میسورو:۔لگتاہے کرناٹک میں شرپسندوں کاناٹک عروج پر ہے،پہلےچکمگلوروکا تاریخی بابا بڈھن گری کاپہاڑ اس کے بعد ہبلی کا عیدگاہ پھر گلبرگہ کے مزارات پر سنگھ پریوارکی ذیلی تنظیمیں بجرنگ ووی ایچ پی نے قبضہ جمانے کی کوشش کی ہے۔وہیں اب نیا ناٹک یہ شروع کیا گیا ہےکہ میسورو میں حضرت ٹیپوسلطان شہیدنے ہنومان مندرتوڑکر گنجام میں جامع مسجد یعنی مسجد اعلیٰ کی بنیاد رکھی تھی،اسی تعلق سے اب وشوا ہندو پریشدنے16 ڈسمبر کو میسورومیں ہنومان مالاپہن کر اس مسجد کو ہٹانے اور یہاں مندربنانے کا منصوبہ بنایا ہے۔میسورواور منڈیا ضلع کے مختلف مقامات پر ا س کیلئے پوسٹرس اور بیانر لگا کر 16 ڈسمبر کوسری رنگاپٹن کے گنجام میں جمع ہونے کیلئے دعوت دی جارہی ہے۔ان کا دعویٰ ہے کہ سلطنت میسوروکے حکمران ٹیپوسلطان نے یہاں موجودہنومان مندرکا ہٹاکر مسجد اعلیٰ کی تعمیر کی تھی،اس مسجد کوہٹاکر مندرتعمیر کیاجائیگا۔واضح ہے کہ کرناٹک میں پچھلے چند مہینوں سے مسلسل مذہبی مقامات پر قبضہ جمانے کی کوششیں چل رہی ہیں اور بلاوجہ شرپھیلانے کی کوشش کی جارہی ہیں۔
