ان میں ہائی اسکول کے طلباء کی  تعداد 40 سے زیادہ ہے اگر یہاں کے اساتذہ ، سی آر پی اور ای سی او مل کر مشترکہ طورپر یہ کوشش کرتے ہیں کہ اس اسکول میں ہائی اسکول بھی آجائے تو یقیناََ طلباء کو آسانی ہوگی کیونکہ اس علاقے میں سرکاری اسکولوں کو رخ کرنے والے اقلیتی طالبات ہیں ، یہاں پر ہائی اسکول کا آغاز کرنے سے طلباء کو سہولت ملنے کے علاوہ سرکاری ملازمت کے مواقع بھی ملیں گے ، جبکہ شہر کے بی ہیچ روڈ پر موجود سرکاری ہائی اسکول میں طلباء کی تعداد بتدریج کم ہوتی جارہی ہے اسکی اہم وجہ یہ ہے کہ اسی اسکول کے قریب مولانا آزاد ماڈل اسکول ہے جہاں پر بچے انگریز ی سیکھنے کے غرض سے رخ کررہے ہیں ۔ہونا تو یہ چاہئے تھاکہ مضافاتی علاقوں میں جاکر اساتذہ بچوں کو داخلوں کے لئے متوجہ کرواتے ، اسکے لئے بھی اردو ای سی او اور سی آرپی کے علاوہ محکمے کے اعلیٰ عہدیداران اساتذہ کو ترغیب دیتے لیکن شاید یہاں ایسا نہیں ہورہاہے۔ جائزے کے مطابق شیموگہ تعلقہ میں مزید 3 ہائی اسکولوں کو قائم کیا جاسکتاہے جس میں کمسی ، ٹیپونگر ، سومن کوپہ شامل ہیں ۔ مگر اس جانب توجہ دینے کے بجائے اردو ای سی او – سی آرپیز کس کام میں مصروف ہیں اسکا اندازہ نہیں ہورہاہے ۔ بعض سی آر پیز کا تعلق سے خود محکمے میں یہ چہ میگوئیاں ہورہی ہیں کہ وہ نامزد اردو کے لئے ہوئے ہیں اور کام کنڑا اسکولوں کے لئے کررہے ہیں اور بعض دوسرے کام و کاج میں مصروف ہیں ۔ آئینور کلسٹر کے کمسی گائوں کی اردو اسکول کا بھی برا حال ہے ، حالانکہ کمسی اور اسکے مضافاتی علاقوں کی آبادی کے لحاظ سے یہاں پر ہائی اسکول قائم کیا جاسکتاہے ، یہاں ہائی اسکول قائم کرنے کی بات تو دور ، پرائمری اسکول میں خالی ہونے والی دو پوسٹ کو پر کرنے کے لئے اقدامات اٹھائے نہیں گئے ہیں ، پانچ اساتذہ کی جگہ پر صرف 3 اساتذہ خدمات انجام دے رہی ہیں تو بقیہ 2 اساتذہ کی ذمہ داری کون نبھائے گا ؟۔ ان عہدوں کو پُر کر وانے کے لئے سفارش کرنے کی ذمہ داری اس علاقے کے سی آر پی کی ہے جو ای سی او کے ذریعے کام کرواسکتے تھے لیکن نہ تو ای سی او نے یہ کام کیا ہے نہ ہی سی آر پی نے توجہ دلائی ہے۔ اسی طرح سے لشکرمحلہ کلسٹر کے ماتحت آنے والے اردو اسکولوں کی حالت بھی زارہے ، یہاں کے چکل ، پلنگیری اور ہوسوڈی کی اردو اسکولوں میں طلباء کے داخلوں پر توجہ دی جاسکتی ہے ۔ ہوسوڈی اور پلنگیری کے سرکاری اردو اسکول بند ہونے کے دہانے پر ہیں ، یہاں کے اردو جاننے والے طلباء کنڑا سکولوں کا رخ کررہے ہیں ، اگر ان طلباء پر اساتذہ محنت کرتے ہیں تو یہ بچے کنڑا اسکولوں سے ہٹ کر اردو میڈیم میں اپنی ابتدائی تعلیم حاصل کرسکتے ہیں ۔ اسی طرح سے چکل کی لوئر پرائمری اسکول میں بھی طلباء کی معقول تعداد بڑھائی جاسکتی ہے کیونکہ یہ علاقہ اقلیتی آبادی والا علاقہ ہے ، یہاں پر بھی موجود سرکاری کنڑا سکول میں اقلیتی بچوں کی ہی تعداد بڑی ہے ۔ اگر اساتذہ ، اساتذہ تنظیموں کے سربراہان ، کارکنان فعل اور قول پر یکساں عمل کرنے لگیں گے تو اسکولوں کی حالت بہتر ہوسکتی ہے ، اپنے بچوں کو دوسروں کے یہاں بھیج کر اور دوسروں کے بچوں کو اپنے پاس تعلیم دلوانے کے لئے بلائیں گے تو اس سے فائدہ نہیں نقصان ہوگا۔ اس وقت شہر کے سی آر پی ۔ ای سی او اور اساتذہ کوبچوں کے مستقبل کی فکر بالکل دکھائی نہیں دے رہی بلکہ انکی پوسٹنگ بچانے ، ٹرانسفر لینے اور کائونسلنگ کی ہی دن رات فکر ہورہی ہے جس کا خمیازہ پھر ایک مرتبہ اردو اسکولوں کو اٹھانا پڑسکتاہے ۔ کورونا کی وجہ سے سرکاری اسکولوں کی زمین ذرخیز ہوچکی ہے اس میں بیچ بو کر اچھی فصلیں اگائی جاسکتی ہیں۔