مساجد پر لائوڈ اسپیکر کو لیکر کرناٹک میں خوب چل رہاہے ناٹک;وقف بورڈ نے کہا لائوڈی اسپیکر ہیں قانونی دائرے میں،پولیس نے کہا لائوڈاسپیکر کیلئے اجازت دینے کااختیار وقف بورڈ کو نہیں

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر نمایاں
بنگلورو:۔کرناٹک میں مسجدوں پر موجودلائوڈ اسپیکر کو لیکر مسلسل تنازعات بڑھتےہی جارہے ہیں اور بنگلورو پولیس نے دوسری مرتبہ مختلف مساجد کوانتباہ کرتے ہوئے مسجدپر لگے ہوئے لائوڈ اسپیکر کو لیکر غیر قانونی قرار دیتے ہوئے فوری طورپر لائوڈ اسپیکرس کو ہٹانے کیلئے حکم دیاہے۔دریں اثناء ریاستی وقف بورڈکی طرف سے متعلقہ ضلع کے ڈپٹی کمشنرکو ریاستی وقف بورڈکے صدرکی طرف سے لکھے گئے مکتوب میں کہا گیا ہے کہ مسجدپر لگائے گئے لائوڈ اسپیکر غیر قانونی نہیں ہیں،باوجود اس کے محکمہ پولیس کے اہلکار لائوڈ اسپیکر کو ہٹانے کیلئے پیش رفت کررہے ہیں۔وقف بورڈکے ریاستی صدرنے بنگلوروکے ڈپٹی کمشنر سے درخواست کی ہے کہ وہ قانونی نظم ونسق کو بحال رکھنے کیلئے لائوڈ اسپیکر کو ہٹانے سے روکےاور پولیس کو حکم دیں کہ وہ دودبارہ اس طرح کی حرکت کو انجام نہ دیں۔ریاستی وقف بورڈنے اس موقع پر اس بات کابھی حوالہ دیاہے کہ17 مارچ2021 کو انہوں نے تمام مساجد کو اس تعلق سے بآورکرنے کے تعلق سے مکتوب بھی روانہ کیاتھا اور طئے شدہ ڈیسی بل آواز کو ہی لائوڈ اسپیکر میں طئے کریں۔مگر دوسری جانب محکمہ پولیس کا کہناہے کہ ریاستی وقف بورڈ کو اس بات کااختیارنہیں ہے کہ وہ لائوڈ اسپیکر کو استعمال کرنے کیلئے احکامات جاری کرے اور ماضی میں جو منظوری مساجد سے لی گئی ہے وہ مخصوص ایام کیلئے ہے،اب اس کیلئے قانون میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔ریاست میں مساجدپر کس کا حکم چلے گا یہ واضح نہیں ہورہاہے،ایک طرف حکومت لائوڈ اسپیکر ہٹانے کیلئے ہدایت دے رہی ہے تو وقف بورڈ لائوڈ اسپیکر لگانے کیلئے کہہ رہی ہے۔ایک طرف مساجد پر ضوابط لاگوکرنے کے اختیارات وقف بورڈ اپنے ہاتھ میں کہہ رہاہے تو دوسری طرف اوقافی اداروں پر ڈپٹی کمشنروں کو مسلط کرنے کی پیش رفت حکومت کرچکی ہے۔موجودہ حالات کو دیکھاجائے تو ا س بات سے انکارنہیں کیاجاسکتاکہ جلدہی کرناٹک میں ریاستی حکومت ناٹک کرتے ہوئے اوقافی اداروں، مسجدوں اور دیگر عبادت گاہوں پر قبضہ جمالے گی۔