دہلی:۔اینٹی کورونا وائرس ویکسین کی بوسٹر خوراک کی ضرورت، وقت اور نوعیت سائنسی ترجیحات پر مبنی ہوگی۔ نیتی آیوگ کے رکن (صحت) ڈاکٹر وی کے پال نے بدھ کو یہ باتیں کہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی وزارت صحت نے پارلیمنٹ میں کہا ہے کہ بوسٹر ڈوز دینا کب شروع کرنا ہے، اس کی کتنی ضرورت ہے اور یہ کیسے ہوگی، ا ن کا فیصلہ سائنسی ترجیحات پر طے کیا جائے گا۔ حکومت اس کام میں مصروف عمل ہے۔وہیں کورونا وائرس کے نئے قسم کی شدت کے بارے میں ڈاکٹر پال نے کہا کہ ابتدائی مراحل میں کووڈ ہمیشہ ہلکی علامات کے ساتھ آتا ہے۔ ہم نئے سامنے آنے والے کیسز پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ وبا کی تیسری لہر کے امکان کے بارے میں انہوں نے کہا کہ طبی آکسیجن کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے مربوط کوششیں کی جا رہی ہیں، نیز ملک میں میڈیکل آکسیجن کی پیداوار میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔ڈاکٹر پال نے کہا کہ ہم کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہمہ و قت تیار ہیں۔ گزشتہ لہروں سے سبق لیتے ہوئے تمام ضروری انتظامات کر لیے گئے ہیں۔ آکسیجن کی دستیابی اور اس کی ترسیل کے کام کو مربوط کرنے کے لیے ایک ڈیٹا سسٹم آکسی کیئر شروع کیا گیا ہے۔ خیال رہے کہ کرونا کی نئی افریقی قسم اومیکرون کے سامنے آنے سے خوف بڑھ گیا ہے اور کووڈ ویکسین کی بوسٹر خوراک کی مانگ میں اضافہ ہوگیا ہے۔مرکزی وزارت صحت کے مطابق اس وقت ملک میں کورونا کے فعال کیسز کی تعداد 78,190 ہے جو کہ گزشتہ 575 دنوں میں سب سے کم ہے۔ وہیں اومیکرون کے 213 کیسز کی تصدیق ہو چکی ہے۔ ان میں سے دہلی میں 57، مہاراشٹر میں 54 اور تلنگانہ میں 24 کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔
