دہلی: چیف جسٹس این وی رمنا نے قانونی دائرے کے سبھی لیول پر خواتین کے ’انتہائی کم‘ نمائندگی کو افسوس ظاہر کیا اور وعدہ کیا کہ وہ اپنے کالیجیم ساتھیوں کے ساتھ بنچ میں 50 فیصد سے زیادہ خواتین کی نمائندگی کا مطالبہ کریں گے۔ جسٹس رمنا نے سی جے آئی ہونے کے دباؤ کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ بہن ہیما کوہلی نے فکر کے ساتھ مجھ سے پوچھا کہ کیا میں تناؤ میں ہوں، ہاں، میں تناؤ میں ہوں۔ چیف جسٹس بننا تناؤ بھرا ہوتا ہے۔ میں اس سے بچ نہیں سکتا۔ مجھے اس سے نمٹنا ہوگا۔‘سی جے آئی نے جسٹس ہیما کوہلی کے پروموٹ ہو کر سپریم کورٹ میں پہنچنے پر اُن کے اعزاز میں منعقدہ تقریب میں کہا کہ جب انہوں نے کارل مارکس کے نظرثانی شدہ اقتباس کا استعمال کرکے خواتین کو اپنے لئے زیادہ نمائندگی کی مانگ کرنے کے لئے کہا تھا، تب اُن پر ’انقلاب پیدا کرنے‘ کا الزام لگایا گیا تھا۔ انہوں نے یہاں خواتین وکیلوں کے اجلاس کو یقین دلایا کہ بنچ میں خواتین کی 50 فیصد سے زیادہ نمائندگی کی مانگ پر دھیان دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا، ’میں کالیجیم میں اپنے بھائیوں کے روبرو آپ کی مانگ کو اُٹھانے کا وعدہ کرتا ہوں۔بتادیں کہ اس سے پہلے ستمبر مہینے میں چیف جسٹس این وی رمنا نے خواتین سے اپیل کی تھی کہ وہ عدلیہ میں 50 فیصد ریزرویشن کے لئے زوردار طریقے سے مانگ کریں۔ چیف جسٹس نے اس مانگ کو اپنی پوری حمایت دیتے ہوئے کہا تھا، ’ میں نہیں چاہتا کہ آپ روئیں، بلکہ آپ کو غصے کے ساتھ چلانا ہوگا اور مانگ کرنی ہوگی کہ ہمیں 50 فیصد ریزرویشن چاہیے۔‘انہوں نے کہا کہ یہ ہزاروں سالوں کے جبر کا موضوع ہے اور خواتین کو ریزرویشن کا حق ہے۔ جسٹس رمنا نے کہا، ’یہ حق کا موضوع ہے، رحم کا نہیں۔‘ انہوں نے کہا، ‘میں ملک کے سبھی قانونی اداروں میں خواتین کے لئے ایک مقررہ فیصد ریزرویشن کی مانگ کی پرزور سفارش اور حمایت کرتا ہوں تا کہ وہ عدلیہ میں شامل ہوپائیں۔
